ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کے سابق اقلیتی وزیر محمد ابراہیم قریشی کے سانحہ ارتحال پرپروگرام کا انعقاد

بھوپال : مد ھیہ پردیش کے سابق اقلیتی وزیر محمد ابراہیم قریشی کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے دانشوروں نے قوم کے بڑے سانحے سے تعبیر کیا ہے ۔

  • ETV
  • Last Updated: Jun 20, 2016 10:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مدھیہ پردیش کے سابق اقلیتی وزیر محمد ابراہیم قریشی کے سانحہ ارتحال پرپروگرام کا انعقاد
بھوپال : مد ھیہ پردیش کے سابق اقلیتی وزیر محمد ابراہیم قریشی کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے دانشوروں نے قوم کے بڑے سانحے سے تعبیر کیا ہے ۔

بھوپال : مد ھیہ پردیش کے سابق اقلیتی وزیر محمد ابراہیم قریشی کے سانحہ ارتحال کو مدھیہ پردیش کے دانشوروں نے قوم کے بڑے سانحے سے تعبیر کیا ہے ۔ ابراہیم قریشی کی پیدائش 19 اگست 1947 کو مدھیہ پردیش کے شیوپورکلاں میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم شیوپور کلاں سے حاصل کی اس کے بعد اعلی تعلیم جیواجی یونیورسٹی گوالیارسے حاصل کی۔ ابراہیم قریشی کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے۔ وہ ایک کامیاب سیاستداں کے ساتھ ملی رہنما اور بہترین وکیل بھی تھے ۔ انہوں نے مدھیہ پردیش اقلیتی کمیشن میں بطور چیئرمین 12 سالوں تک اپنی خدمات انجام دیں ۔ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے جتنا لمبا عرصہ انہوں نے گزارا ، اتنا لمبا عرصہ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے آج تک کسی کو نہیں ملا ۔

مدھیہ پردیش کے 1993 کے اسمبلی انتخابات میں جب کوئی مسلم ایم ایل اے منتخب ہو کر اسمبلی میں نہیں آیا ، تو دگ وجے سنگھ کی نظر انتخاب نے ابراہیم قریشی کو ہی منتخب کیا تھا اور وہ دگ وجے سرکار میں اقلیتی وزیر بنائے گئے تھے۔ ابراہیم قریشی مدھیہ پردیش اقلیتی کمیشن کے چیئرمین بھی رہے ہیں ۔

ابراہیم قریشی آل انڈیا مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے نائب صدر اورآل انڈیا پسماندہ طبقات کے صدر بھی رہے ۔ انہوں نے اپنی حیات میں مسلم سماج میں تعلیمی بیداری اوراقلیتی طبقے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے جو خدمات انجام دیں تھیں ، وہ ناقابل فراموش ہیں ۔ ان کے انتقال سے مدھیہ پردیش کی مسلم سیاست ہی نہیں بلکہ سماجی طور پر جو خلا پیدا ہوا ہے ، اسےآسانی سے پر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

First published: Jun 20, 2016 10:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading