உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتاز ادیب ،ناقد ،محقق و ماہر تعلیم ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا قبر خستہ حالی کا شکار

    بھوپال سے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا گہرا رشتہ تھا۔

    بھوپال سے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا گہرا رشتہ تھا۔

    ڈاکٹر عبدالرحمن نے بھوپال میں رہ کر تعلیم،تحقیق کے میدان میں بہت کام کیاتھا مگر آج اہل بھوپال اور بھوپال کی ادبی انجمنوں نے انہیں فراموش کردیا ہے۔ ڈاکٹر بجنوری کا انتقال سات نومبر انیس سو اٹھارہ کو بھوپال میں ہوا اور انہیں بھوپال کی لال گھاٹی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ مگر آج اردو زبان کے اس روشن مینارکی قبر کی خستہ حالی کو دور کرنے کی کسی کو فکر نہیں ہے۔

    • Share this:
    ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا شمار اردو کے ممتاز ادیب،ناقد،محقق،مفکر،ماہر تعلیم،ماہر قانون کے طور پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کی ولادت اتر پردیش کے تاریخی شہر بجنور میں اٹھارہ سو پچاسی میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اور میٹرک کا امتحان کوئٹہ بلوچستان سے پاس کیا۔اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے محمڈن انگلواورینٹل کالج میں داخل ہوئے ۔یہاں سے انہوں نے انیس سو چھ میں بی اے اور انیس سو نو میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر بجنوری یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگلستان گئے اور وہاں کے لنکران یونیورسٹی سے باریٹ لاکی ڈگری حاصل کی۔اور فری برگ یونیورسٹی جرمنی سے اسلامی تعزیرات پر جرمن زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر بجنوری نے تحصیل علم کے بعد کچھ عرصہ مرادآباد میں وکالت کی اوروکالت کرنے کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مجوزہ دستور کو بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
    بھوپال سے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا گہرا رشتہ تھا۔ ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری عہد سلطان جہاں میں ریاست بھوپال کے مشیر تعلیم کے عہدے پر فائز تھے ۔انیس سو سترہ میں انہوں نے سلطانیہ کالج کے نام سے تعلیم منصوبہ بھی پیش کیاتھا۔ اسی عہد میں بابائے اردو مولوی عبد الحق نے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کو کلام غٓالب پر مبسوط مقالہ لکھنے کی ذمہ داری سپرد کی ۔ جو بعد میں محاسن کلام غٓالب کے نام سے مشہور ہوا۔ محاسن کلام غالب میں ان کے ذریعہ لکھے گئے مقدمہ کا یہ مقولہ (ہندستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ایک مقدس ویداور دوسرا دیوان غالب) بہت مشہور ہوا۔ اس کتاب نے غٓالب کی شعری جمالیات کی وساطت سے اردو کی تاثراتی تنقید کو ایک رنگ دیاتھا۔ یہ وہی عہد تھا جب بھوپال میں مرزا اسد اللہ خان غالب کے غیر مطبوعہ کلام کی انیس سو اٹھارہ میں نواب فوجدار محمد خان کے کتب خانہ سے دریافت ہوئی تھی۔بجنوری کا لکھا مقدمہ بعد میں نسخہ حمیدیہ کے نام سے جب غالب کا غیر مطبوعہ کلام شائع کیاگیا تواس میں شامل کیاگیاتھا۔


    ڈاکٹر بجنوری کی شخصیت کے ہمہ جہت پہلو تھے۔ وہ ایک ماہر قانون،ماہر تعلیم اور مفکر تو تھے ہی انہوں نے ٹیگور کی گیتانجلی کا بھی اردو میں ترجمہ کیاتھا۔ یہی نہیں انہوں نے ترکی اور یونانی زبانوں کی مشہور نظموں اور گیتوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیاتھا۔وہ خود منفرد لب و لہجہ کے ممتاز شاعر تھے اور انہوں نے معلم، ہندستان،ناہید،موسیقی ،یادگل ،دعا صبح بنارس کے عنوان سے جو شاہکار نظمیں لکھیں ہیں وہ اردو ادب کا اہم حصہ ہیں۔

    ڈاکٹر عبدالرحمن نے بھوپال میں رہ کر تعلیم،تحقیق کے میدان میں بہت کام کیاتھا مگر آج اہل بھوپال اور بھوپال کی ادبی انجمنوں نے انہیں فراموش کردیا ہے۔ ڈاکٹر بجنوری کا انتقال سات نومبر انیس سو اٹھارہ کو بھوپال میں ہوا اور انہیں بھوپال کی لال گھاٹی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ مگر آج اردو زبان کے اس روشن مینارکی قبر کی خستہ حالی کی دور کرنے کی کسی کو فکر نہیں ہے۔


    بھوپال کے ممتاز ادیب ڈاکٹر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ دنیا میں غالب اور غالبیات کی جب بھی بات ہوگی تو ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا نام لیاجائے گا اور جب بجنوری یاد کئے جائنگے تو ان کے کارناموں کے حوالےس بھوپال یاد کیا جائے گا۔ نیوز ایٹین اردو کا شکریہ کہ انہوں نے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کی قبر کی خستہ حالی کو دور کرنے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے ۔یہ ہماری نااہل ہے کہ ہم لوگوں نے اتنے بڑے ادیب اور مفکر کو فراموش کردیا ہے۔بھوپال کے ہی ادیب و اقبال لائبریری کے سکریٹری رشید انجم کہتے ہیں کہ نسخہ حمیدیہ کا اصل نسخہ اسی اقبال لائبریری سے چوری ہوا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی نااہلی کے بارے میں کیا کہیں باتیں تو زبانی بہت کی جاتی ہیں مگر کسی کو عملی اقدام کرنے کی فکر نہیں ہے ۔ صرف ڈاکٹر بجنوری ہی نہیں بھوپال کے دوسرے ادیبوں کے تئیں اہل بھوپال کا جو رویہ ہے اسے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے ۔
    Published by:sana Naeem
    First published: