உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا آزاد کے تعلیمی نظریات میں ہندوستان کی ترقی کاراز ہے مضمر

    مولانا آزاد کے تعلیمی نظریات میں ہندوستان کی ترقی کاراز ہے مضمر

    مولانا آزاد کے تعلیمی نظریات میں ہندوستان کی ترقی کاراز ہے مضمر

    بھوپال میں منعقدہ مختلف تقاریب میں دانشوروں نے مولانا آزاد کے افکار پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ان کے تعلیمی نظریات کی معنویت کے نفاذ کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔

    • Share this:
    بھوپال : ممتاز مجاہد آزادی مفکر، مدبر، مصلح قوم اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا آزاد کی یوم ولادت کے موقع پر بھوپال مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال میں منعقدہ مختلف تقاریب میں دانشوروں نے مولانا آزاد کے افکار پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ان کے تعلیمی نظریات کی معنویت کے نفاذ کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔ ممتاز مجاہد آزادی مولانا آزاد کی ولادت گیارہ نومبر اٹھارہ سو اٹھاسی کو مکہ مکرمہ میں ہوئی اور انتقال بائیس فروری انیس سو اٹھاون کو دہلی میں ہوا۔ محی الدین مولانا ابوالکلام آزاد نے کم عمری میں ہی اپنی تحریر اور تقریر سے اہل دانش کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔ انہوں نے الہلال اور البلاغ سے جہاں ہندوستانیوں کی ذہن سازی کی وہیں انہوں نے تحریک آزادی کے ہراول دستہ میں رہ کرجو کلیدی کردار ادا کیا وہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ مولانا آزادکی یوم ولادت کے موقع مدھیہ پردیش کانگریس کے ذریعہ بھوپال میں بھی پروگرام میں سبھی مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور مولانا آزاد کے نظریات کو ہندوستان کی ضرورت سے تعبیر کیا۔

    ممتاز دانشور روی سکسینہ کہتے ہیں کہ مولانا آزاد نے نہ صرف تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ انہوں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا جو اصول پیش کیا تھا وہ اہم ہے ۔ مولانا آزاد نے جن خطوط پر ہندوستان کی تعلیم کا خاکہ تیار کیا تھا وہی ہندوستان کی ضرورت ہے اور ابتک آزادی کے پچھہتر سالوں میں ملک نے جو ترقی کی ہے وہ ان کے تعلیمی نظریہ کا ہی فیضان ہے ۔

    ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ودود الحق صدیقی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے بھوپال ریجنل سینٹر میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ میرا تعلق اسی ادارے سے رہا ہے جو مولانا آزاد کے نام پر قائم ہے۔ مولانا آزاد ایک دور اندیش شخص کا نام تھا انہیں ملک کی آزادی کے بعد جب وزیر تعلیم بنایا گیا تو انہوں نے ان خطوط پر تعلیمی نظام کی بنیاد ڈالی جو کثر اللسان اور کثیر الادیان ملک میں سبھی کو قبول ہو اور آپ دیکھئے زمانے نے بہت ترقی کی ہے لیکن مولانا آزاد کے تعلیمی نظریات کی معنویت وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ ان کا جو سیکولر نظریہ تھا وہ ہمارے لئے مثال ہے۔ انہوں نے اپنا جو سیکولر نظریہ اور تعلیمی اصول جو ملک کو دیا ہے ، اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے ۔

    ممتاز اسکالر پروفیسر عبدالرحیم نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کثرت میں وحدت ہندوستان کی خوبی ہے اور کثرت میں وحدت کو برقرار کیسے رکھا جا سکتا ہے ، اس کا راستہ مولانا آزاد نے ہمیں اپنے تعلیمی افکار کے ذریعہ بتایا ہے اور جب ہم اپنے مذہب اور افکار کے ساتھ دوسرے کے افکار و نظریات کا خیال رکھیں گے تو ملک کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    مولانا آزاد نیشنل اردو کے بھوپال ریجنل سینٹر میں منعقدہ پروگرا م میں ممتاز ادیب اقبال مسعود نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ  مولانا بنیادی طور پر مذہبی آدمی تھے لیکن انہوں نے سرکاری اسکولوں میں سیکولر تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم کے دینے پر زور دیا تھا۔ ان کا تعلیم نظریہ سرودھرم کے نظریہ پر مبنی تھا ۔ انہوں نے نہ صرف تعلیم پر زور دیا بلکہ  انہوں نے ملک کی مختلف قوموں کی روایت اور وراثت  کے تحفظ پر بھی فوکس کیا تھا۔ انہوں نے للت کلا اکادمی، یوجی سی ، آئی آئی ٹی، این آئی ٹی اور ایم آئی ٹی جیسے ایسے اداروں کا کنسپٹ ملک کو دیا جس کی روشنی میں ملک مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ ہمیں مولانا آزادکے سرودھرم کے اصولوں کو نئی نسل میں پہچانے کی ضرورت ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: