உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال میں علامہ اقبال کی برسی پر کسی تقریب کانہیں کیا گیا انعقاد، اقبال کی یاد گار بھی خستہ حالی کا شکار

    علامہ کی برسی کے موقع پر نہ صرف اقبال کو فراموش کیا گیا ہے بلکہ اقبال سے وابستہ یادگاریں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ واضخ رہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے وطن کے بعد نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کے شہر بھوپال میں سب سے زیادہ قیام کیاتھا۔

    علامہ کی برسی کے موقع پر نہ صرف اقبال کو فراموش کیا گیا ہے بلکہ اقبال سے وابستہ یادگاریں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ واضخ رہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے وطن کے بعد نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کے شہر بھوپال میں سب سے زیادہ قیام کیاتھا۔

    علامہ کی برسی کے موقع پر نہ صرف اقبال کو فراموش کیا گیا ہے بلکہ اقبال سے وابستہ یادگاریں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ واضخ رہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے وطن کے بعد نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کے شہر بھوپال میں سب سے زیادہ قیام کیاتھا۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کو شاعر مشرق علامہ اقبال سے خاص نسبت کے سبب دارالاقبال کہا جاتا ہے ۔ علامہ کی برسی کے موقع پر نہ صرف اقبال کو فراموش کیا گیا ہے بلکہ اقبال سے وابستہ یادگاریں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ واضخ رہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے وطن کے بعد نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کے شہر بھوپال میں سب سے زیادہ قیام کیاتھا۔ انیس سو اٹھارہ سے انیس سو اڑتیس کے درمیان اقبال کا قیام بھوپال کی راحت منزل،ریاض منزل،شوکت محل اور شیش محل رہا ہے ۔ اقبال اس درمیان بھوپال کی ادبی و سیاسی تہذیبوں محفلوں کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ بھوپال میں رہ کر اقبال نے چودہ شاہکار نظمیں بھی تخلیق کی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کے انتقال کے بعد ملک میں سب سے بھوپال میں اقبال کی یاد میں لائبریری قائم کی گئی ۔ بھوپال میں اقبال مرکز قائم کرنے کے ساتھ اقبال میدان بھی قائم کیاگیا لیکن علامہ اقبال کی برسی کے موقع پر کسی بھی ادبی انجمن نے اقبال کو یاد کرنے کی زحمت نہیں کی ۔
    ممتاز ادیب اقبال مسعود کہتے ہیں کہ تاریخ کے اوراق میں بھوپال اور اقبال کو لیکر بہت سا کام کیاگیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ وقت میں اہل بھوپال اقبال کو یاد کرتے ہیں کہ نہیں ۔ماضی کو ہم نے دیکھا نہیں ہے پڑھا ہے اور ہمارے کانوں نے سنا ہے ۔ممنون حسن خان جب تک حیات تھے انہوں نے اقبال اور اقبالیات کے فروغ کے لئے کام کیا ۔کھرنی والے میدان کو اقبال میدان بنانے اور شیش محل کو اقبال یاد گار بنانے کو لیکر تحریک انہیں کی تھی۔

    ماہ صیام کاتیسرا اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کاہے، شب قدر، اعتکاف اور اس کی فضیلت

    انہوں نے جتنا ہو سکتا تھا کیا مگر ان کے بعد اب کوئی ایسی آواز نہیں ہے جو اقبال اور اقبالیات کو فروغ دینے کے لئے کام کرے۔ہم اس موقع پر سیاست کی بات نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ عام لوگوں کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ کتنے لوگوں کو اب اقبال یاد ہیں ۔کتنے لوگوں کو اس بات کا دکھ ہے کہ یہ شہر جس سے اقبال کا اتنا بڑا تعلق تھا،اس شہر جس نے اقبال پر اتنا بڑا احسان کیا تھا اس کو کتنا یاد کرتے ہیں اور اقبال نے اس احسان کا بدلا کیا دیا۔یہاں کے حکمراں کو جو شعر لکھ کر دیااس کی جو آخری لائن ہے کہ آپ کے ہاتھ میں جو کلام دے رہے ہیں وہ شاخ سے زیادہ تازہ ہیں۔کیا ہم اس کو تازہ رکھ سکے ۔کیا ہم نے اس کی اہمیت کو برقرار رکھا۔یہاں پر جو یاد گاریں بنیں سب ایک ایک کر کے مفقود ہوتی چلی گئیں اور ایک آواز بھی نہیں اٹھ رہی ہے کہ ہم اسے بچانے کے لئے آگے بڑھیں ۔ہم شیش محل حاصل کرلیتے اسے چھوڑیئے ،یہ جو اقبال میدان ہے اس کے ساتھ ہم نے کیا ۔یہ لمحہ فکریہ ہے ۔

    Afghanistan کے مزار شریف کی مسجد میں بڑا دھماکہ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ۔۔۔
    وہیں ممتاز ادیب ضیا فاورقی کہتے ہیں کہ موجودہ وقت میں کلام اقبال کی معنویت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ اقبال کلام آفاقی حیثیت کا حامل ہے ۔اقبال نے انسانیت کو سامنے رکھ کر بات کی ہے ۔انہوں نے انسان کی خود کوبیدار کیا ہے ۔ہمیں کلام اقبال پرپہلے سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہیں مد ھیہ پردیش جمعیت علما کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ بھوپال جسے دارالاقبال کہتے ہیں یہاں کے لوگ نہیں تھکتے ہیں۔

    آج انہوں نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ اقبال سے ان کا رشتہ اب رسمی ہے ۔ اگر انہیں اقبال ،کلام اقبال اور اس شہر کی اقبال کی عظمت رفتہ سے تعلق یاد ہوتا ہے تو آج نہ صرف ایک بلکہ کئی تقریب کاانعقاد ہوتا بلکہ اقبال مرکز کی مرکزی حیثیت بھی برقرار ہوتی اور اقبال میدان کی خستہ حالی بھی دور ہوتی ۔ ہم اس موقعہ پر اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ رمضان کے بعد اقبال میدان کی خستہ حالی دور کرنے اور اس کی تزین کاری کو لیکر جمعیت علما باقاعدہ تحریک چلائے گی اور تب تک تحریک جا ری رہے گے جب تک اقبال میدان کا وقار بحال نہیں ہو جاتا ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: