ہوم » نیوز » امراوتی

طلبا کو اردو سکھانے کے ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرانے میں این سی پی یوایل کا اہم رول

رانچی۔ جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سینٹر قائم ہیں۔ یہ سینٹر اردو زبان اور کمپیوٹر کے مختلف کورس سے طلبا کو روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرانے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

  • ETV
  • Last Updated: Jul 29, 2017 05:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلبا کو اردو سکھانے کے ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرانے میں این سی پی یوایل کا اہم رول
رانچی۔ جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سینٹر قائم ہیں۔ یہ سینٹر اردو زبان اور کمپیوٹر کے مختلف کورس سے طلبا کو روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرانے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

 رانچی۔ جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سینٹر قائم ہیں۔ یہ سینٹر اردو زبان اور کمپیوٹر کے مختلف کورس سے طلبا کو روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرانے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ جھارکھنڈ کے کئی شہروں میں قائم سینٹر میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے کورس سے طلبا و طالبات کو واقف کرایا جا رہا ہے۔ دارالحکومت رانچی کے کانٹاٹولی نامی مقام میں بھی این سی پی یو ایل کا سینٹر قائم ہے۔ اس سینٹر پر طلبا و طالبات اردو زبان کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کے مختلف کورس سے واقف ہو رہے ہیں۔ اس سینٹر پرکثیر تعداد میں نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم طلبا و طالبات بھی این سی پی یو ایل کے کورس کی تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔


اساتذہ کے مطابق این سی پی یو ایل کے کورس بیحد آسان ہیں جس کی وجہ سے انہیں درس و تدریس میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔ اساتذہ کے مطابق این سی پی یو ایل کے ڈریم نامی ایک نئے کورس سے بھی طلبا کو واقف کرایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے یہ ڈپلومہ کورس پوری طرح جاب اورینٹیڈ ہے۔ اساتذہ کے مطابق اس کورس کی جانب طلبا راغب ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سینٹر مرکز ادب و سائنس نامی ٹرسٹ کے زیر انتظام چلایا جاتا ہے۔ ۱۹۹۹ سے قائم اس چیریٹیبل ٹرسٹ کے تحت این سی پی یو ایل کے دو سینٹر قائم ہیں۔ ٹرسٹ کے بانی اور سنیٹر ڈائرکٹر پروفیسر احمد سجاد کے مطابق اس سینٹر سے این سی پی یو ایل کورس کے ہزاروں فارغین طلبا و طالبات ملک و بیرون ممالک میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ جھارکھنڈ میں اقلیتی آبادی تعلیمی اعتبار سے پسماندگی کا شکار ہے وہیں سرکاری سطح پر اردو زبان کی ترقی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ ریاست میں قائم این سی پی او ایل کے سنٹر سے نہ صرف اردو زبان کا فروغ ہو رہا ہے بلکہ سند یافتہ طلبا و طالبات کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہو رہے ہیں۔

First published: Jul 29, 2017 05:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading