உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ قومی سمینار میں دانشوروں نے پیش کئے مقالے

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں اردو اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اردو ادب اور خاص طور پراردو شاعری میں شعرا نے اپنے اظہار کے لئے تصوف کو ہی ذریعہ بنایا ۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں اردو اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اردو ادب اور خاص طور پراردو شاعری میں شعرا نے اپنے اظہار کے لئے تصوف کو ہی ذریعہ بنایا ۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں اردو اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اردو ادب اور خاص طور پراردو شاعری میں شعرا نے اپنے اظہار کے لئے تصوف کو ہی ذریعہ بنایا ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بھوپال میں اردو کے فروغ میں صوفیا کی خدمات کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیاگیا۔ بھوپال رویندر بھون میں منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور اردو ادب کے فروغ میں صوفیا کی لاثانی خدمات پر اپنے مقالے پیش کئے ۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بھوپال رویندر بھون میں منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے اردو کے فروغ میں صوفیا کا حصہ،تصوف اور اردو شاعری،تصوف اور سماجی ہم آہنگی کے عنوان پر اپنے مقالے پیش کئے ۔دانشوروں کا ماننا ہے کہ صوفیا نے راست طور پر اردو زبان و ادب کے فروغ میں حصہ تو نہیں لیا لیکن انہوں نے تبلیغ اور بندگان خدا کی اصلاح کے لئے جس رابطہ کی زبان کو استعمال کیااسی نے آگے چلکر اردو کی شکل اختیار کی۔ پروگرام کے انعقاد کا مقصد صوفیا کی تعلیمات اور خدمات کے حوالے سے اردو کے ارتقائی عمل کو منطر عام پر لانا ہے ۔
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہیں اردو اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اردو ادب اور خاص طور پراردو شاعری میں شعرا نے اپنے اظہار کے لئے تصوف کو ہی ذریعہ بنایا  اور تصوف کو اظہار کا ذریعہ اس لئے بھی بنایا کیوںکہ صرف صوفیا ہی نہیں بلکہ سنت اور رشی منی بھی عشق اور محبت کی بات کر رہے تھے۔اور تصوف کو یہاں فرو غ اس لئے ملا کیونکہ یہاں پر یعنی ہندستان میں تصوف کا ایک بیک گراؤنڈ ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگ محبت پر بات تو کریں لیکن تصوف کا جو بنیادی خیال ہے اس کی مرکزیت کو برقرار رکھیں ۔
    وہیں سمینار کےصدر اور ممتاز اردو اسکالر پروفیسر سراج اجملی کہتے ہیں کہ صوفیا کی خدمات کو لیکر مولوی عبدالحق اور دوسرے لوگوں نے بہت لکھا ہے ۔در اصل ہندستان میں جب صوفیا آئے تو انہوں نے اپنی عربی اور فارسی کی زبان کو چھوڑ کر مقامی لوگوں کے بیچ رابطہ کی زبان کے طور پر اردو کو استعمال کیا۔یہ زبان ادب کے فروغ کے لئے نہیں تھی بلکہ اصلاح نفس اور تلقین کے لئے تھی لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ شاعری اور ادب کی بنیاد کا پتھر بھی اسی کے ساتھ رکھا جا رہا تھا۔اور پھر آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ایسے مستند شعرا کی پوری کہکشان ہے جو صوفی بھی تھے جس میں ولی ،میر ددر اور دوسرے شعرا کا نام لیا جاسکتا ہے انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔چنانچہ آپ دیکھے تصوف برائے شعر گفتن خوب است ہے کی بنیاد پر تصوف کو فروغ دیا گیا ہے ۔تصوف کے فروغ سے نہ صرف اردو زبان و ادب بلکہ صلح کے اصول کو فروغ دینے سے قیام امن میں مدد ملتی ہے ۔

    وہیں فرزانہ انصاری نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تصوف کے حوالے سے اردو کے شعرا نے جو اخلاقی درس دیا ہے وہ بہت اہم ہے ۔ اور میں تو چاہتی ہے کہ یہ ایسا موضوع ہے جس کا حق ایک سمینار سے ادا نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ایسے مزید سمینار کا انعقاد کیاجانا چاہیئے تاکہ اردو اور تصوف کے ساتھ صوفیا کے اس مسلک کی بات ہو سکے جے صلح کل کہا گیا ہے ۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: