ہوم » نیوز » No Category

آبروریزی متاثرہ کے والد کی دردناک داستان ، پولیس نے 80 کلو میٹر دور لاش لانے پر کیا مجبور

گوالیار : مدھیہ پردیش کے شیوپوري میں پولیس کا غیر انسانی چہرہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک آبروریزی متاثرہ کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں اہل خانہ کو بیٹی کی لاش 80 کلومیٹر دور تک لانے پر مجبور کیا۔

  • ETV
  • Last Updated: Dec 02, 2015 08:07 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آبروریزی متاثرہ کے والد کی دردناک داستان ، پولیس نے 80 کلو میٹر دور لاش لانے پر کیا مجبور
گوالیار : مدھیہ پردیش کے شیوپوري میں پولیس کا غیر انسانی چہرہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک آبروریزی متاثرہ کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں اہل خانہ کو بیٹی کی لاش 80 کلومیٹر دور تک لانے پر مجبور کیا۔

گوالیار : مدھیہ پردیش کے شیوپوري میں پولیس کا غیر انسانی چہرہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک آبروریزی متاثرہ کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں اہل خانہ کو بیٹی کی لاش 80 کلومیٹر دور تک لانے پر مجبور کیا۔


قابل ذکر ہے کہ كریرا تھانہ علاقہ کے تحت آنے والے گرام ٹوريا کی رہنے والی 18 سالہ لڑکی کی 30 نومبر کو گاؤں کے ہی ایک نوجوان نے مبینہ طور پر آبروریزی کی تھی ۔ اہل خانہ نے شرمندگی کی وجہ سے معاملے کو پوشیدہ رکھا۔ تاہم واقعہ کے دو دن بعد لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ اس کے بعد متاثرہ کے والد نے پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی۔


اس معاملے میں شیوپوري پولیس کا غیر انسانی چہرہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ كریرا تھانے کی پولیس نے بے بس باپ کو لاش لے کر ضلع ہیڈکوارٹر شیوپوري پہنچنے کی ہدایت دی۔ بیٹی کی آبروریزی اور پھر اس کی موت سے پوری طرح ٹوٹ چکا باپ کسی طرح تین ہزار روپے کا انتظام کر کے بیٹی کی لاش لے کر شیوپوري پہنچا۔


معاملہ کے انکشاف کے بعد ایس پی یوسف قریشی نے جانچ کا حکم دیا ہے۔ ایس پی کے مطابق آبروریزی کے ملزم کے علاوہ تحقیقات میں غیر انسانی برتاؤ کرنے والے مجرم پولیس اہلکاروں کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔

First published: Dec 02, 2015 08:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading