ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

ہندو اور مسلم خواتین کو خود کفیل بنانے کا اٹھایا قدم

سو سائٹی کے ذریعہ بلا لحا ظ قوم و ملت سبھی ضرورتمند خواتین کو سلائی کڑھانی کے ہنر آراستہ کرنے کے لئے پہلے انہیں ماہرین کی نگرانی میں تربیت دی گئی اور جب وہ ہنر سے آراستہ ہوگئیں تو انہیں اپنا کاروبار کرنے کے لئے مفت مشینیں بھی تقسیم کی گئیں۔

  • Share this:
ہندو اور مسلم خواتین کو خود کفیل بنانے کا اٹھایا قدم
سو سائٹی کے ذریعہ بلا لحا ظ قوم و ملت سبھی ضرورتمند خواتین کو سلائی کڑھانی کے ہنر آراستہ کرنے کے لئے پہلے انہیں ماہرین کی نگرانی میں تربیت دی گئی

ملک میں سیاسی سطح پر اپنے مفاد کو پورا کرنے کے لئے سیاسی پارٹیاں بھلے ہی دلوں میں کدورت پیدا کرنے کی کوششیں کریں مگر سماجی سطح پر تانا بانا اتنا مضبوط ہے کہ اسے کبھی جدا نہیں کیا جاسکتا ہے اور پھر جس ملک میں میرا کے آنسو میر کی آنکھوں سے نکلیں اسے کون جدا کرسکتا ہے۔ کورونا قہر میں نوابوں کی نگری بھوپال میں جب غریب و نادار طبقہ پر عرصہ حیات تنگ ہوا تو مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل اینڈ ایجوکیشنل سو سائٹی نے ضرورتمندوں میں خوردنی اشیا تقسیم کرنے کے ساتھ خواتین کو ہنر سکھا کر انہیں خود کفیل بنانے کا بھی عہد کیا۔ سو سائٹی کے ذریعہ بلا لحا ظ قوم و ملت سبھی ضرورتمند خواتین کو سلائی کڑھانی کے ہنر آراستہ کرنے کے لئے پہلے انہیں ماہرین کی نگرانی میں تربیت دی گئی اور جب وہ ہنر سے آراستہ ہوگئیں تو انہیں اپنا کاروبار کرنے کے لئے مفت مشینیں بھی تقسیم کی گئیں۔

مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل اینڈ ایجوکیشنل سو سائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ماشا اللہ سو سائٹی نے تین دہائیوں سے تعلیم اور سماجی  خدمت کے میدان میں کام کر رہی ہے ۔ کورونا قہر اور لاک ڈاؤن میں ہم نے غریب و نادار لوگوں، مائگرینٹ مزدوروں کے درد کو جتنے قریب سے دیکھا ہے اس کا بیان لفظوں میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سو سائٹی کے ذریعہ بلا لحا ظ قوم وملت سبھی کی مدد پہلے بھی کی گئی اور اب بھی کی جاری ہے ۔کورونا قہر میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے ہم نے قدم اٹھایا اور جب خواتین سلائی کڑھائی کے ہنر سے آراستہ ہوگئیں تو انہیں سو سائٹی کی  جانب سے مشینیں دی گئیں تاکہ یہ اپنے گھروں میں رہ کر اپنے ساتھ اپنے گھروالوں کی کفالت کا انتظام کر سکیں۔



سو سائٹی میں تربیت حاصل کرنے والی جیا کہتی ہیں کہ ہم نے شکر کیسے ادا کریں سمجھ میں نہیں آتا ہے ۔ جس دن سے کورونا قہر اور لاک ڈاؤن ہواہے تب سے لیکر آج تک ہمارے گھر میں راشن پہنچانے کا کام جاری ہے ۔ ہم نے جب سنا کہ یہاں ہنر سکھایاجاتا ہے تو یہاں آکر ہم نے ہنر سیکھا۔ہم نے ہنر تو سیکھ لیاتھا مگر کام کیسے شروع کریں گے ،کئی لوگوں سے مدد بھی مانگی کسی نے مدد نہیں کی اور دیکھئے کہ ہماری فریاد اوپر والے سن لی اور سو سائٹی نے سبھی کو مشینں تحفہ میں دی ہے۔ اب ہم اپنے گھر میں رہ کر  کام کریں گے اور زندگی کی گاڑی اس سےآگے بڑھے گی۔


وہیں سو سائٹی میں تربیت حاصل کرنے والی ساوتری کہتی ہیں کہ  سیاسی سطح پر ہندومسلم کی باتیں سنو تو ایسا لگتا ہے کہ اب سماج میں جینے کے لائق کچھ بچا ہی نہیں  مگر جب ہم ہنر سیکھنے کے لئے آئے تو دیکھا کہ یہاں پر تو ایسی کوئی بات ہی نہیں ۔ بس ایک ہی کوشش کہ غریب لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں ۔ کاش ہمارے دیش میں سبھی لوگ ایسے ہو جائیں تو غریبی ختم ہو جائے ۔
سو سائٹی سے تربیت حاصل کرنے والی رخسانہ کہتی ہیں کہ کورونا قہر میں اپنوں نے منھ پھیر لیا مگر اللہ کے نیک بندوں نے عزت کے ساتھ ہنر سے آراستہ کیا ہے۔ ہمیں مشین بھی دی گئی ہے ۔ اب آپ سے کیاکہوں کہ باقی باتیں میرے آنسوؤں کی زبان سے سمجھ لیجئے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 16, 2021 03:14 PM IST