ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

گارڈ آف آنر کے ساتھ مفتی عبد الرزاق کو کیا گیا سپرد خاک، نماز جنازہ کی نہیں ملی اجازت

مجاہد آزادی ،ممتاز عالم دین مفتی عبد الرزاق خان کو گارڈ آف آنر کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ۔

  • Share this:
گارڈ آف آنر کے ساتھ مفتی عبد الرزاق کو کیا گیا سپرد خاک، نماز جنازہ کی نہیں ملی اجازت
مجاہد آزادی ،ممتاز عالم دین مفتی عبد الرزاق خان کو گارڈ آف آنر کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ۔

مجاہد آزادی ،ممتاز عالم دین مفتی عبد الرزاق خان کو گارڈ آف آنر کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ۔ مفتی عبد الرزاق نے چورانوے سال کی عمر میں اپنی حیات کا سفر مکمل کیا ۔ مفتی عبد الرزاق نے ملی ،قومی اور سماجی میدان میں جو عظیم خدمات انجام دی تھی انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مفتی عبد الرزاق کے سانحہ ارتحال کو نہ صرف مسلم قوم نے بلکہ دیگر قوموں کے لوگوں نے بھی ناقابل تلافی نقصان سے تعبیر کیا ہے۔

امیر شریعت مدھیہ پردیش ،شاگرد رشید شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ونائب صدرجمعۃ علما ہند مفتی عبد الرزاق کی ولادت بھوپال میں انیس سو ستائیس میں ہوئی تھی ۔ انہوں نے چورانوے سال کی عمر میں اپنی حیات کا سفر مکمل کیا اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔مفتی عبد الزاق کا شمار مدھیہ پردیش کے ممتاز عالم دین کے ساتھ مجاہد آزادی میں ہوتا تھا۔ ان کی مذہبی اور سماجی خدمات کے سبب ان کے عقیدتمندوں کی کثیر تعداد تھی ۔ جب ان کے انتقال کی خبر آئی تو پورے مدھیہ پردیش کی فضا سوگوار ہوگئی ۔




عزیز وں نے بھوپال کے تاریخی اقبال میدان کا نماز جنازہ کے لئے انتخاب کیا تھا اور دن میں دو بجے اقبال میدان میں نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھامگر کورونا کرفیو کے نفاذ کے سبب انتظامیہ نے اقبال میدان میں نماز جنازہ کی اجازت نہیں دی اور پورے اقبال میدان کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیاگیاتھا۔بعد از آاں بھوپال کی مسجد ترجمہ والی بعد نماز ظہر دن میں ایک بجے مفتی عبد الرزاق کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں بھوپال کے بڑا باغ قبرستان میں گارڈ آف آنر کے ساتھ عقیدتمندوں کی محدود تعداد کے بیچ  سپرد خاک کیا گیا ۔


سابق ڈی جی پی چھتیس گڑھ ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ مفتی عبد الرزاق کے سانحہ ارتحال سے آج مدھیہ پردیش یتیم ہوگیا ہے ۔ انہوں نے نہ صرف ملی مسائل بلکہ قومی مسائل میں جس طرح سے نمائندگی کی ہے وہ بے مثل ہے۔ اب ایسے لوگ ہمارے بیچ نہیں ہے جسے ہم ان کا ثانی کہہ سکیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ مفتی عبد الرزاق کو جوار رحمت میں اعلی مقام عطافرمائے۔
سینئر سیاسی لیڈر و سابق وزیر پی سی شرما کہتے ہیں کہ مفتی عبد الرزاق صاحب اپنی انسانی خدمت کے سبب سبھی لوگوں کے بیچ مقبول تھے۔ انہوں نے ہمیشہ انسانی خدمت کو ترجیح دی تھی ۔ ان کا اتنقال صرف مسلم قوم کا خسارہ نہیں ہے بلکہ سبھی قوموں کا خسارہ ہے ۔
ممتاز عالم دین قاضی نور اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ مفتی عبد الرزاق مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے ۔ ان سے جو بھی ایک بار مل لیتا تھا پھر انہیں کاہو کر رہ جاتا تھا۔



ان کے انتقال کی خبر جب کورونا قہر کے بیچ پہنچی تو سبھی لوگ رنجیدہ ہو گئے اور جس تعداد میں لوگ بھوپال پہنچ رہے تھے اس سے مقامی پولیس انتظامیہ کو نٰظم کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ انتظامیہ نے اقبال میدان میں کووڈ ضابطہ کے سبب نماز جنازہ اداکرنے پر پابندی لگائی ۔ بعد از آاں مسجد ترجمہ والی میں انکی نمازہ جنازہ ادا کی گئی اور انہیں گارڈ آف آنر کے بیچ بھوپال کےبڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ مفتی صاحب نے اب بھلے ہی ہمارے بیچ نہیں ہیں لیکن انہوں نے ذہن سازی اور تعلیم کا جو کارواں تیار کیا تھا وہ ان کے مشن کو آگے بڑھاتارہے گا۔
بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
Published by: Sana Naeem
First published: May 27, 2021 07:57 PM IST