உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو کے نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کے لئے تلاش جوہر پروگرام کا انعقاد

    Youtube Video

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ اردو زبان کو لیکر نئی نسل میں بہت جوش ہے اور نئی نسل کے فنکاروں میں بہت سی صلاحیتیں بھی موجود ہیں لیکن انہیں موقع نہیں ملنے کی سبب ان کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہے ۔

    • Share this:
    اردو کے فنکاروں کی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کےلئے باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن اردو کی انجمنوں کے ذریعہ عملی اقدامات نہیں کئے جانے سے ہمیشہ نئی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی نےاردو کے فنکاروں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے نہ صرف ریاست گیر سطح پر مہم شروع کی ہے بلکہ صوبہ کے سبھی اضلاع میں نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کے لئے ہر ضلع میں کوآرڈینیٹر کا تقرربھی کیا ہے تاکہ ضلع سطح پر اردو کے نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو پرکھ کر انہیں صوبائی سطح پر مواقع فراہم کئے جا سکے ہیں ۔ اکادمی کےذریعہ اردو کے نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو منطر عام پر لانے کے لئے جو مہم شروع کی گئی تھی اس کا مثبت نتیجہ یہ سامنے آیا کہ اکادمی کو ریاست کے سبھی اضَلاع سے تین سو فنکاروں کی تخلیقات اسے موصول ہوئیں ۔ اکادمی نے اس کے لئے کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کے میزان پر جو دوسو بیس فنکاروں کی تخلیقات کا انتخابت کیا گیا ہے انہیں مزید امتحان سے گزارنے کے لئے ان کے لئے فی البدیہہ مشاعرہ کا انعقاد شروع کیاگیا ہے۔ فی البدیہہ مشاعرہ میں جو فنکار کامیاب ہوگا اس کو اکادمی کے ذریہ انعام دینے کے ساتھ اس کا نام اکادمی کی ڈیجیٹل ڈائریکٹری میں بھی شامل کیا جائے گا۔ سلسلہ کے تحت اکادمی کے زیر اہتمام تلاش جوہر کے پہلے پروگرام کا انعقاد اندور میں کیاگیا۔ اندور میں منعقدہ پروگرام میں اجین اور اندور ڈیویزن کے اردو کے نئے فنکاروں نے شرکت کی اور اکادمی کے اقدام کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں کہ اردو زبان کو لیکر نئی نسل میں بہت جوش ہے اور نئی نسل کے فنکاروں میں بہت سی صلاحیتیں بھی موجود ہیں لیکن انہیں موقع نہیں ملنے کی سبب ان کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہے ۔ اکادمی نے ریاست گیر سطح پر ہر ضلع میں اردو کے کوآرڈینیٹر کا تقرر کرکے مہم شروع کی ہے اور سبھی ضلع کوآرڈینیٹر کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ اپنے ضلع کے اردو کے نئے فنکاروں کی تخلیقات کو اکادمی تک بھیجیں ۔ آپ کو جانکر حیرت ہوگی کہ ہمیں دس بیس نہیں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں نئے فنکاروں کی تخلیقات موصول ہوئیں ۔اکادمی نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کے ذریعہ ریاست گیر سطح پر دو سو بیس فنکاروں کو ان کی تخلیقات کو فن کے میٓزان پر جانچا گیا ۔ اس کے آگے کے مرحلے میں اندور میں فی البدیہہ مشاعرہ کا انعقاد کیاگیا ۔ نئے فنکاروں نہ صرف کاغذ پر اپنی تحریر لکھی بلکہ انہیں ماہرین فن کے سامنے پیش کیاگیا ۔اس میں جو کامیاب فنکار ہونگے ان کو اکادمی کی جانب سے انعام دینے کے ساتھ ان کا نام اکادمی کی ڈیجیٹل ڈائریکٹری میں بھی شامل کیا جائے گا۔
    وہیں پروگرام کے خصوصی مقرر و ممتاز استاد شاعر رشید شادانی کہتے ہیں کہ اکادمی کے اقدام کی جتنی ستائیش کی جائے وہ کم ہے ۔ اس سے نئے فنکاروں کو جہاں اپنی صلاحیت کو پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے وہیں دوسری جانب ہمارے لئے یہ بات بھی خوش آئیند ہے کہ نئی نسل اردو زبان کو لیکر فکر مند ہے اور اپنی مادری زبان میں اپنے احساس کی پیکر تراشی کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتی ہیں ۔  ممتام ادیب و شاعر عزیز انصاری کہتے ہیں کہ اکادمی نے تلاش جوہر پروگرام کا انعقاد کر کے ایک بڑے خلا کو پرکرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سلسلہ کو جاری رہنا چاہیئے یہ وقت کی ضرورت ۔ تلاش جوہر پروگرام میں شرکت کرنے آئے منتھن پالیوال کہتے ہیں کہ اردو میری دل کی زبان ہے ۔میں اس زبان میں ایک عرصہ سے کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا مگر مجھے اسٹیج نہیں ملتا تھا۔ جب اکادمی نے تلاش جوہر پروگرام کا اعلان کیا تو میری امیدیں بر آئیں ۔میں تو اسے وقت کی ضرورت کہوں گا ۔اکادمی کے اس پروگرام سے مجھ جیسے نہ جانے کتنے نئے فنکاروں کو اپنی صلاحیت منظر عام پر لانے کا موقع ملے گا۔

    تلاش جوہر پروگرام میں شرکت کرنے آئے نعیم آفتاب کہتے ہیں کہ تلاش جوہر میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا اور مختلف مراحل سے گزرکر فن کے میزان پر کھرے اترنا آسان نہیں ہے ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے جو پہل کی ہے یہ تحریک جاری رہی تو اردو کے نئے فنکاروں کے لئے سنگ میل ثابت ہوگی ۔ واضح رہے کہ اکادمی کے زیر اہتمام تلاش جوہر پروگرام کے پہلے حصے میں اجین اور اندور ڈیویزن کے اردو کے نئے فنکاروں کو ابھی مدعو کیا گیا جبکہ ریاست کے باقی اضَلاع کے فنکاروں کو مارچ کے پہلے ہفتہ میں بھوپال میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ تلاش جوہر پروگرام میں نئے فنکاروں کو تخلیق کو صرف شاعری تک محدود نہیں کیاگیا ہے بلکہ اردو کی تمام اضناف میں طبع آزمائی کرنے والوں کو مواقع فراہم کئے جا’ئیں گے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: