உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات اور انتظامیہ کے سرد رویہ کے خلاف کانگریس نے کیا طاقت کا مظاہرہ

    کانگریس کارکنان اندور راج واڑہ سے خاموش طریقے سے پیدل مارچ کرتے ہوئے کلکٹریٹ جانا چاہتے تھے مگر پولیس نے انہیں بیچ راستے میں ہی روک لیا۔

    کانگریس کارکنان اندور راج واڑہ سے خاموش طریقے سے پیدل مارچ کرتے ہوئے کلکٹریٹ جانا چاہتے تھے مگر پولیس نے انہیں بیچ راستے میں ہی روک لیا۔

    کانگریس کارکنان اندور راج واڑہ سے خاموش طریقے سے پیدل مارچ کرتے ہوئے کلکٹریٹ جانا چاہتے تھے مگر پولیس نے انہیں بیچ راستے میں ہی روک لیا۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش کے مالوہ میں ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات اور حکومت کے ساتھ پولیس انتظامیہ پر جانب داری کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کارکنان نے اندور میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ کانگریس کارکنان اندور راج واڑہ سے خاموش طریقے سے پیدل مارچ کرتے ہوئے کلکٹریٹ جانا چاہتے تھے مگر پولیس نے انہیں بیچ راستے میں ہی روک لیا۔ پولیس کے ذریعہ کانگریس کارکنان نے پیدل مارچ کو روکنے کو لیکر کانگریس کارکنان اور پولیس کے بیچ جھوما جھٹکی بھی ہوئی ۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس نے واٹر کینن کا بھی استمعمال کیا ۔ کانگریس نے پرامن پیدل مارچ کو پولیس کے ذریعہ روکنے جانے اور واٹر کینن کے استعمال کو حکومت کے اشارے پر کئے گئے پولیس جبر سے تعبیر کیا جبکہ بی جے پی نے اسے فوکٹ کی سیاست کا حصہ بتایا ہے ۔
    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اندور میں گزشتہ دنوں مسلم چوڑی فروش کی شرپسند عناصر کے ذریعہ پیٹائی کئے جانے اور پندرہ اگست کے موقعہ پر ایک بچی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے سے روکنے پر اندور کی فضا مکدور ہوگئی تھی ۔ یہی نہیں کورونا کے نام پر حکومت کی جانب سے مذہبی مقامات پر پابندی کے ساتھ تیج و تہوار پر قید لگانے اور بی جے پی کی آشرواد یاترا کو پوری طرح سے چھوٹ دینے کے لئے اندور میں کانگریس کارکنان کے ذریعہ یہ احتجاج کیاگیا تھا۔
    سابق وزیر و ایم پی کانگریس میڈیاسیل کے انچارج جیتو پٹواری کہتے ہیں کہ حکومت تو حکومت انتظامیہ کے افسران بھی اب دوہرا معیار اختیار کرنے لگے ہیں ۔ اسی انتظامیہ کے ذریعہ جب کورونا کے نام پر تیج تہوار پر پابندی لگائی تو سبھی مذاہب کے لوگوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کیا لیکن ستم تو یہ ہے کہ ابھی ابھی مذہبی مقامات پر انتظامیہ نے پابندی عائد کررکھی ہے لیکن بی جے پی کی جن آشرواد یاترا اور بھیڑ پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ۔

    انتظامیہ کے اس دوہرے معیار کو کانگریس کبھی برداشت نہیں کریگی۔ ہمارا مالوہ اور اندور مشترکہ تہذیب کے لئے مشہور ہے لیکن یہاں پر ایک مسلم چوڑی فروش کو ایک بھیڑآکر طالبانی طریقے سے مارتی ہے اور چلی جاتی ہے اور پولیس کے خلاف الگ طریقے سے کہانی بناتی ہے ۔ پندرہ اگست کے دن ایک بچی جے شری رام کا نعرہ لگاتی ہے تو اسے منچ سے اتار دیا جاتا ہے اور پولیس خاموش کھڑی رہتی ہے ۔پولیس نے آج بھی اپنے دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا ہے ۔کانگریس پارٹی تعصب پھیلانے والی جماعت کے خلاف ہے اور جب تک بابا صاحب کے بنائے آئین کے مطابق کام نہیں ہوتا ہے اس کی تحریک جاری رہے گی۔

    وہیں بی جے پی نے کانگریس کے احتجاج پر طنز کیا ہے ۔ ایم پی بی جے پی ترجمان نیہا بگا کا کہنا ہے کہ کانگریس کا سیاسی وجود اپنی آخری سانیس لے رہا ہے ۔ عوام کو گمراہ کرنا اور اپنی سیاسی بیساکھی کو بچانے کے لئے کانگریس نے یہ احتجاج کیا ہے لیکن عوام جانتے ہیں کہ پاپ کی ہانڈی زیادہ دیر تک نہیں چڑھتی ہے ۔ رہی بات اندور میں چوڑی فروش کے ساتھ مار پیٹائی کی تو خواتین کے ساتھ بدسلوکی کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جس شخص نے اپنی پہنچا چھپائی ،جس کے پاس دو دو آدھار ملے ہیں کانگریس اس کو معصوم بتا رہی ہے ۔پولیس انتظامیہ اپنا کام کر رہی ہے ۔شیوراج حکومت میں جو بھی جرم کرے گا اس کو دس فٹ گہرے گڈھے میں گاڑنے کا کام ہوگا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: