ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش ضمنی انتخابات : مسلم مسائل سے سیاسی پارٹیوں نے اختیار کی دوری ، جانئے کیوں

MP by Election 2020 : سیاسی پارٹیوں کی بے رخی اور مسلم مسائل سے ان کی دوری کو دیکھتے ہوئے اب مسلم تنظیموں نے بھی اپنے الگ ایجنڈے پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش ضمنی انتخابات : مسلم مسائل سے سیاسی پارٹیوں  نے اختیار کی دوری ، جانئے کیوں
مدھیہ پردیش ضمنی انتخابات : مسلم مسائل سے سیاسی پارٹیوں نے اختیار کی دوری ، جانئے کیوں

مدھیہ پردیش اسمبلی ضمنی انتخابات کے لئے سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ انتخابی تشہیر اپنے عروج پر ہے ۔ ضمنی انتخابات کی تاریخ کا جب اعلان کیا گیا تھا ، تب سیاسی پارٹیاں بی جے پی ، کانگریس اور دوسری جماعتیں ڈیولپمنٹ کے ایشو پر بات کرتی نظر آرہی تھیں ، مگر جیسے جیسے انتخابات کے لئے ووٹنگ کے دن نزدیک آتے جا رہے ہیں ، سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈے سے نہ صرف ترقیاتی ایشو غائب ہو جاتے رہے ہیں ، بلکہ ترقیاتی موضوعات کی جگہ نا زیبا الفاظ کااستعمال کے ساتھ ساتھ ووٹرس کو رجحان اور پولرائز کرنے کے لئے اقلیتی اداروں کو بھی نشانہ بنایاجانے لگا ہے۔


مدھیہ پردیش اسمبلی کی اٹھائیس سیٹوں کے لئے تین نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ انتخابات میں خاص مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہے ۔ دونوں پارٹیوں کی پوری سیاست سافٹ ہندتو اور ہارڈ ہندتو کے اردگرد ہی محور بنی ہوئی ہے ۔ اٹھائیس سیٹوں کے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی سیاسی پارٹی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا ہے حالانکہ اٹھائیس سیٹوں میں گیارہ سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹرس کی تعداد سولہ سے انیس فیصد کے درمیان ہے ۔ جبکہ پندرہ سیٹیں ایسی ہیں جہاں پر مسلم ووٹرس کی تعداد دس سے پندرہ فیصد کے بیچ ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کی بے رخی اور مسلم مسائل سے ان کی دوری کو دیکھتے ہوئے اب مسلم تنظیموں نے بھی اپنے الگ ایجنڈے پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔


مدھیہ پردیش مسلم وکاس پریشد کے صدر محمد ماہر کہتے ہیں کہ ہم نے دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی دونوں کو مسلم سماج کے مطالبات اور مسلم مسائل کے تعلق سے میمورنڈم پیش کیا تھا ۔ دوہزار اٹھارہ میں کملناتھ کی حکومت میں مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی لیکن پندرہ مہینے کی حکومت کی مسلم مسائل کو حل کرنا تو دور ان کی طرف نگاہ اٹھاکر دیکھا بھی نہیں گیا ۔ اس بار کے ضمنی انتخابات میں بھی سیاسی پارٹیوں کا رویہ یہی ہے ۔ بی جے پی ہمارے زخموں پر نمک پاشی کرتی ہے اور آگے نکل جاتی ہے ۔ اس کا کام پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی جاری ہے ۔


مدھیہ پردیش جمعیت علما کے جنرل سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ جمہوری ملک میں ہمیں سیاسی پارٹیوں سے ایسی بے رخی کی امید نہیں تھی ۔ ہمارے لئے دونوں پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی ایک جیسی ہی ہیں ۔ ایک سافٹ ہندتو کی بات کر رہی ہے اور ایک ہارڈ ہندتو کی جانب گامزن ہے ۔ ایم پی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے مدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر بیان دیا ، لیکن کانگریس کے کسی لیڈر کا اس سلسلہ میں کہیں کوئی بیان نہیں آیا ۔ یہی نہیں اوشا ٹھاکر وقف بورڈ کی گرانٹ بند کرنے کی بات کر رہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں دو باتیں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ مدارس کی روشن تاریخ کے بارے میں کتنا جانتی ہیں اور اگر مدارس میں ایسا کہیں کچھ آپ کو نطر آیا تو حکومت اب تک خاموش کیوں بیٹھی ہے اور اس نے اس پر کارروائی کیوں نہیں کی ۔ آپ مدارس کی تعلیم کو نشانہ تو بناتے ہیں لیکن مدارس کے اساتذہ کو چار سال سے تنخواہ نہیں ملی ہے ، اس کے بارے میں آپ کی زبان سے کبھی دو لفظ نہیں نکلے  کہ ان کے مسائل کیسے حل ہوں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح وقف بورڈ کا معاملہ ہے ۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ وقف بورڈ کی گرانٹ آپ بند کر دیجئے ، مگر وقف کی زمینوں پرسرکار کا جو قبضہ ہے یا سرکار کے دفاتر جن وقف عمارتوں میں لگائے جاتے ہیں ، حکومت ان کا کرایہ وقف بورڈ کو کب اداکرے گی ۔ اگر حکومت وقف بلڈنگوں کا کرایہ ہی ادا کردے تو مسلمانوں کے بہت سے فلاحی کام انجام دیئے جا سکتے ہیں ۔ یہی نہیں شیوراج حکومت میں مدرسہ بورڈ ، مساجد کمیٹی ، وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے ملازمین کو ابھی تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں ، مگر یہ سب کسی کو دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔

محبان بھارت کے شاہ ویزسکندر کہتے ہیں کہ جو پارٹیاں ہمیں نظر انداز کر رہی ہیں ، اب ہمارے پاس بھی آپشن ہے کہ ہم ووٹ ضرور کریں اور پارٹیوں کو دیکھ کر نہیں بلکہ امیدوار اور اس کے کام کو دیکھ کرووٹ کریں ۔ اور اگر کہیں پر امیدوار بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے تو نوٹا کا آپشن ہمارے پاس موجود ہے۔

مدھیہ پردیش میڈیا سیل کے نائب صدر بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ یہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ اقلیتوں کو آگے لے جانے کے لئے کانگریس کا خاکہ کیا تھا ۔ کانگریس نے ہی امام و موذن کی تنخواہوں میں اضافہ کے لئے دوکروڑ بیالیس لاکھ روپے کا بجٹ میں اضافہ کیا تھا ، مگر جب سے شیوراج سنگھ کی حکومت آئی ہے ابتک امام و موذن کو تنحواہیں نہیں دی گئی ہیں ۔ یہی نہیں مدرسہ بورڈ ، حج کمیٹی ، وقف بورڈ کے ملازمین بھی اپنی تنخواہ کے معاملے کو لیکر در در بھٹک رہے ہیں ۔ یہ سرکار ایک طرف تو سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کی بات کرتی ہے ، مگر اسے اقلیتی سماج، دلت سماج ، پچھڑا ورگ سماج کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ خواتین کو لے کر ان کے وزرا کس طرح کے بیان دے رہے ہیں یہ بھی سبھی نے دیکھا ہے ۔ یہ ووٹوں کے نہیں ، نوٹوں سے بنی سرکار ہے اور خود پی ڈبلیو ڈی وزیر گوپال بھارگو کے بیٹے  ابھیشیک بھارگو نے تسلیم کیا ہے کہ وزرا کے گھروں میں نوٹ برس رہے ہیں ۔

وہیں ایم پی بی جے پی ترجمان مسلمانوں کی پسماندگی کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں ۔ بی جے پی ترجمان نیہا بگا کہتی ہیں کہ کانگریس کی نظر مسلم ، دلت ، آدیواسی سماج صرف ایک ووٹ بینک ہے ۔ اگر کانگریس نے ان سماج کے لوگوں کی ترقی کے لئے کام کیا ہوتا تو آج یہ سماج اتنا پسماندہ نہیں ہوتا ۔ یہ اقلیتی اداروں کی خستہ حالی کی بات کررہے ہیں ۔ آج اگر تنخواہیں نہیں ملی ہیں تو اقلیتی اداروں میں ونڈر سسٹم کا نفاذ کرنے والے تو کمل ناتھ جی ہیں ۔ کانگریس نے غلطی کی ہے تو اسے تسلیم کرنا چاہئے اور سماج سے معافی مانگنی چاہئے ۔ ہم دکھاوے کی سیاست نہیں کرتے ہیں ۔ کانگریس نے پچھلے بیس سال میں ایم پی سے کسی مسلم کو راجیہ سبھا بھیجا تو بتائے یاان بیس سالوں میں کانگریس نے کسی مسلم کو پارلیمنٹ کے الیکشن میں نمائندگی دی ہوتو بتائے مگر بی جے پی نے پچھلے پانچ سالوں میں ایم پی سے ایم جے اکبر اور نجمہ ہیپت اللہ کو راجیہ سبھا بھیجا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 23, 2020 09:12 PM IST