ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: شیوراج سنگھ نے کابینہ میں توسیع کا دیا اشارہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر کابینہ کی توسیع کو لیکر سبھی پہلؤوں پر تو بات ہوگئی ہے اب دہلی میں پی ایم نریندر مودی،بی جے پی قومی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ سے بات ہونی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: شیوراج سنگھ نے کابینہ میں توسیع کا دیا اشارہ
مدھیہ پردیش: شیوراج سنگھ نے کابینہ میں توسیع کا دیا اشارہ

بھوپال۔ مدھیہ پردیش میں شیوراج کابینہ کی توسیع بہت جلد ہونے والی ہے۔ کابینہ کی توسیع کو لیکر بھوپال میں ایم پی بی جے پی صدر وی ڈی شرما ،ایم پی بی جے پی انچارج سہاس بھگت اور سی ایم شیوراج سنگھ کے بیچ ایک گھنٹے کی میٹنگ میں سبھی پہلوؤں پر غور کیاگیا۔ کابینہ توسیع کو لیکر خود سی ایم شیوراج سنگھ کے بیان کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سی ایم شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ  آج بہت اہم میٹنگ ہوئی ہے ۔میٹنگ میں پارٹی جنرل سکریٹری، ایم پی بی کے پی صدر اورہم لوگ تھے اور میٹنگ میں خصوصیت کے ساتھ کابینہ کی توسیع کو لیکر بات کی گئی۔ بہت جلد کابینہ کی توسیع ہونے والی ہے ۔ کابینہ کی توسیع کے سب پہلوؤں پر ہم نے تفصیل سے بات کی ہے۔ اب دہلی میں اعلی قیادت سے اس موضوع پر بات ہونی ہے اس کے بعد کابینہ کی تشکیل ہوگی۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر کابینہ کی توسیع کو لیکر سبھی پہلؤوں پر تو بات ہوگئی ہے اب دہلی میں پی ایم نریندر مودی،بی جے پی قومی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ سے بات ہونی ہے۔ وہاں سے گرین سگنل ملنے کے بعد کابینہ کی توسیع کردی جائے گی ۔سی ایم شیوراج سنگھ کابینہ کی توسیع کو لیکر کل کسی بھی وقت دہلی جائیں گے اور پارٹی اعلی قیادت سے بات کرینگے۔


واضح رہے کہ شیوراج سنگھ نے بطور سی ایم چوتھی بار مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کا حلف تیئس مارچ کو لیا تھا۔ شیوراج سنگھ کے چوتھی بار وزیر اعلی بننے کے انتیس دن بعد ایک منی کابینہ تشکیل دی گئی تھی جس میں پانچ وزرا کو شامل کیاگیا تھا۔ ان پانچ وزرا میں تین بی جے پی اور دو سندھیا خیمہ سے شامل کئے گئے تھے۔ ڈاکٹر نروتم مشرا،کمل پٹیل اور مینا سنگھ کو بی جے پی سے جگہ دی گئی تھی جبکہ تلسی سلاوٹ اور گووند سنگھ راجپوت کو سندھیا خیمہ سے شامل کیاگیا تھا۔


ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں پچیس وزرا کو شامل کیا جا سکتا ہے جس میں سے سندھیا خیمہ سے دس لیڈروں کا وزیر بننا طے مانا جا رہا ہے جبکہ بی جے پی کوٹے سے پندرہ لیڈران کو نئی کابینہ میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ بی جے پی کابینہ کی توسیع کر کے جہاں سیاسی سمیکرن کو فٹ کرنا چاہتی ہے وہیں بی جے پی کے لئے سبھی کو خوش کرنا آسان نہیں ہے اور پھر صوبہ میں ہونے والے چوبیس سیٹوں کے ضمنی انتخابات نے اس کی مشکلات میں اور اضافہ کردیا ہے۔

وہیں علما بورڈ نے بی جے پی اعلی قیادت سے نئی کابینہ میں مسلم چہرے کو نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ علما بورڈ کے صوبائی صدر مولانا سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ جب بغیر الیکشن جیتے ہوئے سندھیا خیمہ کے لوگوں کو وزارت میں شامل کیا جا سکتا ہے تو صوبہ کی سب سے بڑی اقلیت کو بھی نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ بی جے پی میں کوئی مسلم ممبر اسمبلی نہیں ہے وہ اپنے کسی بھی لیڈر کو وزیر بناکر اقلیتوں کو نمائندگی دے سکتی ہے۔
سی ایم شیوراج سنگھ کے ذریعہ کابینہ کی جلد توسیع کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈروسابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ کابینہ کی توسیع بی جے پی کے لئے ناسور ہے۔ اسمبلی کے ضمنی انتخابات سامنے ہیں اس لئے سبھی کو خوش کرنے کے لئے کابینہ میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش بی جے پی کر رہی ہے لیکن یہ جنتا ہے سب جانتی ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے دوہزار اٹھارہ میں کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اب جب وہ جنتا کی عدالت میں جائیں گے تو جنتا ان سے غداری کا سبب ضرور پوچھے گی۔
First published: Jun 24, 2020 04:09 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading