உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہدائے کربلا کی تعلیمات تیرگی میں مینارہ روشن کی طرح کرتی ہیں رہنمائی

    حکومت کی پابندیوں کے بیچ شہدائے کربلا کو مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ پیش کیا گیا خراج عقیدت

    حکومت کی پابندیوں کے بیچ شہدائے کربلا کو مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ پیش کیا گیا خراج عقیدت

    حکومت کی پابندیوں کے بیچ شہدائے کربلا کو مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ پیش کیا گیا خراج عقیدت

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں حکومت کی پابندیوں کے بیچ مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ حکومت کی جانب سے یوم عاشورہ پر تعطیل کا احکام ضرور جاری کیاگیاتھا لیکن ماتمی جلوس ،علم اور تعزیہ نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اس کے باؤوجود راجدھانی بھوپال سمیت کئی مقامات پر امام بارگاہوں اور اعزاز خانوں کے باہر ماتم کیاگیا۔ مدھیہ پردیش کے باون اضلاع میں تین سو سترہ مقامات پر عاشورہ کی مجلس کا انعقاد کیاگیا تھا۔
    ممتاز شیعہ عالم دین ڈاکٹر رضی الحسن حیدری کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے ہمیں سکھایا ہے جس ملک میں رہیئے اس کے وفاداررہیئے اور حکومت کے احکام پر عمل کیجئے۔ حکومت نے ہمیں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔ہم نے جلوس نہیں نکالا اور امام بارگاہوں اور اعزا خانوں میں مجالس کا انعقاد کرکے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کی گئی اور ان کی تعلیمات پر چلنے کا عہد کیاگیا۔حضرت امام حسن علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔
    وہیں حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا کے عقیدتمند پنڈٹ وجے تیواری کہتے ہیں کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کواہنسا کا پیغام حضرت امام حسین سے ملا تھا۔میں نے پہلے مہا تما گاندھی کو پہلے پڑھا اور جب گاندھی جی کی امام حسین علیہ السلام سے یہ عقیدت دیکھی تو شہدائے کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کو پڑھنا شروع کیا اور جب انکی تعلیمات کوپڑھا تو پھر انہیں کا ہوگیا۔ سچ ہے امام حسین سبھی کے ہیں اور انکی تعلیمات سے زندگی کے ہر شعبہ کی رہنمائی ہوتی ہے۔ میرا تو پورا گھرانہ پچیس سالوں سے ان سے جڑا ہے اور جب سے جڑا ہے تو یقین جانئیے زندگی میں وہ خوشی آئی ہے جس کا لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا ہے ۔

    وہیں اجین میں محرم جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دے جانے سے ناراض لوگوں کے ذریعہ ملک مخالف نعرہ لگائے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اجین خارا کنواں پولیس نے ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر پندرہ لوگوں کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کیا ہے۔ پولیس کے ذریعہ چار لوگوں کی گرفتاری بھی کی گئی ہے وہیں وزیر اعلی نے طالبانی ذہنیت کو فروع دینے کو فروغ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا احکام جاری کیا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: