உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کے بادشاہ تھے مجروح سلطانپوری

    الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کے بادشاہ تھے مجروح سلطانپوری

    الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کے بادشاہ تھے مجروح سلطانپوری

    مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام یاد مجروح سلطانپوری کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال رویندر بھون میں منعقدہ سمینار میں ملک کے ممتاز اردو دانشوروں نے شرکت کی اور مجروح سلطانپوری کی فکر وفن کے ساتھ ان کی فلمی نغمہ نگاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام یاد مجروح سلطانپوری کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال رویندر بھون میں منعقدہ سمینار میں ملک کے ممتاز اردو دانشوروں نے شرکت کی اور مجروح سلطانپوری کی فکر وفن کے ساتھ ان کی فلمی نغمہ نگاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ مجروح سلطانپوری کی شاعری فلسفہ اور حکمت سے مزین ہے اور وہ الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کے بادشاہ تھے ۔

    مجروح سلطانپوری کا شمار اردوکے ممتاز ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے ۔ مجروح سلطانپوری کا نام اسرارالحسن خان تھا ، لیکن ادبی دنیا میں وہ مجروح سلطانپوری کے نام سے مشہور ہوئے ۔ مجروح سلطانپوری کی ولادت یکم اکتوبر انیس سو انیس کو اترپردیش کے تاریخی شہر سلطانپور میں ہوئی ۔ مجروح سلطانپور نے عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس نظامی کا کورس مکمل کیا ۔ بعد از لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اور حکیم بن گئے ۔ مجروح کو طالب علمی کے زمانے سے ہی شعر گوئی کا شوق تھا ۔ ایک موقع پر جب انہوں نے سلطانپور کے ایک مشاعرہ میں غزل پیش کی اور انہیں خوب داد تحسین سے نوازا گیا ۔ یہیں سے حکمت پس منظر میں چلی گئی اور شاعری میدان عمل میں رہنما بن گئی ۔

    مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی سکریٹری نصرت مہدی کہتی ہیں کہ مجروح سلطانپوری کی شاعرانہ عظمت کو کسی ایک عہد میں قید نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی شاعری اور فکر کو دیکھتے ہوئے اکیڈمی کے  ذریعہ سال دوہزار بیس میں مجروح سلطانپوری کی صدی تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تھا ، لیکن کورونا کی وبا کے سبب صدی تقریب کا انعقاد نہیں ہو سکا تھا ۔ اب حالات سازگار ہوئے ہیں تو اکیڈمی کے ذریعہ یاد مجروح سلطانپوری کے عنوان سے سمینار کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ ممتاز ادیبوں کے ذریعہ جہاں مجروح سلطان پوری کی فکر و فن پر روشنی ڈالی گئی وہیں فلم سے ان کے خاص رشتہ پر ممتاز فلم اداکار وہدایت کار سچن پلگاؤں کر اور رومی جعفری کے ذریعہ ان کے فلمی سفر پر گفتگو کی گئی ہے ۔

    ممتاز دانشور ڈاکٹر محمد صادق کہتے ہیں کہ مجروح سلطانپوری کی شاعری کو میں دو حصوں میں تقسیم کرکے دیکھتا ہوں ۔ ایک وہ شاعری جو انہوں نے خالص ادب کے لئے کی ہے اور دوسری وہ شاعری جس میں انہوں نے فلمی کے لئے مقبول نغمے لکھے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ مجروح سلطانپوری نے فلمی دنیا میں رہتے ہوئے کبھی بھی اپنے معیار سے سمجھوتہ نہیں کیا اور یہی ان کی خاص ادا آج کے فلمی نغمہ نگاروں کے لئے سیکھنے کی ہے ۔

    ممتاز ادیب وناقد پروفیسر محمد نعمان خا ن کہتے ہیں کہ مجروح کی شاعرانہ عظمت کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی شاعری صرف ان کے عہد کے مسائل پر ہی روشنی ڈالتی ہے بلکہ آئندہ زمانے کے لئے بھی رہنمائی کرتی ہے ۔ مجروح خود بھی حکیم تھے اور ان کی شاعری فلسفہ اور حکمت سے عبارت ہے ۔ وہ الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کے بادشاہ تھے ۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: