உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انسانیت ابھی زندہ ہے: محبتوں کی برسات کا انوکھا نمونہ بھوپال میں دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ہو گئیں نم

    محبتوں کی برسات کا انوکھا نمونہ بھوپال میں دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ہو گئیں نم

    محبتوں کی برسات کا انوکھا نمونہ بھوپال میں دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ہو گئیں نم

    سماجی کارکن اور آل انڈیا ملی کونسل بھوپال یونٹ کے رکن انور پٹھان کہتے ہیں کہ کورونا کے قہر میں لوگ اتنا خوفزدہ ہیں کہ لوگوں نے سماجی رشتوں کے اس بندھن کو توڑ دیا ہے۔ سماجی بندھن کیا اب تو خون کے رشتے بھی منھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔

    • Share this:
    مرے مولی تو بس اک بات کردے
    ہراک سو امن کے حالات کردے
    جہاں پر آگ پھیلے نفرتوں کی
    محبت کی وہاں برسات کردے

    محبتوں کی برسات کا انوکھا نمونہ  مشترکہ تہذیب کے شہر بھوپال میں دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ بھوپال عید گاہ ہلز کے سنجے نگر میں رہنے والے  ایکسٹھ سالہ کرشنا سونی کئی مہینوں سے آستھا کے مریض تھے اور گھر پر رہ کر ہی اپنا علاج کروا رہے تھے۔ کل رات جب اچانک انکی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور انہیں ہارٹ اٹیک آیا تو انہیں علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن وہ صحت یاب  نہیں ہو سکے۔

    کرشنا سونی بھوپال میں اکیلے رہتے تھے ۔ان کا یہاں پر کوئی نہیں تھا۔انہوں نے ایک بچے کو گود لے رکھا تھا ۔لیکن اکیلاشخص کسی انسان کو کندھا کیسے دے سکتا ہے۔ کندھا دینے کے لئے بھی چار لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔کرشنا سونی کے منھ بولے بیٹے نے کئی لوگوں سے درخواست کی لیکن کوئی بھی کورونا کے قہر میں مدد کرنے کو تیار نہیں ہوا۔ حالانکہ کرشنا سونی کو کورونا نہیں تھا اور ان کی موت بھی کورونا سے نہیں بلکہ ہارٹ اٹیک سے ہوئی تھی۔ اس کے باوجود جب کوئی نہیں آیا تو کرشنا سونی کے منھ بولے بیٹے نے امید چھوڑ دی کہ اب شاید ہی وہ اپنے سرپرست کی آخری رسومات کو ادا کر سکے ۔ ناامیدی کی اس گھڑی میں بھوپال کے سماجی کارکن انور پٹھان کرشنا سونی کے منھ بولے بیٹے کے لئے مسیحا بن کر آئے ۔ انور پٹھان نے نہ صرف کرشنا سونی کی آخری رسومات کا اتنظام کیا بلکہ بھوپال کے چھولا وشرام گھاٹ پر اپنے دوستوں کے ساتھ میت کو لے جاکر ہندو ریتی رواج سے کرشنا سونا کی آخری رسوم  ادا کی۔

    سماجی کارکن اور آل انڈیا ملی کونسل بھوپال یونٹ کے رکن انور پٹھان کہتے ہیں کہ کورونا کے قہر میں لوگ اتنا خوفزدہ ہیں کہ لوگوں نے سماجی رشتوں کے اس بندھن کو توڑ دیا ہے۔ سماجی بندھن کیا اب تو خون کے رشتے بھی منھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔ میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ ایک فون آیا اور مجھے بتایا گیا کہ بھوپال  عید گاہ ہلز سنجے کالونی کے کرشنا سونی کا انتقال ہوگیا ہے لیکن ان کی آخری رسومات ادا نہیں ہو پا رہی ہے۔ مجھے یہ فون کرشنا سونی کے منھ بولے بیٹے نے کیا تھا۔ کرشنا سونی انسانیت کے علمبردار تھے ۔ وہ ہندو تھے لیکن انہوں نے ایک مسلم بچے سلمان خان کی پرورش کی تھی ۔ مشکل کی اس گھڑی میں سلمان خان سے کچھ نہیں بن پا رہا تھا اور پڑوسی مدد کو تیار نہیں تھے تو اس نے مجھ سے مدد مانگی تھی۔ میں فورا گھر سے نکل پڑا اور اپنے دوستوں کے ساتھ سلمان کے پاس گیا اور کرشنا سونی کی اسی انداز میں آخری رسومات ادا کی جیسے وہ اپنے منھ بولے بیٹے سلمان سے چاہتے تھے۔

    دنیا کا سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہے۔ ہمارے مذہب نے ہمارے انسانیت کے کام آنے کا درس دیا ہے۔ میں نے اسی کام کو کیا ہے تاکہ دنیا میں انسانیت زندہ رہے ۔بس لوگوں سے یہی اپیل ہے کہ چار دن کی زندگی میں محبتوں کو عام کریں ۔کرشنا سونی بھی محبتوں کا یہی پیغام دے کر ہم کو دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ وہیں کرشنا سونی کے منھ بولے سلمان خان کہتے ہیں کہ کرشنا سونی کی نوازشیں اتنی ہیں کہ ان کا بیان لفظوں میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک سرپرست کی طرح مجھ پر محبتیں لٹائی ہیں ۔خود تکلیف سہی لیکن مجھ پر کبھی مشکلوں کا سایہ بھی نہیں آنے دیا۔ میرے محسن کا جب انتقال ہوا تو میں اندر سے بالکل ٹوٹ سا گیا تھا۔ محسن کی آخری رسومات بھی ادا کرنا تھا لیکن مشکل کی اس گھڑی میں پاس پڑوس کے لوگوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔ مشکل کی اس گھڑی میں انور پٹھان اور ان کے دوست مسیحا بن کر آئے اور میں نے ان کے ساتھ مل کر ان کی آخری رسومات ہندو ریت رواج سے اسی طرح کی جیسا ان کا خواب تھا۔مشکل کی اس گھڑی میں لوگوں کا شکریہ اداکرنا ایک روایتی لفظ لگتا ہے ۔ بس اللہ سے دعا ہے کہ نفرتوں کو چھوڑکر محبتوں کو عام کریں ۔دنیاکو اسی محبت کی ضرورت ہے ۔چرن سنگھ بشر نے بہت کہا ہے :
    یہ دنیا نفرتوں کی آخری اسٹیج میں ہے
    علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: