உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقلیتی کمیشن اور وقف بورڈ کی تشکیل جلد کی جائے: ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے وفد نے کیا مطالبہ

    اقلیتی کمیشن اور وقف بورڈ کی تشکیل جلد کی جائے: ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے وفد نے کیا مطالبہ

    اقلیتی کمیشن اور وقف بورڈ کی تشکیل جلد کی جائے: ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے وفد نے کیا مطالبہ

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد نے وزیر اقلتی فلاح کو بتایا کہ گذشتہ تقریبا ایک سال سے جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی تشکیل نو کے انتظار میں ہے۔جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق گذشتہ 24/ جون 2020 کو حکومت نے 14/ افراد پر مشتمل ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل تو ضرور کی مگر غیر فعال رکھا گیا جس کا نتیجہ تھا کہ نہ چیئرمین کا انتخاب ہو سکا اور نہ ہی کمیٹی فعال بن سکی۔

    • Share this:
    رانچی۔ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا ایک نمائندہ وفد ناظم اعلی مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں اقلیتی فلاح امور کے نئے وزیر چمپئ سورین سے مل کر کہا کہ ایک لمبے عرصہ سے جھارکھنڈ میں وقف بورڈ، اقلیتی کمیشن، پندرہ نکاتی نفاذ کمیٹی اور حج کمیٹی کی مکمل تشکیل نو نہیں ہوسکی ہے جس سے اوقاف جائداد کی تعمیر و ترقی رکی ہوئی ہے۔ اسی طرح اقلیتی کمیشن خالی ہے جس کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے دکھ درد کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ پندرہ نکاتی نفاذ کمیٹی فعال نہ رہنے کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے لاکھوں غریب افراد اس کی سہولیات سے محروم ہیں۔

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد نے وزیر اقلتی فلاح کو بتایا کہ گذشتہ تقریبا ایک سال سے جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی تشکیل نو کے انتظار میں ہے۔جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق گذشتہ 24/ جون 2020 کو حکومت نے 14/ افراد پر مشتمل ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل تو ضرور کی مگر غیر فعال رکھا گیا جس کا نتیجہ تھا کہ نہ چیئرمین کا انتخاب ہو سکا اور نہ ہی کمیٹی فعال بن سکی۔ مولانا محمد قطب الدین رضوی نے کہا کہ جب ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ نے حج کمیٹی کو فعال بنانے کا دباؤ بنایا تو گذشتہ 27/ نومبر 2020 کو محکمہ اقلیتی فلاح امور نے جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جو 16/ افراد پرمشتمل کمیٹی ہے۔ اس کے تعلق سے چمپئ سورین کو وفد نے بتایا کہ محکمہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے 45 دنوں کے اندر ممبران ہی میں سے چیئرمین کا انتخاب کرنا ہے لیکن اب پندرہ دن گزر گئے اب تک آگے کی کارروائی نہیں ہوئی ہے لہذا وزیر صاحب اپنے سکریٹری سے کہیں کہ وہ معزز ممبران کی نشست طلب کر چیئرمین کا انتخاب کرائیں تاکہ عازمین حج کو سہولت مل سکے۔

    وفد کی باتوں کو وزیر اقلیتی فلاح امور چمپئ سورین نے نہایت متانت اور اطمینان سے سنا اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ امروز فردا میں وزیر اعلی ہیمنت سورین سے بات کرکے بہت جلد جھارکھنڈ اسٹیٹ اقلیتی کمیشن، پندرہ نکاتی نفاذ کمیٹی اور جھارکھنڈ اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی تشکیل کردی جائیگی۔ وزیر سے ملاقات کے بعد ناظم اعلی محمد قطب الدین رضوی نے کہاکہ جھارکھنڈ کے ایک عظیم سپوت ہردل عزیز سیاسی رہنما جناب حاجی حسین انصاری کے انتقال سے جھارکھنڈ کو جونقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیمنت حکومت کو چاہئے کہ حاجی حسین انصاری کے چھوڑے ہوے ادھورے کام اور ان کے ترقیاتی خوابوں کی تکمیل کرے۔ ناظم اعلی نے کہا کہ امروز فردا میں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا ایک نمائندہ وفد اقلیتی فلاح امور کے سیکریٹری سے بھی ملے گا اور جب تک وقف بورڈ، اقلیتی کمیشن، پندرہ ستری کی تشکیل اور مکمل فعال حج کمیٹی کی تکمیل نہیں ہوجاتی ہے تب تک ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ مہم چلاتا رہیگا اور دباؤ بھی جاری رہیگا۔

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ نے حج کمیٹی کے جملہ نو منتخب معزز ممبران سے بھی کہا ہے کہ وہ جلد ہی باہمی مشورہ سے چیئرمین کا انتخاب کریں اور تمام اضلاع میں عازمین حج کوسہولیات بہم پہونچانے کے لئے کوشاں رہیں۔ نمائندہ وفد میں ناظم اعلی قطب الدین رضوی کے ہمراہ سابق ممبر حج کمیٹی قاری محمد ایوب رضوی نائب مہتمم اسلامی مرکز، ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نائب قاضی اور جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کے متحرک وفعال ممبر  حافظ وقاری مولانا مفتی محمد فیض اللہ مصباحی، مولانامحمد نظام الدین مصباحی، مشہور سماجی کارکن جناب شحیم خان، مولانا نوشاد عالم، محمد کاشف رضا وغیرہ  شامل تھے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: