உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سادھوی پرگیہ بولیں ہندستان میں حجاب کی ضرورت نہیں، مسلم تنظیموں نے بیان پر کیا سخت ردعمل کا اظہار

    سادھوی پرگیہ نے مسلم عورت کو جہاں گھر میں حجاب پہننے کا مشور دیا ہے وہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندستان جیسے ملک میں جہاں عورت کا وقار بہت بلند ہے وہاں پر حجاب کی ضرورت نہیں ہے ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں حجاب پر پابندی اور ڈریس کوڈ کو لیکر شیوراج سنگھ سرکار نے بھلے ہی بار بار وضاحت کردی ہو کہ اس صوبہ میں حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے اس کے باؤجود بی جے پی لیڈران کے حجاب پر بے تکے بیان جاری ہے ۔ بھوپال رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ نے مسلم عورت کو جہاں گھر میں حجاب پہننے کا مشور دیا ہے وہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندستان جیسے ملک میں جہاں عورت کا وقار بہت بلند ہے وہاں پر حجاب کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہیں مسلم تنظیموں نے سادھویہ پرگیہ کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں رگ وید کو پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔
    بھوپال رکن پارلیمنٹ نے سادھوی پرگیہ نے بھوپال میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کے دوران حجاب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔سادھوی پرگیہ کا کہنا ہے کہ خجاب بڑھاپا چھپانے کے لئے لگایا جاتا ہے اور حجاب چہرہ چھپانے کے لئے ۔اس میں کے ہندوؤں کی نظر بری نہیں ہے اور جس ملک میں عورت کو بلند مقام دیا گیا ہے جہاں دیوی کی پوجا کی جاتی ہے وہاں پر حجاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مسلم لڑکیوں کو اپنے ہی گھروں میں خطرہ ہے جہاں کوئی کسی سے بھی شادی کرلیتا ہے ۔اس لئے اپنوں کی بری نظر سے بچنے کے لئے انہیں گھروں میں حجاب پہننا چاہیئے ۔آپ کے مدرسے ہوتے ہیں وہاں خْوب حجاب پہنیں لیکن اسکولوں اور کالجوں میں اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔


    وہیں مائنارٹیز یونائیٹیڈ آرگنائزیشن مدھیہ پردیش کے سکریٹری عبدالنفیس نے سادھوی پرگیہ کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ عبدالنفیس کا کہنا ہے کہ سادھوی نہ تو آئین ہند کو جانتی ہیں اور نہ ہی انہوں نے ہندو دھرم گرنتھوں کو کبھی پڑھا ہے ۔ عورت کے لباس اور جسم ڈھکنے کو لیکر ہندو دھرم گرنتھ میں کیا پیغام ہے اگر سادھوی اسے پڑھ لیں تو اپنے بیان سے توبہ کریں گی۔ رگ وید جلد دو کے باب آٹھ میں واضخ طور پر لکھا ہے کہ جسم کو کھلا رکھنے اور نیم برہنہ جسم سےشہوانیت پیداہوتی ہے اس لئے عورتیں اپنے جسم کو ڈھک کر رکھیں۔رگ وید کی کاپی سادھوی پرگیہ کوپڑھنے کے لئے پیش کی جائے گی تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: