ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اترپردیش،مہاراشٹر کے بعد اب مدھیہ پردیش میں نام بدلنے کی نہیں رک رہی ہے سیاست

مدھیہ پردیش حکومت نے حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر اٹل بہاری وجپئی جنکشن رکھنے کی تجویز محکمہ ریلوے کو بھیج دی ہے ۔ حکومت کی تجویز پر مسلم سماجی تنظیموں کے ساتھ دانشوروں نے بھی سخت مخالفت کی ہے۔

  • Share this:
اترپردیش،مہاراشٹر کے بعد اب مدھیہ پردیش میں نام بدلنے کی نہیں رک رہی ہے سیاست
حبیب گنج اسٹیشن

مدھیہ پردیش میں نام بدلنے کی سیاست پہلے بھی ہوتی رہی ہے مگر دو مہینے میں جس طرح سے مسلم تہِذیب سے جڑے ناموں کو بدلنے کی ہوڑ مچی ہے اس نے دانشوروں اور سماجی تنظیموں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔گزشتہ مہینے میں پہلے بھوپال کی عیدگاہ ہلز کا نام بدل کر گرونانک دیو ٹیکری رکھنے کی تجویز ایم پی اسمبلی اسپیکر رامیشور شرما کے ذریعہ سامنے آئی تو اندور کھجرانہ کا نام بدل کر گنیش نگر کرنے کی تجویز اندور بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کردی ۔ ابھی یہ معاملے ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر و مدھیہ پردیش بی جے پی کے سابق صدر پربھات جھانے بھوپال حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر اٹل بہاری واجپنی کے نام رکھنے کو لیکر محکمہ ریلوے کو خط لکھ دیا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر اٹل بہاری وجپئی جنکشن رکھنے کی تجویز محکمہ ریلوے کو بھیج دی ہے ۔ حکومت کی تجویز پر مسلم سماجی تنظیموں کے ساتھ دانشوروں نے بھی سخت مخالفت کی ہے۔


واضح رہے کہ بھوپال میں ریلوے کا قیام1904ء میں ریاست کی تیسری خاتون فرمانروا نواب شاہجہاں بیگم کے عہد میں عمل میں آیاتھا ۔ بھوپال سے ہوشنگ آباد تک جب ریلوے لائن بچھائی گئی تو یہ جگہ جہاں پر حبیب گنج اسٹیشن قائم ہے یہاں پر شاہ پور کے نام سے چھوٹا سا اسٹیشن بنایا گیا ۔ بعد میں یہاں کی ضرورت کے مطابق جب اسٹیشن کی توسیع کا مرحلہ سامنے آیا تو بھوپال کے جاگیردار اور بھوپال کے آخری فرمانروا حبیب میاں نے ریلوے کو زمین گفٹ میں دی تاکہ ریلوے کی توسیع کی جاسکے ۔ ریلوے نے حبیب میاں کے اس خاص تعاون پر ریلوے اسٹیشن کا نام انیس سو نواسی میں ان کے پر رکھا اور یہ اسٹیشن میں حبیب گنج کے نام سے جانا گیا۔اور اب بھی اس کا نام حبیب گنج اسٹیشن ہی ہے مگر اب اس کا نام بدل کر اٹل بہاری واجپئی جنکشن رکھنے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔


مدھیہ پردیش بی جے پی کے جنرل سکریٹری رجنیش اگروال کہتے ہیں کہ جو لوگ نام بدلنے کی مخالفت کر رہے ہیں وہ اٹل بہاری واجپئی کی خدمات سے واقف نہیں ہیں ۔ مخالفت بے وجہ کی جا رہی ہے اور مخالفت کرنے والے ترقیاتی کام کو روکنے کا کام کر رہے ہیں ۔بھوپال ہی نہیں مدھیہ پردیش کے لوگوں کے لئے یہ خوشی کا مقام ہے کہ مہان لیڈر اٹل جی کے نام سے بھوپال میں کوئی چیز قائم ہونے جا رہی ہے ۔وہیں راشٹریہ سیکولر منچ کے لجا شنکر ہردنیا کہتے ہیں کہ اٹل جی کے نام پر حکومت خوب یادگار قائم کرے مگر کسی کا نام مٹا کر دوسرے کا نام لکھنے کی روایت اچھی نہیں ہے ۔ در اصل یہ حکومت نام نہیں بلکہ سیکولر روایت کو مٹانے کے در پہ ہے جو اس ملک کے لئے بہت خطرناک ہے ۔


مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ بات اٹل جی کے نام سے یاد گار قائم کرنے کی نہیں ہے ۔ حکومت کو بڑے لیڈر کے نام پر بڑی یاد گار قائم کرنا چاہئے۔ بھوپال میں اٹل بہاری واجپئی ہندی یونیورسٹی قائم ہے ۔ دوسرے ادارے قائم کئے جائیں اور ان کا نام بھی اٹل جی کے نام پر رکھ دیا جائے ہم کو اس پر اعتراض نہیں ہے ۔ ہمارا یہ اعتراض تو یہ ہے کہ حبیب گنج اسٹیشن کی زمین سرکار کی نہیں بلکہ ریلوے کو حبیب میاں نے دی تھی اور ان کی اس گفٹ پر ریلوے نے ان کے نام سے اسٹیشن قائم کیا تھا۔ حکومت کے ذریعہ نام بدلنے کی تجویز کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ جمعیت علما اس کی مذمت کرتی ہے اور اس تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے ۔

بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jan 14, 2021 10:40 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading