ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

گنگا جمنی تہذیب کی شاندار مثال، مسلم نوجوانوں نے دیا پڑوسی ہندو خاتون کے جنازے ( ارتھی) کو کندھا

جھارکھنڈ کے شہر رام گڑھ کے دوسادھ محلہ میں درجنوں مسلمانوں نے کورونا وبا کے ماحول میں نہ صرف ایک ہندو پڑوسی کے آخری رسومات کا پورا انتظام کیا بلکہ جنازے (ارتھی) کو دو کیلو میٹر دور دریا دامودر ندی کے قریب شمشان گھاٹ تک کندھا دے کر پہنچایا۔

  • Share this:
گنگا جمنی تہذیب کی شاندار مثال، مسلم نوجوانوں نے دیا پڑوسی ہندو خاتون کے جنازے ( ارتھی) کو کندھا
مسلم نوجوانوں نے دیا پڑوسی ہندو خاتون کے جنازے ( ارتھی) کو کندھا

رانچی: ہجومی تشدد میں علیم الدین انصاری کا بہیمانہ قتل اور اس معاملے میں گرفتار لوگوں کی رہائی اور خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے مرکزی وزیر جینت سنہا کے ذریعے ملزموں کے والہانہ استقبال کی خبروں سے چرچہ میں رہے رام گڑھ میں قومی یکجہتی کی انوکھی مثال دیکھنے کو ملی ہے۔ ریاست جھارکھنڈ کے شہر رام گڑھ کے دوسادھ محلہ میں درجنوں مسلمانوں نے کورونا وبا کے ماحول میں نہ صرف ایک ہندو پڑوسی کے آخری رسومات کا پورا انتظام کیا بلکہ جنازے (ارتھی) کو دو کیلو میٹر دور دریا دامودر ندی کے قریب شمشان گھاٹ تک کندھا دے کر پہنچایا۔


رام گڑھ شہر کے دوسادھ محلہ کے لوگوں نے ملک بھر میں ہندو اور مسلم کے درمیان پیدا شدہ دوری کے اس دور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نئی مثال پیش کی ہے۔ دوسادھ محلہ کی بزرگ خاتون کی موت کے بعد ان کے واحد فرزند پروشتم کمار اس فکر سے پریشان تھے کہ اس کورونا وبا کے نازک ماحول میں آخری رسومات کس طرح ادا کی جائے۔ اپنے معاشرے اور آس پاس کے رہنے والے خاندانوں سے انہوں نے مدد کی درخواست کی، لیکن کورونا کی وجہ سے پڑوس کے سبھی خاندانوں نے آخری رسومات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد متوفی خاتون کے صاحبزادے نے مسلم معاشرہ کے لوگوں سے مدد کی درخواست کی۔ ان کی باتوں کو سننے کے بعد مسلمانوں نے ایک سر میں کہا کہ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم سبھی ملکر آپ کی ماں (ماتا) کے آخری رسوم (انتم سنسکار) کے سارے عمل مکمل کریں گے۔


 جھارکھنڈ کے شہر رام گڑھ کے دوسادھ محلہ میں درجنوں مسلمانوں نے کورونا وبا کے ماحول میں نہ صرف ایک ہندو پڑوسی کے آخری رسومات کا پورا انتظام کیا بلکہ جنازے (ارتھی) کو دو کیلو میٹر دور دریا دامودر ندی کے قریب شمشان گھاٹ تک کندھا دے کر پہنچایا۔
جھارکھنڈ کے شہر رام گڑھ کے دوسادھ محلہ میں درجنوں مسلمانوں نے کورونا وبا کے ماحول میں نہ صرف ایک ہندو پڑوسی کے آخری رسومات کا پورا انتظام کیا بلکہ جنازے (ارتھی) کو دو کیلو میٹر دور دریا دامودر ندی کے قریب شمشان گھاٹ تک کندھا دے کر پہنچایا۔


اس کے بعد ان کے پڑوسی محمد عمران، محمد شاہنواز، محمد عادل، محمد عاشق، محمد سمیع عرف سنی سمیت مسلم سماج کے کئی لوگوں نے مل کر آخری رسومات کے عمل کو مکمل کیا۔ آخری رسومات ادا کرنے کے بعد متوفی خاتون کے صاحبزادے اور ان کے پڑوسی مسلمانوں نے کہا کہ انسانیت کے رشتوں میں مذہب کبھی آڑے نہیں آتا ہے۔ مسلم نوجوانوں نے کہا کہ ہم نے وہی کیا جو کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہب اہم نہیں ہے۔بلکہ مصیبت کے وقت اپنے پڑوسی کی مدد کرنا ہمارے اولین فریضہ میں سے ایک ہے۔
First published: Jun 14, 2020 05:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading