ہوم » نیوز » No Category

اڈیشہ اور مغربی بنگال کی سرحد پر آباد جھارکھنڈ کا یہ قصبہ برسات میں بن گیا جزیرہ، قصبہ صرف ٢٧ خاندان پر ہے مشتمل

تیراکی کے جانکار نوجوان قریب کے مالکنڈی نامی قصبہ سے اشیاء کی خریداری کر اسے دیگچی میں رکھ کر پھر اس دیگچی کو اپنے سروں پر اٹھائے پانی کے تیز بہاؤ سے گذرتے اپنے گھروں کو واپس آتے ہیں۔ پورے بارش کے موسم کے دوران یہاں کے لوگوں کو یرغمال ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔

  • Share this:
اڈیشہ اور مغربی بنگال کی سرحد پر آباد جھارکھنڈ کا یہ قصبہ برسات میں بن گیا جزیرہ، قصبہ صرف ٢٧ خاندان پر ہے مشتمل
اڈیشہ اور مغربی بنگال کی سرحد پر آباد جھارکھنڈ کا یہ قصبہ برسات میں بن گیا جزیرہ

مغربی بنگال اور اڑیسہ کے قریب آباد جھارکھنڈ کے بہرہ گورا اسمبلی حلقہ کے کمار ڈوبی پنچایت میں واقع پرتاپ پور قصبہ برسات کے دنوں میں جزیرہ بن جاتا ہے۔ ٢٧ خاندان پر مشتمل یہ قصبہ چاروں طرف سے دریا اور نالوں سے گھرا ہے ۔ بارش کے موسم میں ہر ایک سال تین ماہ تک یہ قصبہ جزیرہ بن جاتا ہے۔ جس وجہ سے قصبہ کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قصبہ کے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء لانے کی جب ضرورت ہوتی ہے تب مجبوراً جان جوکھم میں ڈال کر پانی کے تیز بہاؤ میں تیر کر جانا اور آنا پڑتا ہے ۔


تیراکی کے جانکار نوجوان قریب کے مالکنڈی نامی قصبہ سے اشیاء کی خریداری کر اسے دیگچی میں رکھ کر پھر اس دیگچی کو اپنے سروں پر اٹھائے پانی کے تیز بہاؤ سے گذرتے اپنے گھروں کو واپس آتے ہیں۔  پورے بارش کے موسم کے دوران یہاں کے لوگوں کو یرغمال ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ قصبہ کے لوگ ہر سال اپنی پریشانیوں سے انتظامیہ اور ارباب اقتدار کو آگاہ کرتے ہیں لیکن ان کے مسائل کے تئیں اب تک کوئی سنجیدہ حل نہیں نکالا گیا ہے۔ قصبہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ قریب میں راگڑو نامی گذرنے والی دریا کے اوپر پل کی تعمیر کرا دی جائے تو ان کی یہ پریشانی دور ہو سکتی ہے لکین انکے یہ مطالبات اب تک پورے نہیں کئے گئے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس دریا پر پل بنانے کا انکا یہ مطالبہ تقریباً تیس سال پرانا ہے لیکن علاقہ کے لوگوں کو اس مسئلہ سے ہر سال دوچار ہونا پڑتا ہے ۔


حاملہ خواتین اور بیمار لوگوں کو شدید پریشانی


اس قصبہ کے لوگ اپنا درد بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پرتاپ پور میں حاملہ خواتین اور بیمار لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کئی بار حاملہ خواتین کو بڑی گاڑیوں کے ٹیوب کے سہارے اسپتال پہنچانا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ قصبہ میں چھوٹے چھوٹے جملہ ٢٦ بچے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو طبی ضرورت پڑنے پر سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دریا کے  ایک کنارے پرتاپ پور اور دوسرے کنارے مالکنڈی قصبہ کے لوگ اکثر آمنے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور اپنے مسائل سے روشناس کراتے رہتے ہیں ۔ مالکونڈی قصبہ کے بھی چند مکانات بارش کے پانی میں ڈوب جاتے ہیں ۔ پرتاپ پور قصبہ کے لوگوں کو خدشہ لاحق ہے کہ مسلسل تین ماہ تک پانی بھرے رہنے کی وجہ سے کہیں ان کے مکانات زمین بوس نہ ہو جائیں۔ فی الحال اس قصبہ کے لوگ بارش کے موسم میں مختلف پریشانی اور دہشت میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 27, 2020 12:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading