உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کا حکومت سے مطالبہ، اب تو انصاف کردو سرکار

    پریس کانفریس میں آئے گیس متاثرین حکومت سے بس یہی کہتے نظر آئے کہ اب تو انصاف کردو سرکار۔

    پریس کانفریس میں آئے گیس متاثرین حکومت سے بس یہی کہتے نظر آئے کہ اب تو انصاف کردو سرکار۔

    حکومت کی عدم توجہی سے مایوس گیس متاثرین نے اپنے مطالبات کو لیکر بھوپال پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور حکومت سے ان کے مسائل کی جانب محبت کی نظر سے دیکھنے کا مطالبہ کیا۔پ

    • Share this:
    حکومت اگر کرنا چاہے تو سینتیس سال کا عرصہ کسی کام کو کرنے کے لئے بہت ہوتا ہے ۔بھوپال گیس سانحہ کو بیتے ہوئے سینتیس سال ہو چکے ہیں اور اس عرصہ میں مدھیہ پردیش ہی نہیں مرکز کی سطح پر بھی بہت سی حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں لیکن گیس متاثرین کے حالات بدلنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ حکومت کی عدم توجہی سے مایوس گیس متاثرین نے اپنے مطالبات کو لیکر بھوپال پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور حکومت سے ان کے مسائل کی جانب محبت کی نظر سے دیکھنے کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفریس میں آئے گیس متاثرین حکومت سے بس یہی کہتے نظر آئے کہ اب تو انصاف کردو سرکار۔  بھوپال گیس سانحہ کے متثرین نواب خان کہتے ہیں کہ سنتیس سال میں صرف حکومتوں کے وعدے سننے کو ملے ہیں اور کچھ نہیں ملا ہے ۔اب تو ان آنکھوں میں اتنے آنسو بھی نہیں بچے ہیں کہ اپنے لوگوں کو گیس سانحہ کی سیتنسویں برسی پر خراج عقیدت پیش کر سکیں۔ کسی حادثہ کے لئے سینتس سال بہت ہوتے ہیں ۔اگر حکومت انصاف دینا چاہتی تو گیس متاثرین کو علاج و معاوضہ بھی ملتا اور اس سانحہ کے ذمہ داران کو سزا بھی ۔

    وہیں بھوپال گروپ فار ایکشن اینڈ انفارمیشن کنوینر رچنا ڈھینگرا کہتی ہیں کہ بھوپال گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہاجاتا ہے لیکن افسوس کہ آج تک اس معاملے میں کسی کو بھی ایک لمحے کی بھی سزا نہیں ہوئی ہے ۔ حکومت سو کروڑ کی لاگت سے گیس حادثہ کی یاد میں میموریل بنا نا چاہتی ہے ۔ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا بغیر کارخانے کی صفائی کے میموریل بنایا جا سکتا ہے ۔ یونین کاربائیڈ کارخانہ کیمپس میں آج بھی ہزاروں ٹن کیمکل کچرا پڑا ہوا اور اس کی وجہ سے کارخانہ کے آس پاس کی قریب بیالیس بستیوں کا زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے ،پہلے اسے صاف کیا جانا چاہیے ۔ حکومت کو میموریل کی فکر تو ہے لیکن گیس متاثرین کے علاج و معاوضہ کی نہیں ۔

    یہ بچے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ان کی جانب بھی ایک بار محبت کی نطر سے دیکھ لے کہ انہیں بھی سماج میں جینے کا حق ہے ۔
    وہیں بھوپال گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی نوشین خان کہتی ہیں کہ آج نیلم پارک میں خراج عقیدت کے لئے جو لوگ آئے ہیں ان میں گیس متاثرین اور ان کے معذور بچے شامل ہیں ۔


    وہیں بھوپال گیس متاثرہ خاتون کملا دیوی کہتی ہیں کہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے گزشتہ سال گیس حادثہ کی بیوہ خواتین کو تاحیات پینشن جاری کرنے کااعلان کیاتھا۔ اب پھر تین دسمبر آنے والی ہے لیکن پینشن کے نام پر کچھ بھی نہیں ملا ہے ۔اپنوں کے غم میں رو رو کر آنکھیں بھی خشک ہو چکی ہیں ۔آپ ہی بتائیں کیا کریں ۔ وہ لوگ جو حادثہ میں ایک رات میں دنیا سے چلے گئے وہیں بہتر تھے ۔یہاں تو ہر روز ایک نئی قیامت سر سے گزرتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔
    واضح رہے کہ گیس متاثرین نے گیس سانحہ کی سینتیسویں برسی پر سینتس دن سینتس سوال کو لیکر دھرنا دیا تھا مگر حکومت کی جانب سے آج تاریخ تک حکومت کے کسی ذمہ دار نے انکی کوئی خبر نہیں لی۔ گیس متاثرین کی سبھی تنظیموں نے اب مسائل کو لیکر عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ سرکار کے خلاف بھی محاذ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: