உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش میں درجن سے زیادہ مسلمانوں کے تبدیلی مذہب کو لیکر سیاست، جمعیت علما نے خبر کو قرار دیا بےبنیاد، مذہبی منافرت پھیلانے والوں کےخلاف کاروائی کا کیا مطالبہ

    Religious Conversion: واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام کے انبا گاؤں میں بنجارہ سماج کے قریب درجن مرد ،خواتین بچوں کے ذریعہ  اسلام مذہب کو ترک کرکے ہندو مذہب میں شامل ہونے کی خبر کے بعد مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ۔

    Religious Conversion: واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام کے انبا گاؤں میں بنجارہ سماج کے قریب درجن مرد ،خواتین بچوں کے ذریعہ اسلام مذہب کو ترک کرکے ہندو مذہب میں شامل ہونے کی خبر کے بعد مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ۔

    Religious Conversion: واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام کے انبا گاؤں میں بنجارہ سماج کے قریب درجن مرد ،خواتین بچوں کے ذریعہ اسلام مذہب کو ترک کرکے ہندو مذہب میں شامل ہونے کی خبر کے بعد مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش کے رتلام میں قریب ایک درجن مسلمانوں کے ذریعہ تبدیلی مذہب کرکے سناتن دھرم اختیار کرنے کو لیکر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ ہندو تنظیموں کا دعوی ہے کہ اسلام کی دہشت گردی کی تعلیم اور مسلمانوں کی شدت پسندی و ظلم و زیادتی سے پریشان ہورتلام کے انبا گاؤں کے قریب ایک درجن لوگوں نے اسلام مذہب کو ترک کر کے ہندو مذہب میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ وہیں دوسری جانب جن لوگوں کے لئے مذہب اسلام کو ترک کر کے ہندو مذہب کو اختیار کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ خود ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی مذہب اسلام کو اختیار ہی نہیں کیا۔وہ زمانہ قدیم سے ہندو مذہب کا حصہ تھے اور آج بھی ہندو مذہب کا حصہ ہیں ۔وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما نے تبدیلی مذہب کی سیاست پر اپنے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے اسے شر پسند عناصر کی سازش قرار دیتے ہوئے حکومت سے ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام کے انبا گاؤں میں بنجارہ سماج کے قریب درجن مرد ،خواتین بچوں کے ذریعہ  اسلام مذہب کو ترک کرکے ہندو مذہب میں شامل ہونے کی خبر کے بعد مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ۔ بنجارہ سماج کے قریب درجن بھر لوگوں کا مذہب تبدیلی کرانے کا دعوی کرنے والے سوامی آنندگری مہاراج کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہم سے ملاقات کی اور بتایا کہ ہم لوگ بہت ستائے جا رہے ہیں اور بہت پریشان ہیں۔ہم لوگ پہلے جس مذہب میں تھے اسی مذہب میں آنا چاہتے ہیں ۔یہاں پر شیو پران کا انعقاد کیاگیا اور سبھی لوگوں نے سماج کے سامنے سناتن دھرم کو تسلیم کیا۔ان کا نام کرن بھی کیاگیا۔انہیں پوتر کرکے جنیو پہنایا گیا۔اس طرح سے سبھی لوگوں نے گھر واپسی کی ہے۔کچھ لوگوں کی گھر واپسی ہوگئی ہے اور کچھ لوگوں کی گھر واپسی جلد ہوگی ۔
    سوامی آنند گری کے ذریعہ جس خاتون کو اسلام سے سناتن دھرم میں گھر واپسی کی بات کی جارہی ہے جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے صحافیوں کے سامنے بتایا کہ وہ پہلے بھی ہندو ہی تھی اور آج بھی ہندو ہی ہیں ۔انکا اسلام دھرم سے نہ تو پہلے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی انہیں روزہ ،نمازسے کوئی تعلق ہے۔ ہاں ہم لوگ مسلمان نام سے مانگ کر ضرور کھا لیا کرتے تھے ۔ہم لوگ ہندو ہی ہیں بس مسلمان نام سے مانگ کر کھا لیا کرتے تھے ۔

    Hajj 2022: سفر حج میں مدھیہ پردیش کے عازمین حج کو مشکلات کا سامنا
    وہیں بنجارہ سماج کے باسٹھ سالہ معمر شخص رام سنگھ سے جب نیوز ایٹین اردو نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کامسلمانوں سے بس اتنا رشتہ ہے کہ وہ مانگ کر کھانے کے لئے درگاہ اور مساجد کے پاس جایا کرتے تھے ۔انہوں نے اور ان کے بزرگوں اور بچوں نے بھی کبھی ہندو دھرم کو نہ تو ترک کیا ہے اور نہ ہی اسلام کو قبول کیا ہے۔

     

    جامعہ Project Shrimati انیکٹس گلوبل ریس ٹو کلائمیٹ ایکشن، امریکہ کیلئے منتخب

    اس سلسلے میں جب نیوز ایٹین اردو نے مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ رتلام کے انبا گاؤں کا واقعہ جھوٹ کا پنلدہ ہے ۔نیوز ایٹین اردو کو مبارکباد پیش کرنا چاہتاہوں کہ انہوں نے پوری سچائی کو دنیا کے سامنے رکھدیا اور سب کا بیان بھی دکھا دیا کہ جن لوگوں کے مذہب تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے وہ خود اسکرین کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ ہندو ہی تھے ۔ہم نے جمعیت علما کے لوگوں سے بھی رتلام میں تحقیق کروائی تومعلوم ہوا کہ وہ لوگ ہندو ہی ہیں ۔وہ غریب لوگ مانگ کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں ۔ہم پورے واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اور جو فرقہ طاقتیں اس طرح کا شر پھیلا رہی ہیں اس کی جانچ کی مانگ کرتے ہیں ۔ایسا خراب پروپیگنڈا نہیں کرنا چاہیئے ۔ہماری حکومت سے مانگ ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے تاکہ صوبہ کا امن و امان بر قرار رہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: