ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اس مسافر کی بات سن لیتے ریلوے کے افسر تو بچ جاتی 121 لوگوں کی جان!۔

ریلوے کے افسر اگر ایک مسافر کی بات کو سنجیدگی سے لیتے تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Nov 20, 2016 08:56 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اس مسافر کی بات سن لیتے ریلوے کے افسر تو بچ جاتی 121 لوگوں کی جان!۔
ریلوے کے افسر اگر ایک مسافر کی بات کو سنجیدگی سے لیتے تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔

اندور۔ اندور-پٹنہ ایکسپریس ٹرین کے حادثہ کا شکار ہو جانے کی وجہ سے 121 سے زائد مسافروں کی موت ہو گئی اور 200 سے زیادہ مسافر زخمی ہو گئے۔ ریلوے کے افسر اگر ایک مسافر کی بات کو سنجیدگی سے لیتے تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔ دراصل، مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع کے سيتامئو میں رہنے والے پرکاش شرما نے بھی اس ٹرین کے حادثے کا شکار ہوئے ایس -2 کوچ میں اندور سے اجین تک سفر کیا تھا۔


پردیش 18 سے خاص بات چیت میں پرکاش شرما نے بتایا کہ اس ٹرین میں وہ باقاعدہ طور پر سفر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن پہلی بار انہیں لگا کہ پہیوں میں کچھ مختلف طرح کی آواز آ رہی تھی۔ پہیوں میں معمول سے زیادہ شور ہو رہا تھا۔ پرکاش بتاتے ہیں کہ انہیں آواز سن کر تھوڑا عجیب سا محسوس ہوا۔ انہوں نے ایس -2 کوچ میں ہی موجود ریلوے کے کچھ حکام اور ٹی ٹی کو اس بارے میں بتایا بھی تھا۔ ریلوے کے افسروں نے اسے نارمل بتا کر ٹال دیا تھا۔


پرکاش نے بتایا کہ، اندور سے ٹرین روانہ ہونے کے قریب ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ اجین اسٹیشن پر اتر گئے تھے۔ اتوار کی صبح انہیں حادثے کی اطلاع ملی تو لگا کہ ان کا خدشہ سچ ثابت ہو گیا۔ اب پرکاش کا کہنا ہے کہ اگر ریلوے کے افسر ان کی بات کو سنجیدگی سے لیتے تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔


kanpur-train-accident7

تاہم، اندور-پٹنہ ٹرین حادثہ کی وجوہات کا انکشاف نہیں ہو سکا ہے۔ ریلوے پورے حادثے کی سطح پر تحقیقات کرے گا، جس کے بعد حادثے کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔ کانپور کے پاس ہوئے اس حادثے میں 121  لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔ وہیں، درجنوں مسافر شدید زخمی ہوئے ہیں، جن کا کانپور کے الگ الگ ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔
First published: Nov 20, 2016 12:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading