உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹرین کے ٹریک پر کود گئے محبوب خان اور بچائی جیوتی کی جان، اوپر سے گزر گئے ریل گاڑی کے 24 ڈبے

    جب محبوب خان سے یہ پوچھا گیا کہ ایک غیر مسلم لڑکی کے لئے آپ اپنی جان خطرے میں ڈال دی تو محبوب خان نے جواب دیا کہ ہم سب ابن آدم ہیں اور سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہوتا ہے ۔میں نے ہندو یا مسلمان دیکھ کر مدد نہیں کی ہے بلکہ انسانیت کا فرض ادا کیا ہے۔

    جب محبوب خان سے یہ پوچھا گیا کہ ایک غیر مسلم لڑکی کے لئے آپ اپنی جان خطرے میں ڈال دی تو محبوب خان نے جواب دیا کہ ہم سب ابن آدم ہیں اور سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہوتا ہے ۔میں نے ہندو یا مسلمان دیکھ کر مدد نہیں کی ہے بلکہ انسانیت کا فرض ادا کیا ہے۔

    جب محبوب خان سے یہ پوچھا گیا کہ ایک غیر مسلم لڑکی کے لئے آپ اپنی جان خطرے میں ڈال دی تو محبوب خان نے جواب دیا کہ ہم سب ابن آدم ہیں اور سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہوتا ہے ۔میں نے ہندو یا مسلمان دیکھ کر مدد نہیں کی ہے بلکہ انسانیت کا فرض ادا کیا ہے۔

    • Share this:
    ملک میں سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ اپنے مفاد کے لئے نفرت کی سیاست چاہے جتنی بھی ہوا دی جائے لیکن ملک میں انسانیت کے محافظ اب بھی باقی ہے ۔ بھوپال کے محبوب خان نے اپنی ہمت سے ایسا ہی کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان کی ہمت اور حوصلہ کو جتنا سلام کیا جائے وہ کم ہے۔ بھوپال کے برکھیڑی پھاٹک کے پاس ایک غیر مسلم لڑکی جیوتی  جو اپنے ٹریک پر کھڑی مال گاڑی کو کراس کرکے جلد سے جلد پار کرنکل جانا چاہتی تھی تاکہ وہ اپنے گھر پہنچ جائے۔ لڑکی نے اپنا قدم آگے بڑھایا لیکن ٹرین چلنے کی گھبراہٹ کے سبب اس کا پیر پھسل گیا۔ محبو ب خان نے جب یہ منطر دیکھا تو ان سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر چھلانگ لگائی اور لڑکی کو پکڑکر ٹرین کی پٹریوں کے بیچ لیٹ گئے اور تب تک لیٹے رہے جب تک کی پوری مال گاڑی ان کے اوپر سے گزر نہیں گئی۔
    محبوب خان کہتے ہیں کہ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر جا رہے تھے ٹریک پر چلتے۔چلتے مال گاڑی کھڑی ہوگئی جب ٹرین کھڑی ہوگئی تو پھاٹک کے پاس کھڑے لوگوں میں سے کئی لوگ اس کے نیچے سے نکلنے لگے۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک عورت جو ٹرین کے سامنے سے ٹریک سے پار کر رہی ہے۔ ٹرین کے سٹی بجانے اور اس کے چلنے کے سبب اس کا پیر پھسل گیا اور اس کے ہاتھ بالکل ٹریک پر ہیں تو میں نے دیکھا کہ وہ عورت مصیبت میں ہے تو میں اس کی جان بچانے کے لئے کود گیا میں نے سوچا کہ انسانیت کے ناطے اسے مدد کی ضرورت ہے اور مجھے مدد کرنا ہے۔

    اس لڑکی کی جگہ میری بہن بھی ہوسکتی ہے اور میں ریلوے ٹریٹ کی دونوں پٹریوں کے بیچ لڑکی کو لیکر لیٹ گیا اور تب تک لیٹا رہا جب تک پوری مال گاڑی گزر نہیں گئی۔ اللہ کا کرم ہے کہ عورت کی جان بچ گئی اور اس ہم سے ایک انسان کو بچانے کا کام لیا ہے جب محبوب خان سے یہ پوچھا گیا کہ ایک غیر مسلم لڑکی کے لئے آپ اپنی جان خطرے میں ڈال دی تو محبوب خان نے جواب دیا کہ ہم سب ابن آدم ہیں اور سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہوتا ہے ۔میں نے ہندو یا مسلمان دیکھ کر مدد نہیں کی ہے بلکہ انسانیت کا فرض ادا کیا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: