ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

ممتاز شاعر منظر بھوپالی نے اقبال میدان کو بچانے کی شروع کی تحریک

مشہور شاعر منظر بھوپالی کا کہنا ہے کہ اقبال میدان شاعروں اور ادیبوں کے لئے ادب کا تیرتھ استھل ہے اور حکومت کے ساتھ اس کی تزئین کاری کی ذمہ داری ہم سب کی ہے ۔ اگر حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برت رہی ہے اور وہ لکھ کر دیتی ہے تو ہم اردو والے اقبال میدان کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

  • Share this:
ممتاز شاعر منظر بھوپالی نے اقبال میدان کو بچانے کی شروع کی تحریک
ممتاز شاعر منظر بھوپالی نے اقبال میدان کو بچانے کی شروع کی تحریک

مدھیہ پردیش حکومت کے رویہ سے بیزار بھوپال کے ادیبوں نے اقبال میدان کی خستہ حالی کو دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھوپال میں اقبال میدان کی تعمیر کا سلسلہ  انیس سو چوراسی میں شروع کیاگیا تھا ۔ مدھیہ پردیش کے اس وقت کے وزیر اعلی ارجن سنگھ نے نو فروری انیس سو چوراسی کو اس کی بنیاد رکھی تھی ۔ اقبال میدان میں دو سال تک تعمیری کام جاری رہا اور جب اقبال میدان میں مینارہ شاہین اور اقبال کے اشعار خوبصورت پتھروں پر کندہ کر کے چاروں جانب لگا دیئے گئے تو چودہ فروری انیس سو چھیاسی کو اس وقت کے وزیر اعلی موتی لال ووہرہ نے اس کا افتتاح کیا ۔ افتتاحی تقریب میں مدھیہ پردیش کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ ہندی اور اردو کے ممتاز ادیبوں  کے ساتھ  مشہور مصور سوامی ناتھن اور ایم ایف حسین نے بھی شرکت کی تھی ۔ سوامی ناتھن نے ہی اقبال میدان کے مینارہ شاہین کا ڈیزائن تیار کیا تھا ۔ اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں اقبال میدان اور مینارہ شاہین کی تزئین کاری کی جاتی رہی ۔ لیکن گزشتہ برسوں سے اقبال میدان کی خستہ حالی کی جانب کوئی دیکھنے والا نہیں ہے ۔


انیس سوچوراسی میں جب اقبال میدان کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا اس کی تحریک بھوپال میں علامہ اقبال کے سکریٹری ممنون حسن خان نے شروع کی تھی ۔ نیوز 18 اردو کے ذریعہ اقبال میدان کی خستہ حالی پر خبر شائع کئے جانے کے بعد ممتاز شاعر منظر بھوپال نے اقبال میدان کی خستہ حالی کودور کرنے کے تحریک شروع کردی ہے ۔ منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ اقبال میدان شاعروں اور ادیبوں کے لئے ادب کا تیرتھ استھل ہے اور حکومت کے ساتھ اس کی تزئین کاری کی ذمہ داری ہم سب کی ہے ۔ اگر حکومت اپنے فرائض سے کوتاہی کر رہی ہے اور وہ لکھ کر دیتی ہے تو ہم اردو والے اقبال میدان کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ اقبال نے اپنی شاعری سے خودی کا جو پیغام دیاہے ، وہ نوجوانوں کے لئے انتہائی اہم ہے ۔ اقبال نے جس ترانہ ہندی کو لکھا تھا وہ ترانہ ہندی مینارہ شاہین پر کندہ تو ہے ، لیکن عدم توجہی کے سبب اس کے الفاظ گررہے ہیں ۔ ترانہ ہندی کے برابر میں اقبال کا لکھا وہ شعر بھی موجود ہے ، جس میں جس میں اقبال نے کہا ہے کہ : ۔


ہے رام کے وجود پہ ہندستاں کو ناز


اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام الہند

اب جبکہ ملک میں عدالت کے فیصلہ کے بعد رام مندر کی تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے تو حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ شاعر جس نے رام کی عظمت کو اردو میں بیان کیا ہے ، اس کی وراثت کو بھی خستہ حالی سے نکال کر اس طرح سے آراستہ کیا جائے جس سے یہاں آنے والے سیاحوں کو اقبال میدان دیکھنے کے بعد خوشی کا اظہار کر سکیں ۔ ہم نے وزیر اعلی شیوراج سنگھ اور وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کو خط لکھ کر ملنے کے لئے وقت مانگا ہے ۔ تاکہ اقبال میدان کو خستہ حالی سے نکالا جا سکے ۔

بھوپال سے اقبال کی خاص نسبت کے سببب ہی بھوپال کو دارالاقبال بھی کہا جاتا ہے ۔
بھوپال سے اقبال کی خاص نسبت کے سببب ہی بھوپال کو دارالاقبال بھی کہا جاتا ہے ۔


واضح رہے کہ بھوپال سے علامہ اقبال کا بہت گہرا رشتہ رہا ہے ۔ اقبال نے اپنے وطن کے بعد سب سے زیادہ وقت بھوپال میں گزارا تھا اور یہاں پر انہوں نے رہ کر چودہ شاہکار نظمیں بھی لکھیں تھیں ۔ ان نظموں کی خوبی یہ ہے کہ ان کے نیچے اقبال نے دن مہینے اور سال کے ساتھ اس عمارت کا بھی ذکر کیا ہے ، جہاں پر اقبال نے ان نظموں کو لکھا ہے ۔ جبکہ اقبال کی دوسری تخلیق میں ایسی باتیں کہیں اور نہیں ملتی ہیں ۔

بھوپال سے اقبال کی خاص نسبت کے سببب ہی بھوپال کو دارالاقبال بھی کہا جاتا ہے ۔ یہاں پر اقبال لائبریری ، اقبال مرکز اور اقبال میدان قائم کئے گئے ۔ منظر بھوپال چاہتے ہیں کہ ملک و بیرون ملک میں اقبالیات کے فروغ کی جب بھی بات ہو تو بھوپال کا نام سرفہرست ہو نا چاہئے ۔ اس کے لئے اپنی جیب خاص سے سرمایہ لگانے کے ساتھ اہل اردو سے بھی تعاون کرنے کی اپیل کی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 15, 2020 10:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading