ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

رانچی میں احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری، یوگیندر یادو نے مسلم معاشرے سے متعلق کہی یہ بات

رانچی کےکڈرو واقع حج ہاؤس کےباہر سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دھرنا میں مختلف مذاہب کےلوگ شامل ہو رہے ہیں۔ سوراج ابھیان کےسربراہ یوگیندر یادو نے بھی اس دھرنا میں شامل ہوکر خواتین کا حوصلہ بڑھایا۔

  • Share this:
رانچی میں احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری، یوگیندر یادو نے مسلم معاشرے سے متعلق کہی یہ بات
رانچی میں احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری

رانچی کے کڈرو واقع حج ہاؤس کے باہر سی اے اے، این آر سی اور این پی آرکے خلاف احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ۲۰ جنوری سے جاری دھرنا میں روز بروز خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس دھرنا میں مختلف مذاہب کےلوگ شامل ہو رہے ہیں۔ سوراج ابھیان کے سربراہ یوگیندر یادو نے بھی اس دھرنا میں شامل ہوکرخواتین کا حوصلہ بڑھایا۔


اس موقع پر یوگیندر یادو نے دھرنا میں شامل خواتین کی کثیر تعداد پرخوشی کا اظہارکرتے ہوئےکہا کہ مسلم معاشرے میں خاص طور پرخواتین اور نوجوانوں میں نئی قیادت پیدا ہو رہی ہے، جو یہ بتا رہا ہےکہ ہم ہندوستانی ہیں اور ہر چیز میں برابر کےحقدار ہیں۔ دھرنےکے آٹھویں دن جھارکھنڈ ہائی کورٹ اور سول کورٹ کےکثیر تعداد میں وکلاء شامل ہوئے۔ اس موقع پرانہوں نے خواتین کو خطاب میں دستور ہند میں درج شہریوں کے حقوق سے روشناس کرایا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔


رانچی میں احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری ہے، یوگیندر یادو نے پہنچ کر خواتین کی حوصلہ افزائی کی۔
رانچی میں احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری ہے، یوگیندر یادو نے پہنچ کر خواتین کی حوصلہ افزائی کی۔


ایڈوکیٹ سلطان خان نےکہاکہ انہوں نے خواتین کو بتایا ہےکہ سی اے اے کالا قانون ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئےکہا کہ دستور ہند کے دفعہ ۱۴ کے بالکل خلاف ہے۔ سلطان خان نےکہا کہ تمام وکلاء نےاس قانون سے خواتین کو روشناس کرایا ہے۔ وہیں سماجی کارکن دامودر توری نے اپنے خطاب میں کہا کہ این آر سی، سی اے اے اور این آر پی صرف مسلم کےخلاف نہیں ہے بلکہ ملک کے تمام شہریوں کا سوال ہے۔ انہوں نےکہا کہ مذہب کے بنیاد پر لوگوں کو این آر سی سے باہرکرنا غلط ہے۔

رانچی میں جاری احتجاجی مظاہرہ کے آٹھویں دن جھارکھنڈ ہائی کورٹ اور سول کورٹ کےکثیر تعداد میں وکلاء شامل ہوئے۔
رانچی میں جاری احتجاجی مظاہرہ کے آٹھویں دن جھارکھنڈ ہائی کورٹ اور سول کورٹ کےکثیر تعداد میں وکلاء شامل ہوئے۔


اس موقع پر دھرنا کی منتظمین نوشین بیگم نےکہا کہ حکومت جب تک اس قانون کو واپس نہیں لیتی تب تک یہ دھرنا جاری رہےگا۔ انہوں نےکہا کہ روزانہ ہر مذہب کےلوگ دھرنا میں پہنچ کر حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ آج ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے علمائے کرام بھی دھرنا میں شامل ہوئے۔ اس موقع ہر ادارہ کے ناظم اعلی قطب الدین رضوی نے بھی خواتین کی حوصلہ افزائی کی۔
First published: Jan 27, 2020 09:49 PM IST