ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اے پی جے کلام کی برسی پر پروگرام کا انعقاد نہیں ہونے سے عاشقان اے پی جے کلام مایوس

اے پی جے کلام کی یوم ولادت اور برسی کے موقع پر ایم پی مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ ہر سال تقریب کا انعقاد کیاجاتا تھا ، مگر گزشتہ سال کی طرح امسال بھی کورونا کی وبائی بیماری اور حکومت کی پابندیوں کے سبب کسی تقریب کا انعقاد نہیں ہو سکا ۔ بھوپال کے دانشوروں نے اے پی جے کلام کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایم پی حکومت سے ان کی گرانقدر خدمات کو ایم پی کی درسگاہوں کے نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

  • Share this:
اے پی جے کلام کی برسی پر پروگرام کا انعقاد نہیں ہونے سے عاشقان اے پی جے کلام مایوس
اے پی جے کلام کی برسی پر پروگرام کا انعقاد نہیں ہونے سے عاشقان اے پی جے کلام مایوس

بھوپال : سابق صدر جمہوریہ ہند ابو الفاخر زین العابدین عبد الکلام ( اے پی جے عبد الکلام) کی برسی کے موقع پر بھوپال میں یاد کیا گیا ۔ اے پی جے کلام کی یوم ولادت اور برسی کے موقع پر ایم پی مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ ہر سال تقریب کا انعقاد کیاجاتا تھا ، مگر گزشتہ سال کی طرح امسال بھی کورونا کی وبائی بیماری اور حکومت کی پابندیوں کے سبب کسی تقریب کا انعقاد نہیں ہو سکا ۔ بھوپال کے دانشوروں نے اے پی جے کلام کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایم پی حکومت سے ان کی گرانقدر خدمات کو ایم پی کی درسگاہوں کے نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔


سابق صدر جمہوریہ ہند اور معروف جوہری سائنسدان اے پی جے عبد الکلام کی ولادت 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تمل ناڈو کے ایک متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی محنت اور عزم سے سائنس کے میدان میں وہ مقام حاصل کیا ، جس پر اہل ہندوستان کو فحر ہے ۔ اے پی جے عبد الکلام کا انتقال  27 جولائی 2015 کو دل کا دورہ پڑنے سے شیلانگ میں انتقال ہوا۔


ممتاز ادیب ڈاکٹر علی عباس امید کہتے ہیں کہ اے پی جے کلام نے سائنس اور تعلیم کے میدان میں ہندوستانیوں کو آگے بڑھنے کا نظریہ دیا تھا۔ آج اس نظریہ کو نہ صرف عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ بلکہ نئی نسل کے طلبہ کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ہم لوگ طلبہ کے بیچ ان کی تعلیمات کو لے کر پروگرام کا انعقاد کرنا چاہتے تھے ۔ مگر کورونا کی وبائی بیماری اور حکومت کی پابندیوں کے سبب پروگرام کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔ حالات جب بھی  ساز گار ہوں گے ، ہم اے پی جے کلام کی فکر کو لے کر پروگرام کا انعقاد کریں گے۔ ہمارا حکومت مدھیہ پردیش سے مطالبہ ہے کہ اے پی جے کلام کی خدمات کو ایم پی کی درسگاہوں کی نصاب کا حصہ بنایا جائے ، تاکہ نئی نسل ان کی تعلیمات سے استفادہ کرسکے۔


وہیں ممتاز ادیب پروفیسر نعمان خان کہتے ہیں کہ اے پی جے کلام ایک عظیم ساننسداں کے ساتھ ادیب اور شاعر اور عظیم انسان تھے ۔ انہوں نے اپنے عمل سے کر کے بتایا کہ کس طرح سے نامساعد حالات میں بھی تعلیم حاصل کرکے منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ہمارے طلبہ جب ان کی تعلیمات کو پڑھیں گے ان کے ذہن کے گوشے منور ہوں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 27, 2021 08:19 PM IST