ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک روزہ سیشن کا انعقاد ، فائنانس بل سمیت 12 بل پاس ، اقلیتی ادارے نظر انداز

کورونا قہر میں منعقد کئے گئے مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک روزہ سیشن سے دوسرے طبقات کے ساتھ اقلیتی اداروں اور اقلیتی طبقے کو بہت سی امیدیں تھیں ، مگر اسمبلی کے اس ایک روزہ خصوصی سیشن میں اقلیتی اداروں کے بجٹ میں کسی قسم کا اضافہ تو دور اقلیتی لفظ کا بھی استعمال نہیں کیا گیا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک روزہ سیشن کا انعقاد ، فائنانس بل سمیت 12 بل پاس ، اقلیتی ادارے نظر انداز
مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک روزہ سیشن کا انعقاد ، فائنانس بل سمیت 12 بل پاس

کورونا قہر میں منعقد کئے گئے مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک روزہ سیشن سے دوسرے طبقات کے ساتھ اقلیتی اداروں اور اقلیتی طبقے کو بہت سی امیدیں تھیں ، مگر اسمبلی کے اس ایک روزہ  خصوصی سیشن میں اقلیتی اداروں کے بجٹ میں کسی قسم کا اضافہ تو دور اقلیتی لفظ کا بھی استعمال نہیں کیا گیا ۔ حکومت اسمبلی میں پاس کئے گئے سبھی بل کو لے کر جہاں مطمئن نظر آرہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جتنے بھی بل اسمبلی میں پاس کئے گئے ہیں ، اس سے مدھیہ پردیش کے ساتھ یہاں رہنے والے سبھی طبقات کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ وہیں مسلم ممبران اسمبلی اور مسلم سماجی تنظیموں نے اسمبلی کے ایک روزہ سیشن کو اقلیتوں کے لئے مایوس کن قرار دیا ہے۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی سیشن کا سابقہ کمل ناتھ  حکومت نے آغاز تو کیا تھا ، لیکن حکومت اس سے پہلے کہ سالانہ بجٹ پیش کرتی ، صوبہ میں اقتدار کی منتقلی ہوگئی ۔ مارچ میں شیوراج سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ، لیکن کورونا قہر کے سبب اسمبلی سیشن کا انعقاد اعلان ہونے کے بعد منعقد نہیں کیا جا سکا ۔ اس سیشن کے لئے بھی تین روز کا اعلان کیا گیا تھا ، لیکن کورونا قہر کے سبب سبھی سیاسی پارٹیوں نے اسمبلی سیشن کو اور محدود کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کے نتیجہ میں اسمبلی کا سیشن روزہ کیا گیا ۔


ایک روزہ اسمبلی سیشن میں پہلے مرحومین ممبران اسمبلی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد اسمبلی کی کاروائی کو پانچ منٹ کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔ پانچ منٹ بعد جب اسمبلی سیشن شروع ہوا ، تو وزیر خزانہ جگدیش دیوڑا کی غیر موجودگی میں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے پارلیمانی امور نروترم مشرا نے پروٹیم اسپیکر رامیشور شرما نے ایک بعد ایک چودہ بل پیش کئے ، جنہیں اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود کسی بحث کے پاس کیا گیا ۔


اسمبلی میں جو بل خصوصی طور پر پاس کئے گئے اس میں فائنانس بل دوہزار بیس، ویٹ ترمیمی بل دوہزار بیس، جی ایس ٹی ترمیمی بل دوہزار بیس، نگر پالیکا نگم ترمیمی بل دوہزار بیس ، وینائک بل دوہزار بیس ، آدیواسی قرض بل دوہزار بیس کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اسمبلی سیشن میں تمام اداروں کے بجٹ کو بھی منظوری دی گئی لیکن یہاں بھی اقلیتی اداروں کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا ۔

بھوپال وسط سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ ایک روزہ اسمبلی سیشن بہت مایوس کن رہا ۔ حکومت نے اپنی من مانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا ۔ اسمبلی میں کورونا کے قہر اور حکومت کے اقدام پر کوئی بات نہیں کی گئی ۔ ایم پی کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی ، بیڈ کی کمی اور کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی صوبہ کی سب سے بڑی اقلیت کا اور اس سے وابستہ کسی ادارے کا کہیں ذکر کیا گیا ۔ حکومت صرف انتخابات میں مصروف ہے ۔ سی ایم کو فون کیجئے تو بتایا جاتا ہے کہ وہ الیکشن ریلی میں ہیں ۔ اقلیتی وزیر کو فون کیجئے تو وہ بھی الیکشن میٹنگ میں نظر آتے ہیں ۔ اقلیتی اداروں کی حالت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ مہیینے سے مساجد کمیٹی ، حج کمیٹی اور دوسرے اداروں کے ملازمین کو تنخواہ نہیں مل سکی ہے ۔ جبکہ سابقہ کانگریس حکومت میں میرے کہنے پر مساجد کمیٹی کے بجٹ میں پانچ کروڑ کا اضافہ کیا گیا تھا۔

محبان بھارت کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ ایک روزہ اسمبلی سیشن سے حکومت نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اقلیتیں اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں ، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ صوبہ کی اٹھائیس سیٹوں پر ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخابات میں مسلمان ، دلت اور آدیواسی ایک بڑی طاقت رکھتے ہیں ۔ اور اب بھی وقت رہتے اگر حکومت نے اقلیتی اداروں کے مسائل نہیں کئے ، تو انتخابات میں اس کا نتیجہ دیکھنے کو ملے گا ۔

مدھیہ پردیش بی جے پی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ صوبہ میں اپنی زمین کھو چکی کانگریس صرف عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے ۔ جتنے بھی بل پاس کئے گئے ہیں،  وہ کسی ایک قوم کو دیکھ کر پاس نہیں کئے گئے بلکہ صوبہ کی ہمہ جہت ترقی کو دیکھ کر پاس کئے گئے اور اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے ۔ کانگریس نے اب بھی اگر اپنی کارکردگی نہیں بدلی ، تو آنے والے دنوں میں صرف تاریخ کے صفحات پر نظر آئے گی ۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اقلیتی ادارے ، اردو اکادمی ، حج کمیٹی، مدرسہ بورڈ، اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن میں اب تک نہ کوئی کمیٹی ہے اور نہ کوئی چیئرمین ۔ یہ ادارے کانگریس کے عہد میں بھی نظر انداز کئے گئے تھے اور موجودہ حکومت میں بھی  یہ ادارے حاشیہ پر ہی ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 21, 2020 06:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading