உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ میں اردو کی روایت اور موجودہ صورتحال کے موضوع پر آن لائن مذاکرہ کا انعقاد

    جھارکھنڈ میں اردو کی روایت اور موجودہ صورتحال کے موضوع پر آن لائن مذاکرہ کا انعقاد

    جھارکھنڈ میں اردو کی روایت اور موجودہ صورتحال کے موضوع پر آن لائن مذاکرہ کا انعقاد

    قلم کار ادبی فورم نامی تنظیم کے بانی عمران عراقی نے کہا کہ آن لائن مذاکرات کے ذریعہ جھارکھنڈ میں اردو زبان و ادب کے فروغ کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے شعرا ، ادبا اور فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں سے اردو دنیا کو واقف کرانا مقصد ہے ، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جھارکھنڈ میں اردو کی روایت اور موجودہ صورتحال کے موضوع پر دو روزہ آن لائن مذاکرات کا اہتمام کیا گیا ۔‌ قلمکار ادبی فورم کے زیراہتمام منعقدہ اس مذاکرات میں نئی نسل کے فنکاروں کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں میں قیام پذیر ریاست سے منسلک شعرا ، ادبا اور فنکاروں نے حصہ لیا ۔ اس مذاکرے کو قلم کار ادبی فورم کے یو ٹیوب چینل اور فیس بک پیج پر براہ راست نشر کیا گیا ۔ اس موقع پر محمد حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جھارکھنڈ کے قیام سے قبل بھی اپنی مخصوص ثقافت کی وجہ سے ریاست بہار کے ادبی و سیاسی منظرنامے پر اپنی منفرد پہچان رکھتے تھے ۔

    پلاموں کے نوجوان افسانہ نگار عبد الباسط نے جھارکھنڈ میں اردو تنقید کی روایت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ چترا سے غلام صمدانی نے جھارکھنڈ کے ایک شاعر مبین الحق گل کی شعری و ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا ۔ مبین الحق کے تین شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ غلام صمدانی نے اپنی گفتگو میں ریاست کے شعرا ، ادبا اور فنکاروں کا تعارف ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعہ پیش کرنے پر زور دیا ۔ تاکہ اردو دنیا جھارکھنڈ کے شعرا ، ادبا اور فنکاروں کے تخلیقات اور معیار سے واقف ہو سکیں ۔

    جھارکھنڈ میں اردو کی روایت اور موجودہ صورتحال کے موضوع پر دو روزہ آن لائن مذاکرات کا اہتمام کیا گیا ۔‌
    جھارکھنڈ میں اردو کی روایت اور موجودہ صورتحال کے موضوع پر دو روزہ آن لائن مذاکرات کا اہتمام کیا گیا ۔‌


    رانچی کے نوجوان ریسرچ اسکالر غالب نشتر نے اظہار خیال کرتے ہوئے جھارکھنڈ میں ماضی کی مایوس کن ادبی و لسانی صورت حال کا ذکر کیا ۔ ساتھ ہی نئی نسل کے قلم کاروں سے اپنی توقعات کا اظہار کیا ۔ غالب نشتر نے جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کی عدم موجودگی سے اردو زبان کے فروغ میں آنے والی دشواریوں کا بھی ذکر کیا اور اردو اکیڈمی کے قیام کے لئے پرزور طریقے سے ارباب اقتدار تک آواز اٹھانے اور انہیں اس کے لئے قائل کرنے پر زور دیا ۔

    قلم کار ادبی فورم نامی تنظیم کے بانی عمران عراقی نے کہا کہ آن لائن مذاکرات کے ذریعہ جھارکھنڈ میں اردو زبان و ادب کے فروغ کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے شعرا ،  ادبا اور فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں سے اردو دنیا کو واقف کرانا مقصد ہے ، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے ۔ اس مذاکرے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بحیثیت استاد رانچی کے ڈاکٹر سرور ساجد ، میرٹھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر اسلم جمشیدپوری اور جھارکھنڈ کے ہزاری باغ عبئ واقع ونوبا بھاوے یونیورسٹی کے پروفیسر زین رامس کے علاوہ کئی شعرا و ادبا نے حصہ لیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: