உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bulli Bai App Case: ماسٹر مائنڈ کا نکلا مدھیہ پردیش کنیکشن، بھوپال کے کالج سے کررہا تھا B.Tech,یونیورسٹی انتظامیہ نے کیا سسپنڈ

    Bulli Bai app بنانے والے نیرج کا نکلا مدھیہ پردیش کنیکشن۔

    Bulli Bai app بنانے والے نیرج کا نکلا مدھیہ پردیش کنیکشن۔

    نیرج کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اُس نے دو سال پہلے ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا، لیکن کورونا وبا کی وجہ سے وہ کبھی کالج ہی نہیں آیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ’بلی بائی ایپ‘(Bulli Bai App Case) معاملے کا کنیکشن الگ الگ ریاستوں سے جڑتا جارہا ہے۔ اب اس معاملے میں مدھیہ پردیش کنیکشن سامنے آیا ہے۔ دراصل دلی پولیس نے اس معاملے کے اہم ملزم 20 سال کے نوجوان نیرج بشنوئی کو گرفتار کیا ہے۔ نیرج مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کی پرائیوٹ یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ ہے۔ ملزم ویللور انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (VIT)کے سیہور کیمپس میں کمپیوٹر صائنس، B.Tech کا سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے۔ نیرج نے دو سال پہلے ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا۔

      نیرج کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اُس نے دو سال پہلے ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا، لیکن کورونا وبا کی وجہ سے وہ کبھی کالج ہی نہیں آیا۔ یہ پورا معاملہ سامنے آنے کے بعد کالج انتظامیہ نے نیرج کو سسپنڈ کردیا ہے۔ بتادیں کہ اس معاملے میں پولیس اب تک 4 لوگوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ ’بلی بائی ایپ‘ میں اُس کا نام آنے کے بعد سے سیہور پولیس بھی سرگرم ہوگئی ہے۔

      یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ اس کیس سے ہمارا کوئی لینا دینانہیں ہے
      یونیورسٹی مینجمنٹ کے ذمہ دار امیت سنگھ کا کہنا ہے کہ نیرج بشنوئی نے 2020 میں کالج میں ایڈمیشن لیا تھا، لیکن اُس نے ایک بار بھی کالج آکر کلاس اٹینڈ نہیں کی ہے۔ وہ آن لائن کلاس اٹینڈ کررہا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اس معاملے سے یونیورسٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

      پولیس نے چار ملزمین کو اب تک کیا ہے گرفتار
      اس معاملے میں پولیس نے اب تک چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس میں ایک اُتراکھنڈ کی رہنے والی 18 سال کی شویتا سنگھ ہے۔ اسی کے ہی ساتھ 20 سال کے میانک راوت اور 21 سال کے وشال کمار جھا کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ چوتھا ملزم اور ماسٹر مائنڈ نیرج بشنوئی ہے۔ نیرج راجستھان کے ناگور کا رہنے والا ہے۔

      بلی بائی ایپ پر کی جاتی تھی مسلم خواتین کی نیلامی
      بلی بائی ایپ کے ذریعے مسلم طبقے کی خواتین کی تصویریں لگا کر ان کی بولی لگانے کا کام کیا جاتا ہے۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ شویتا سنگھ ایک دیگر ملزم کے ساتھ متنازع ایپ کو کنٹرول کرتی تھی۔ اُس نے ہی ایپ کا ٹوئٹر ہینڈل بھی بنایا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: