ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سی اے اے ۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف رانچی میں احتجاجی مظاہرہ کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری

اس دھرنے میں خواتین سی اے اے ۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف نعرے لگارہی ہیں ساتھ ہی حب الوطنی کے ترانے بھی خوب گا رہی ہیں ۔ کثیر تعداد میں قومی پرچم بھی لہرائے جارہے ہیں اور مجاہدین آزادی کے پوسٹر اور ملک میں سیکولرزم کے تعلق سے انکے پیغامات سے بھی لوگوں کو روشناس کرایا جارہا ہے ۔عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکام آزاد کے پیغام لکھے تختی بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جسمیں لکھا ہے کہ ہندو مسلم اگر ایک ساتھ ملکر نہیں رہ سکتے تو یہ انسانیت کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔

  • Share this:
سی اے اے ۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف رانچی میں احتجاجی مظاہرہ کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری
اس دھرنے میں خواتین سی اے اے ۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف نعرے لگارہی ہیں ساتھ ہی حب الوطنی کے ترانے بھی خوب گا رہی ہیں ۔ کثیر تعداد میں قومی پرچم بھی لہرائے جارہے ہیں اور مجاہدین آزادی کے پوسٹر اور ملک میں سیکولرزم کے تعلق سے انکے پیغامات سے بھی لوگوں کو روشناس کرایا جارہا ہے ۔عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکام آزاد کے پیغام لکھے تختی بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جسمیں لکھا ہے کہ ہندو مسلم اگر ایک ساتھ ملکر نہیں رہ سکتے تو یہ انسانیت کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔

رانچی کے کڈرو واقع حج ہائوس کے باہر احتجاجی دھرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر 20جنوری سے جاری اس دھرنے میں کثیر تعداد میں خواتین شرکت کر رہی ہیں ۔ اس دھرنے کے دائرے میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس دھرنے میں شہر کے مختلف محلوں کی خواتین شامل ہو رہی ہیں ۔ دھرنے کے انعقاد کے تیسرے روز دھرنے میں شامل خواتین نے مغرب کا وقت ہوتے ہیاپنے ہاتھوں میں موم بتی لئے مرکزی حکومت کے اس قانون کے خلاف نعرے لگائے۔

اس دھرنے میں خواتین سی اے اے ۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف نعرے لگارہی ہیں ساتھ ہی حب الوطنی کے ترانے بھی خوب گا رہی ہیں ۔ کثیر تعداد میں قومی پرچم بھی لہرائے جارہے ہیں اور مجاہدین آزادی کے پوسٹر اور ملک میں سیکولرزم کے تعلق سے انکے پیغامات سے بھی لوگوں کو روشناس کرایا جارہا ہے ۔عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکام آزاد کے پیغام لکھے تختی بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جسمیں لکھا ہے کہ ہندو مسلم اگر ایک ساتھ ملکر نہیں رہ سکتے تو یہ انسانیت کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔

ڈاکٹر شگفتہ یاسمین کی قیادت میں قریب ایک درجن گھریلوں خواتین اور طالبات تمام مظاہرین میں جوش بھرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اس موقع پر گھریلو خاتون تنویر بدر نے کہا کہ ملک لوگوں سے بنتا ہے لیکن مرکزی حکومت ہمیں بانٹنا چاہتی ہے جسے کوئی بھی باشندہ برداشت نہیں کرے گا۔ کالج کی طالبہ غزالہ نکہت نے کہا کہ اقتدار علم سے گھبراتی ہے ۔ طالبہ پر لاٹھیاں برساتی ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے بچے انکی آنکھوں میں چبھتے ہیں۔

وہیں مصنفہ غزالہ تسنیم نے کہا کہ ہم ایسے باغ کے پھول ہیں جسمیں الگ الگ رنگ اور خوشبو ہے لیکن چند لوگ ایک ہی رنگ کے پھول چاہتے ہیں ۔ خاتون تاجر نوشین بیگم نے کہا کہ ہم کسی کی شہریت دینے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ شہریت چھیننے کے مخالف ہیں ۔ اس دھرنے میں شرکت کرنے والی خواتین کے حوصلے بلند ہیں اور انہیں گھروالوں کا کافی تعاون بھی مل رہا ہے ۔ سی اے اے کے تعلق سے سپریم کورٹ میں سنوائی کی خبر آنے کے بعد بھی ان خواتین نے اس قانون کو واپس لئے جانے تک احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

First published: Jan 23, 2020 04:08 PM IST