ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : مرواس میں لکھی گئی مشترکہ تہذیب کی نئی تاریخ ، مسلمانوں نے کیا ایسا کام ، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف

چھوٹی بیٹی کی شادی کے دوسرے دن جب بیٹی کی رحضتی ہوگئی اور عزیز و اقارب اپنے گھروں کو چلے گئے تبھی اچانک کومل بائی کو دل کو دورہ پڑا ۔ گھر میں کسی کے نہ ہونے سے کومل بائی کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگیا ۔ جب تک محلے والے کومل بائی کو اسپتال لے جاتے کومل بائی نے دنیائے فانی کو خیر آباد کہہ دیا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : مرواس میں لکھی گئی مشترکہ تہذیب کی نئی تاریخ ، مسلمانوں نے کیا ایسا کام ، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف
مدھیہ پردیش : مرواس میں لکھی گئی مشترکہ تہذیب کی نئی تاریخ ، مسلمانوں نے کیا ایسا کام ، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف

کورونا وائرس کے قہر میں جہاں کچھ لوگ اپنوں سے دور ہوتے جارہے ہیں وہیں مشترکہ تہذیب کے تانے بانے میں بندھا ہوا ہمارا سماج اپنے اقدام سے ایسی نایاب مثالیں پیش کررہا ہے کہ دیکھ اور سن کر عقل حیران ہوجاتی ہے ۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے ستر کلو میٹر کی دوری پر واقع ضلع ودیشہ کی تحصیل لٹیری کے گاؤں مرواس میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا ، جس سے انسانیت کا سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے۔


لٹیری کے گاؤں مرواس میں کومل بائی اہلیہ  گنگا رام آہیروار کا گھرانہ رہتا ہے ۔ گنگا رام آہیروار کا انتقال کچھ سال پہلے ہو چکا ہے ۔ دو بیٹیاں تھیں ، ان کی بھی شادی ہوچکی ہے ۔ چھوٹی بیٹی کی شادی کے دوسرے دن جب بیٹی کی رحضتی ہوگئی اور عزیز و اقارب  اپنے گھروں کو چلے گئے تبھی اچانک کومل بائی کو دل کو  دورہ پڑا ۔ گھر میں کسی کے نہ ہونے سے کومل بائی کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگیا ۔ جب تک محلے والے کومل بائی کو اسپتال لے جاتے کومل بائی نے دنیائے فانی کو خیر آباد کہہ دیا ۔ کومل بائی کے انتقال کی خبر گاؤں میں پہنچی تو پہلے لوگوں نے ان کے عزیز و اقارب کا انتظار کیا ، لیکن جب شام تک کوئی نہیں آیا اور بیٹی  کے گھروالے بھی شام تک نہیں آسکے ، تو گاؤں کے مسلم سماج کے لوگوں نے کومل بائی کی آخری رسومات ہندو ریتی ورواج سے کرنے کا فیصلہ کیا۔


لٹیری کے گاؤں مرواس میں کومل بائی اہلیہ گنگا رام آہیروار کا گھرانہ رہتا ہے ۔ گنگا رام آہیروار کا انتقال کچھ سال پہلے ہو چکا ہے ۔ دو بیٹیاں تھیں ، ان کی بھی شادی ہوچکی ہے ۔
لٹیری کے گاؤں مرواس میں کومل بائی اہلیہ گنگا رام آہیروار کا گھرانہ رہتا ہے ۔ گنگا رام آہیروار کا انتقال کچھ سال پہلے ہو چکا ہے ۔ دو بیٹیاں تھیں ، ان کی بھی شادی ہوچکی ہے ۔


ایسا نہیں ہے کہ مرواس گاؤں میں ہندو سماج کے لوگ نہیں رہتے ہیں ۔ یہاں پر مسلم سماج کے ساتھ ہندو سماج کی بھی بڑی آبادی ہے ، لیکن کومل بائی کا تعلق دلت ہربار سماج سے ہے ، اس لئے بھی بہت سے لوگ ان کی آخری رسومات کے لئے آگے نہیں آئے ۔ گاؤں مرواس کے مسلم سماج کے لوگوں نے جب دیکھا کہ کومل بائی کی ارتھی اٹھارہ گھنٹے سے گھر میں رکھی ہے اور کوئی آگے نہیں آرہا ہے ، تو گاؤں کے خالد خان اور عمر خان نے کومل بائی کی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ خالد خان اور عمر خان کا آگے بڑھنا تھا کہ گاؤں کے ڈاکٹرمن پھول کشواہ ، سنتوش نامدیو ، ڈاکٹر گنیش سکسینہ بھی آگے آئے اور کومل بائی کی آخری رسومات ہندو ریتی رواج کے ساتھ کی گئی ۔ جب لوگ کومل بائی کی آخری رسومات ادا کرکے شمشان گھاٹ سے واپس گاؤں آرہے تھے ، تب کہیں کومل بائی کے رشتہ گاؤں میں داخل ہورہے تھے ۔

ڈاکٹر گنیش سکسینہ جو مرواس گرام سرپنچ کے نمائندے ہیں ، کہتے ہیں کہ یہ پہلی بار ہم نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ اتحاد کیا ہوتا ہے ۔ کومل بائی کی آخری رسومات کو ادا کرنے میں دیری کی وجہ جہاں ان کے رشتہ داروں کا وقت پر نہ پہنچنا ہے اور وہیں ان کا پچھڑی ذات سے ہونا بھی تھا ۔ لیکن جب مسلم سماج کے لوگ خالد خان اور عمر خان کی قیادت میں آگے آئے ، تو گاؤں میں رہنے والے دوسرے سماج کے لوگ بھی آگے آئے اور پھر سب نے مل کر کومل بائی کی آخری رسومات ادا کی۔

گاؤں مرواس کے مسلم سماج کے لوگوں نے جب دیکھا کہ کومل بائی کی ارتھی اٹھارہ گھنٹے سے گھر میں رکھی ہے اور کوئی آگے نہیں آرہا ہے ، تو گاؤں کے خالد خان اور عمر خان نے کومل بائی کی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔
گاؤں مرواس کے مسلم سماج کے لوگوں نے جب دیکھا کہ کومل بائی کی ارتھی اٹھارہ گھنٹے سے گھر میں رکھی ہے اور کوئی آگے نہیں آرہا ہے ، تو گاؤں کے خالد خان اور عمر خان نے کومل بائی کی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔


گاؤں مرواس میں رہنے والے خالد خان کہتے ہیں کہ جب ہم نے دیکھا کہ کومل بائی کے انتقال کو بہت دیر ہوگیا ہے اور ان کے رشتہ دار کسی وجہ سے پہنچ نہیں رہے ہیں ، تو ہم نے ان کی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ دوسرے سماج میں چھوا چھوت ہو تو ہو ، اسلام میں سب آدم کی اولاد ہیں اور کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہے ۔ ہم نے انسانیت کا فرض ادا کیا ہے  اور یہی ہمارے مذہب میں سکھایا جاتا ہے ۔ گنگا رام آہیروار اور ان کی بیوی کو ہم نے اسی گاؤں میں برسوں دیکھا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر کسی کا رشتہ دار کسی مشکل میں ہے اور نہیں آپا رہا ہے تو اس کی آخری رسومات ادا نہ کی جائے ۔ ہم لوگ جب کومل بائی کی آخری رسومات ادا کر کے شمشان گھاٹ سے گھر پہنچے ، تبھی کومل بائی کے رشتہ دار گاؤں میں داخل ہوئے ۔
First published: Jun 30, 2020 11:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading