உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھلوانے کیلئے مہم کا آغاز ، تمام ائمہ مساجد سے کی گئی یہ خاص اپیل

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھلوانے کیلئے مہم کا آغاز ، تمام ائمہ مساجد سے کی گئی یہ خاص اپیل

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھلوانے کیلئے مہم کا آغاز ، تمام ائمہ مساجد سے کی گئی یہ خاص اپیل

    اقرأ مسجد کے خطیب عبیداللہ قاسمی اور شہر قاضی قاری جان محمد رضوی نے واضح کیا کہ وہ اس مہم کے ذریعہ جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ تاکہ ریاست میں عبادت گاہیں کھولنے کے تعلق سے حکومت کے احکامات جاری کئے جائیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جھارکھنڈ میں مساجد کو عبادت کے لئے کھلوانے کی مہم کی شروعات کی گئی ہے ۔ رانچی کے اقرأ مسجد کے خطیب و مرکزی مجلس علماء جھارکھنڈ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی اور رانچی کے شہر قاضی قاری جان محمد رضوی نے مہم کی شروعات کرتے ہوئے رانچی ضلع کے تمام ائمہ مساجد اور ذمہ داران سے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے نام خطوط لکھنے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے ائمہ مساجد اور ذمہ داران سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ لیٹر پیڈ پر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے نام سے مساجد میں عبادت کرنے کے لئے عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت دینے کی اپیل کرتے ہوئے خط لکھیں اور اسکے بعد 20 ستمبر تک اقرأ مسجد میں جمع کریں ۔ تاکہ ان خطوط کو وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین تک پہنچایا جا سکے۔

    اقرأ مسجد کے خطیب عبیداللہ قاسمی اور شہر قاضی قاری جان محمد رضوی نے واضح کیا کہ وہ اس مہم کے ذریعہ جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ تاکہ ریاست میں عبادت گاہیں کھولنے کے تعلق سے حکومت کے احکامات جاری کئے جائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 20 ستمبر تک موصولہ تمام خطوط کے ساتھ ایک وفد وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کرے گا اور عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کرے گا ۔

    ریاست میں کورونا وبا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ریاستی حکومت کے ذریعہ لاک ڈاؤن کی میعاد میں اضافہ کرتے ہوئے 31 اگست سے 30 ستمبر کر دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس تعلق سے جاری ایڈوائزری میں شاپنگ مال ، سیلون اور بیوٹی پارلر کھولنے اور ریاست کے اندر سواری گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ لیکن عبادت گاہوں کو کھولنے کے موضوع پر حکومت خاموش ہے ۔

    اس سے قبل بھی لاک ڈاؤن میں راحت دیتے ہوئے تجارتی مراکز وغیرہ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ تاہم عبادت گاہوں کے تعلق سے حکومت کی خاموشی سے علمائے کرام و متقی پرہیزگار لوگوں میں غم و غصہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کورونا کے بڑھتے خطرات میں علمائے کرام کی مہم کے تناظر میں حکومت کس طرح کا فیصلہ لیتی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: