ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کے نفاذ کو لے کر تحریک تیز ، علما کے وفد نے گورنر ہاوس جاکر دیا اپنا میمورنڈم

قاضی ایکٹ کے نفاذ کے مطالبہ کو لے کر علمائے دین کے نمائندہ وفد نے ایم پی قاضی کمیٹی اور ایم پی علما بورڈ کے بینر تلے مدھیہ پردیش گورنر ہاؤس میں میمورنڈم پیش کیا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کے نفاذ کو لے کر تحریک تیز ، علما کے وفد نے گورنر ہاوس جاکر دیا اپنا میمورنڈم
مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کے نفاذ کو لے کر تحریک تیز ، علما کے وفد نے گورنر ہاوس جاکر دیا اپنا میمورنڈم

مدھیہ پردیش میں مذہبی آزادی قانون کا آرڈیننس جب سے پاس ہوا صوبہ میں قاضی ایکٹ کے نفاذ کے مطالبہ نے زور پکڑ لیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ نافذ کرنے کی مانگ کو لے کر علمائے دین کے نمائندہ وفد نے ایم پی گورنر ہاؤس جاکر اپنا میمورنڈم پیش کیا اور صوبہ کی گورنر سے مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ نافذ کرنے کی سب سے پہلے انیس سو تیرانوے میں تحریک شروع ہوئی تھی ۔ سابقہ کانگریس حکومت میں اس کو لیکر حکومت اور علمائے دین کے بیچ کئی دور کی بات بھی ہوئی تھی ، مگر بات صرف بات تک ہی محدود رہی اور مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کا نفاذ آج تک نہیں ہوسکا ۔ اتر پردیش میں لو جہاد کو روکنے اور مذہبی آزادی بل کے نام پر جب قانون بنایا گیا ، تو اسی کی راہ پر چلتے ہوئے مدھیہ پردیش میں بھی لو جہاد کو روکنے کے لئے مذہبی آزادی قانون کے نفاذ کو لے کر مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت نے آرڈیننس جب پاس کیا تو علمائے دین نے ایک بار پھر مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کے نفاذ کو لیکر اپنی تحریک تیز کردی ہے۔


قاضی ایکٹ کے نفاذ کے مطالبہ کو لے کر علمائے دین کے نمائندہ وفد نے ایم پی قاضی کمیٹی اور ایم پی علما بورڈ کے بینر تلے مدھیہ پردیش گورنر ہاؤس میں میمورنڈم پیش کیا۔ مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر قاضی سید انس علی کہتے ہیں کہ قاضی ایکٹ کے نفاذ سے مدھیہ پردیش میں شریعہ کے نفاذ میں جہاں مدد ملے گی وہیں لو جہاد کو روکنے میں بھی ملے گی ۔ جو لوگ پیار وغیرہ میں ملوث ہوتے ہیں وہ کسی قاضی یا ممتاز عالم دین کے پاس جاکر نکاح نہیں پڑھواتے ہیں بلکہ وہ نام نہاد قاضی اور نکاح خواں کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی وجہ اسلام اور علمائے دین بدنام ہوتے ہیں ۔


انہوں  نے بتایا کہ ہم گورنر صاحبہ کو میمورنڈم پیش کرکے مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ قاضی ایکٹ کے نفاد سے فرصی قاضی اور فرضی نکاح خواں پر روک لگے گی اور جو لوگ اسلام کے اصل نمائندے ہیں ، انہیں اسلام کی خدمت کرنے کا موقع ملے گا۔ جب قاضی ایکٹ کا نفاذ ہوگا تومدھیہ پردیش میں شرعی احکام کی پابندی ، نکاح پڑھانے کے لئے جن لوگوں کا تقرر ہوگا ان کی رپورٹ حکومت اور انتظامیہ کے پاس ہوگی اور وہی لوگ شرعی معاملے میں کام کرنے کے مجاز ہوں گے ۔آج ہم نے گورنر ہاؤس میں میمورنڈم پیش کیا اور تین جنوری کو قاضی ایکٹ کے نفاذ کو لے کر وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے بھی ملاقات کرنے کا وقت مانگا ہے ۔ اگر وزیر اعلی کی جانب سے وقت ملتا ہے تو ان سے بھی ملاقات کرکے قاضی ایکٹ کے مسودے کو پیش کیا جائے گا ۔ تاکہ مدھیہ پردیش میں قاضی ایکٹ کا نفاذ ہو سکے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے بھوپال میں مساجد کمیٹی کے تحت محکمہ دارالقضا تو قائم ہے ، مگر اس کا دائرہ اختیارسابقہ ریاست بھوپال یعنی موجودہ میں مدھیہ پردیش کے ضلع بھوپال ، رائسین اور سیہور تک ہی محددو ہے۔ علمائے دین چاہتے ہیں کہ قاضی ایکٹ نافذ کرکے مدھیہ پردیش کی سطح پر ادارہ قائم کیا جائے تاکہ اس کے ذریعہ شرعی احکام کو لے کر کام کیا جاسکے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 02, 2021 02:13 PM IST