உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش میں Surya Namaskar کے انعقاد کو لیکر چھڑا سیاسی گھماسان

     در اصل یہ تنظیمیں شریعت کا بہانہ بنا کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔اگر ان تنظیموں کو شریعت کی اتنی فکر ہوتی تو یہ مساجد کی ویرانی اور مسلم بچوں کے اسکولوں میں بڑھتے ڈراپ آؤٹ پر کام کرتی ہیں۔

    در اصل یہ تنظیمیں شریعت کا بہانہ بنا کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔اگر ان تنظیموں کو شریعت کی اتنی فکر ہوتی تو یہ مساجد کی ویرانی اور مسلم بچوں کے اسکولوں میں بڑھتے ڈراپ آؤٹ پر کام کرتی ہیں۔

    در اصل یہ تنظیمیں شریعت کا بہانہ بنا کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔اگر ان تنظیموں کو شریعت کی اتنی فکر ہوتی تو یہ مساجد کی ویرانی اور مسلم بچوں کے اسکولوں میں بڑھتے ڈراپ آؤٹ پر کام کرتی ہیں۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ بارہ جنوری کو منعقد ہونے والے سوریہ نمسکار پروگرام کو لیکر مسلم تنظیموں نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ مسلم تنظیمیں جہاں سوریہ نمسکارکو شریعت میں دخل اندازی سے تعبیر کررہی ہیں وہیں سوریہ نمسکار پروگرام کی مخالفت کرنے والی مسلم تنظیموں کو پہلی بار مسلم تنظیموں کے ذریعہ ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مسلم تنظیموں کی مخالفت کرنے والی دیگر مسلم تنظیموں کا موقف ہے کہ جب حکومت نے سوریہ نمسکار پروگرام میں شرکت کولازمی نہیں کیا ہے تو اس کی مخالف کیسی ہے ۔ در اصل یہ تنظیمیں شریعت کا بہانہ بنا کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔اگر ان تنظیموں کو شریعت کی اتنی فکر ہوتی تو یہ مساجد کی ویرانی اور مسلم بچوں کے اسکولوں میں بڑھتے ڈراپ آؤٹ پر کام کرتی ہیں۔
    بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا یا مسلم شریعت میں صاف صاف ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کر سکتے ہیں ۔اور سوریہ نمسکار میں کچھ جگہوں پر ایسے لفظوں کو شامل کیاگیا ہے جو عبادت کا رخ اختیار کرتا ہے۔تو مسلم پرسنل لا بورڈ بھی وہی بات کررہا ہے اور ہم لوگ بھی پہلے سے وہی بات کہتے آرہے ہیں کہ یہ لازمی نہیں ہونا چاہیئےاور میں نے اس معاملے کو لیکر پہلے مدھیہ پردیش جبلپور ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی اور اس پر جبلپور ہائی کورٹ نے احکام جاری کیاتھااور اس احکام میں اسے اختیاری رکھا گیاتھا۔

    وہیں کوآرڈینیشن کمیٹی فار انڈین مسلمس کے کوآرڈینٹیر مسعود محمد خان کہتے ہیں کہ ہم اس لئے اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ اس میں اللہ کے علاوہ اس کی تخلیق کی عبادت کرنے کی بات کہی جا رہی ہے اور اسلام میں اللہ کے سواکسی اور کی عبادت جائز نہیں ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ حکومت نے اپنے احکام میں عدالت کے حکم کے بعد اختیاری تو رکھا ہے لیکن ضلع ایجوکیشن افسران کے ذریعہ اسکولوں کے اساتذہ پر غیر اعلانیہ طور پر دباؤ بناکر بچوں کو پروگرام میں لانے کے لئے کہا جاتا ہے۔حکومت کے دباؤ اور نوکری کے خوف یہ اساتذہ وہ سب کچھ کرتے ہیں جو حکومت ان سے کرواتی ہے اور حکومت کے اسی عمل کے ہم خلاف ہیں ۔اور ایک اہم بات یہ ہے کہ جمہوری ملک میں کسی ایک مذہب کی بالادستی قائم کرنے کو لیکر کسی بھی سرکاری پروگرام کے انعقاد کی اجازت دی جانا چاہیئے اور جو چند نام مسلمان جیسے ہماری مخالفت کر رہے ہیں وہ نہ تو اسلام سے واقف ہیں اور نہ ہی حکومتوں کی سازشوں سے ۔
    وہیں راشٹریہ مسلم منچ ایم پی کے صوبائی جوائنٹ کنوینر محمد توفیق کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ مخالفت کس بات کی ہے ۔مسلمان تو چھوڑیئے حکومت نےہندؤ بھائیوں کو پروگرام میں شرکت کرنا لازمی نہیں رکھا ہے ۔سستی شہرت کے لئے قوم کو بدنام کرنے والوں کو اس باہر نکلنا چاہیئے اور مسلم بچوں کی تعلیم پر فوکس کرنا چاہیئے ۔یہ لوگ شریعت کی بات کرتے ہیں لیکن مسلم بچوں کی خواندگی پر انکی کوئی نطر نہیں ہے۔اگر یہ تنظیمیں مسلم بچوں کے ڈراپ آؤٹ پر کام کرتی ہیں تو ملک کے اسکولوں میں سب سے زیادہ ڈراپ آؤٹ مسلم بچوں کا نہیں ہوتا ۔

    وہیں محبان بھارت کے قومی صدر جاوید بیگ کہتے ہیں جب حکومت نے پروگرام کو لازمی رکھا ہی نہیں ہے تو اعتراض کس بات کا۔اور جو لوگ شریعت کی بات کررہے ہیں ۔شریعت کے پاسدار بن رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ شہر میں کتنی مسجدیں ویران پڑی ہیں ۔اگر یہ لوگ پنی مساجد کی ویرانی کو دورکرنے کا کام کرلیں اور قوم کے بچوں کو تعلیم کی جانب متوجہ کرنے پر پہل کریں تو قوم میں انقلاب پیدا ہوسکتا ہے ۔لیکن یہ لوگ ادھر اس لئے نہیں جائیں گے کیونکہ اس سے ان کے مفاد پورے نہیں ہوتے ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: