ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سالگرہ اسپیشل: مرزا غالب کے غیر مطبوعہ کلام کی بھوپال میں ہوئی تھی دریافت

غالب کی ولادت 27 دسمبر 1797 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر آگرہ میں ہوئی اور غالب نے پندرہ فروری اٹھارہ سو انہتر کو دہلی میں اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔ غٓالب نے جس پر آشوب دور میں آنکھ کھولی تھی اس میں انہوں نے حکومت مغلیہ کی عظیم سلطنت کے چراغ کو بجھتے ہوئے اور اپنی جدید فکر کے سبب انگریز قوم کے اقتدار کو نصف النہار پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

  • Share this:
سالگرہ اسپیشل: مرزا غالب کے غیر مطبوعہ کلام کی بھوپال میں ہوئی تھی دریافت
مرزا غالب کی کتابوں کی تصویر

بھوپال۔ دبیر الملک، نجم الدولہ، مرزا نوشہ اسد اللہ خاں غالبؔ اردو شاعری کے سب سے بڑے شاعروں میں سے ایک ہیں۔اٹھارہویں صدی اگر میرؔ کی صدی تھی تو بلاشہ شبہ انیسویں صدی غالبؔ  کی صدی تھی۔ غالب ؔکی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی میں ہی پنہاں نہیں ہے بلکہ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کی گہرائی میں جاکر بات کو اس سلیقے اور اس سادگی سے بیان کرتے تھے۔ پڑھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ یہ گویا وہی خیال ہے جو اس کے اپنے دل کا بیان ہے۔ اردو شعر وادب کی تاریخ کا کہیں سے بھی مطالعہ کیجئے غٓالبؔ اپنی فکر اور فن کی بدولت سب پر ہی غٓالبؔ نظرآتے ہیں۔


غالب ؔکی ولادت 27 دسمبر  1797 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر آگرہ میں ہوئی اور غالب نے پندرہ فروری اٹھارہ سو انہتر کو دہلی میں اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔ غٓالب نے جس پر آشوب دور میں آنکھ کھولی تھی اس میں انہوں نے حکومت مغلیہ  کی عظیم سلطنت کے چراغ کو بجھتے ہوئے  اور اپنی جدید فکر کے سبب انگریز قوم کے اقتدار کو نصف النہار پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔


غالب کی کتابوں کی تصویر


غالب ؔکے دادا مرزا فوقان بیگ سمر قند سے ہجرت کرکے مغل شہنشاہ محمد شاہ بہادر کے عہد میں ۱۷۴۸میں ہند ستان آئے تھے۔ مرزا کا خاندان حسب و نسب کے اعتبار سے ترک مغل تھا اور تورانی النسل ہونے کے ساتھ سمرقند میں آباد ہونے سے انہیں سمرقندی ترک بھی سمجھاجاتا تھا۔ غٓالب کے دادا مرزا فوقان بیگ ہندستان آمد کے بعد کچھ عرصہ لاہور میں قیام پزیر رہے پھر دہلی میں شاہی ملازمت اختیار کرلی۔ کچھ عرصہ بعد یہاں سے مستعفی ہوکر مہاراجہ جے پور کے پاس ملازمت قبول کرلی اور آگرہ میں سکونت اختیار کی۔1795 میں غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ  خان کا عقد آگرہ کے ایک فوجی افسر خواہ غلام حسین خان کی صاحبزادی عزت النسا بیگم سے ہوا۔ اس طرح دونوں کی نسبت سے آگرہ میں ہی ستائیس دسمبر ۱۷۹۷ کو غالب کی ولادت ہوئی۔

عام طور پر جب بھی غالبؔ اور ان کی شاعری کی بات کی جاتی ہے تو مورخین آگرہ اور دہلی کا ذکر کرتے ہیں۔ کچھ مورخین آگرہ اور دہلی کے علاوہ دوسرے شہرو ں کا ذکر کر اپنی بات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں کی غٓالب نے سیاحت کی یا بہ ضرورت دیگر غالب نے سفر کیا۔ایسے شہروں سے جن سے غٓالب کا تعلق رہا ہے ان میں میرٹھ، رامپور، باندہ، بنارس، کلکتہ،مرادآباد وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔مگر ایسے بھی بہت سے شہر ملک میں ہیں جہاں سے غالب کے شاگردوں کا قلبی رشتہ رہا ہے اور وہاں کے اہل نظر چاہتےتھے کہ  ان کے شہر کو غالب کے قدم لینے کی سعادت حاصل ہو مگر تمام کوششوں کے باوجود وہ غالب کو اپنے شہر لانے میں ناکام رہے۔ انہیں شہروں میں شہر غزل بھوپال کا نام بھی شامل ہے۔
1857 کے غدر اور اپنی پریشانیوں کا حال جب  غالبؔ نے اپنے شاگردوں کو خطو ط میں لکھا تویہ پریشانیاں ریاست بھوپال کی فرمانروا نواب سکندر جہاں بیگم تک پہنچی اور مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کو بھوپال بلانے کا عہد کیا اور ان کے اخراجات کی تمام ذمہ داریاں اپنے سپردلیں۔ مولوی سید امجد علی اشہری نے اس تعلق سے ایشیا ئی شاعری میں تحریر کیا ہے کہ (نواب سکندر جہاں بیگم صاحبہ  خلد نشیں  والیہ ریاست بھوپال نے بہت چاہا کہ حضرت مرزا ِِصاحب  بھوپال تشریف لائیں اور قیام فرمائیں مگر مرزاسے دہلی کی گلیاں نہیں چھوڑی گئیں۔

غٓالب بھوپال تو نہیں آئے لیکن بھوپال میں انکے گیارہ شاگرد تھے۔ اس تعلق سے ممتاز محقق پروفیسر عبد القوی دسنوی نے اپنی کتاب بھوپال اور غالب ؔمیں مرزا کے شاگردوں کے حوالوں سے تفصیل سے لکھا ہے۔یہی نہیں نواب صدیق حسن خان اور امجد علی اشہری سے غالب کی ملاقاتیں بھی رہی ہیں۔یہی نہیں غالب کی نوابین بھوپال سے قرابت داری بھی تھی اور پھر غالب کے غیرمطبوعہ کلام کی دریافت ۱۹۱۸میں بھوپال میں نواب فوجدار محمد خان کی لائبریری سے ہوئی تھی۔ جسے بعد میں نسخہ حمیدیہ کے نام سے شائع کیا۔

ممتاز ادیب اقبال مسعود کہتے ہیں کہ غالب بھوپال تو نہیں آئے مگر ان کے شاگردوں اور ملنے والوں کا ایسا وسیع حلقہ رہا ہے کہ اہل بھوپال ان کے رنگ میں شعر کہنا اپنی شان سمجھتے تھے۔


ممتاز ادیب اقبال مسعود کہتے ہیں کہ غالب بھوپال تو نہیں آئے مگر ان کے شاگردوں اور ملنے والوں کا ایسا وسیع حلقہ رہا ہے کہ اہل بھوپال ان کے رنگ میں شعر کہنا اپنی شان سمجھتے تھے۔ نواب سکندر جہاں بیگم نے انہیں بھوپال آنے اور ان کے تمام اخراجات کی ذمہ داریاں اپنے سپرد لینے کا بھی اعلان کیا تھا مگر غالب سے دہلی کی گلیاں نہیں چھوڑی گئیں۔ ہم غالب اور بھوپال کے رشتہ پر ناز ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل غالب کو پرھے تواس کے سامنے زندگی  کے معنی نکل کر سامنے آئیں گے۔

ممتاز ادیب و ناقد پروفیسر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ بھوپال میں غٓالب کے گیارہ شاگرد رہے ہیں اور اس تعلق سے پروفیسر عبد القوی دسنوی نے اپنی کتاب غالب اور بھوپال میں سیر حاصل بحث کی ہے۔


ممتاز ادیب و ناقد پروفیسر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ بھوپال میں غٓالب کے گیارہ شاگرد رہے ہیں اور اس تعلق سے پروفیسر عبد القوی دسنوی نے اپنی کتاب غالب اور بھوپال میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ غالب صدی گزرنے کے بعد بھی اگر آج سب پر غالب ہے تو وہ ان کے اشعار کی معنی آفرینی ہے ۔ عام طور پر لوگ غالب کو صرف اردو شاعری کے حوالے سے ہی جانتے ہیں حالانکہ غالب نے اردو شاعری پر کبھی فخر نہیں کیا بلکہ پڑھنے والوں سے کہا کہ میری فارسی شاعری کو پڑھو تو میری عظمت کے راز کو سمجھ سکوگے۔ہم بھی چاہتے ہیں کہ غٓالب کی فارسی شاعری کو اردو میں پیش کیا جائے۔

ممتاز ادیب و شاعر ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ بھوپال میں غالب کے جس کلام کی دریافت ہوئی تھی وہ ان کے پچیس سال کی عمر تک کے اشعار تھے۔


ممتاز ادیب و شاعر ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ بھوپال میں غالب کے جس کلام کی دریافت ہوئی تھی وہ ان کے پچیس سال کی عمر تک کے اشعار تھے۔ جب ان اشعار کو نسخہ حمیدیہ کے نام سے شائع کیاگیا تو اہل نظر کے سامنے غالب کی ایک اور امیج ابھر کر سامنے آئی۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو اک نقش پا پایا
یہ شعر جو میں نے پڑھا ہے یہ موجودہ  وقت میں غالب کےضرب المثل اشعار میں شامل ہے مگر اسے اس عہد میں لفظ پا پایا کی تکرار سے خارج کردیا گیاتھا۔ ہمارے یہاں غالب کی شاعری پر تو بہت بات ہوتی ہے مگر غالب کی نثرنگاری پر ک گفتگو کی جاتی ہے جبکہ غٓالب اور سرسید ہی وہ چند لوگ ہیں جنہوں نے اردو کو سہل بنانے کا کام کیا تھا۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتےہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 27, 2020 12:59 PM IST