உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوابین بھوپال کے نام سے یاد گار قائم کرنے کا شروع کیا سلسلہ

    بھوپال میں یہ پہلا موقع ہے جب سابق وزیر وبھوپال شمال اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی عارف عقیل نے نوابین بھوپال کے نام سے یادگارقائم کرنے کا سلسلہ شروع کیاہے۔

    بھوپال میں یہ پہلا موقع ہے جب سابق وزیر وبھوپال شمال اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی عارف عقیل نے نوابین بھوپال کے نام سے یادگارقائم کرنے کا سلسلہ شروع کیاہے۔

    بھوپال میں یہ پہلا موقع ہے جب سابق وزیر وبھوپال شمال اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی عارف عقیل نے نوابین بھوپال کے نام سے یادگارقائم کرنے کا سلسلہ شروع کیاہے۔

    • Share this:
    بھوپال کو نوابوں کی نگری کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ریاست بھوپال پر تقریبا ڈھائی سو سال تک نو مرد اور چار بیگمات نے حکومت کی تھی۔ بھوپال کے نوابوں کے عظیم المثل کارناموں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں مگر یہ بھی وقت کی ستم ظریفی ہے کہ مدھیہ پردیش کے قیام کے بعد بہت سی حکومتیں قائم ہیں لیکن کسی نے نوابین بھوپال کے نام سے کوئی یاد گارقائم نہیں کی ۔ بھوپال میں یہ پہلا موقع ہے جب سابق وزیر وبھوپال شمال اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی عارف عقیل نے نوابین بھوپال کے نام سے یادگارقائم کرنے کا سلسلہ شروع کیاہے۔ ابتدائی طور پر بھوپال عید گاہ ہلزپر پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے بانی ریاست بھوپال سردار دوست محمد خان اور نواب شاہجہاں بیگم کے نواب سے سبیل قائم کی گئی ہے ۔
    سابق وزیر و ایم ایل عارف عقیل کہتے ہیں کہ نوابین بھوپال نے یہاں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے بہت کچھ کیا ہے لیکن ہماری حکومتیں ان کے نام پر کچھ نہیں کرنا چاہتی ہیں ۔ یہاں پر پانی کے مسائل کو لیکر بہت سی شکایتیں تھیں تو نوابین بھوپال کے نام سے یادگارقائم کرتے ہوئے دو سبیلوں کو قائم کیاگیا ہے ۔ ایک سبیل بانی ریاست بھوپال دوست محمد خان کے نام سے قائم کی گئی ہے جبکہ دوسری سبیل تیسری خاتون نواب شاہجہاں بیگم کے نام سے قائم کی گئی ہے ۔ نواب شاہجہاں بیگم نے ہی عید گاہ ہلز اور تاریخ عید گاہ کو قائم کیاتھا۔ یہ ابھی کام کی ابتدا ہے جتنے بھی نوابین گزرے ہیں ان شا اللہ سبھی کے نام سے یاد گاریں قائم ہونگی۔
    وہیں نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق خالد محمد خان کہتے ہیں کہ عارف عقیل سے جو تاریخی قدم اٹھایا ہے اس کے لئے جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے قائم ہے ۔ بھوپال کو نوابوں کا شہر کہا جاتا ہے لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے کوئی یادگارقائم نہیں کی ہے ۔ اس طرح کے قدم سے نہ صرف یادگاریں قائم ہونگی بلکہ نئی نسل کو اپنے اسلاف کی تاریخ کو قریب سے جاننے کا موقعہ ملے گا۔
    وہیں مقامی بانشدہ ایڈوکیٹ امت ارورا کہتے ہیں کہ بھوپال کی شان بھوپال کے نواب تھے ۔ نواب مسلمان ہوتے تھے مگر ان کے وزیر ہمیشہ ہندو ہوتے تھے ۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں جتنی بھی سرکاریں بنی ہیں سب نے ایک ذہن کے ساتھ نوابین کی یادگار کو مٹانے کا کام کیا ہے ۔ اب عارف عقیل صاحب نے جو قدم اٹھایا ہے تو یہ وقت کی ضرورت ہے ۔
    بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
    Published by:Sana Naeem
    First published: