ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

علمائے دین کے بیان دینے پر پابندی! ، بھوپال مساجد کمیٹی کے ایک فرمان کو لے کر اٹھ رہے ہیں سوالات ، جانئے کیوں

سنیکت مورچہ کا کہنا ہے کہ مساجد کمیٹی نے تغلقی فرمان جاری کرتے ہوئے شہر قاضی ، مفتی اور دوسرے علمائے دین کے بیان دینے پر پابندی لگا رکھی ہے ، جس کے سبب شرعی معاملات میں شہر قاضی ، مفتی اور دوسرے علمائے دین اپنی بات عوام کے سامنے رکھ نہیں پاتے ہیں ۔

  • Share this:
علمائے دین کے بیان دینے پر پابندی! ، بھوپال مساجد کمیٹی کے ایک فرمان کو لے کر اٹھ رہے ہیں سوالات ، جانئے کیوں
علمائے دین کے بیان دینے پر پابندی! ، بھوپال مساجد کمیٹی کے ایک فرمان کو لے کر اٹھ رہے ہیں سوالات ، جانئے کیوں

اگر آپ سے کوئی کہے کہ شہر کے قاضی اور مفتی کسی معاملے پر بیان نہیں دے سکتے ہیں ، تو آپ کو سن کر حیرت ہوگی اور ایک بار کو یہ سوچنے پرمجبور ہوں گے  کہ جہموری ملک میں ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔ مگر بھوپال مساجد کمیٹی کے ایک فرمان کو لیکر ان دنوں نہ صرف مساجد کمیٹی کے اختیارات پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں ۔ بلکہ بھوپال سنیکت مورچہ نے مساجد کمیٹی کے اسی فرمان کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے ۔


بھوپال میں مساجد کمیٹی کا قیام ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے انضمام کی رو سے عمل میں آیا تھا ۔ مساجد کمیٹی کے تحت دارالافتا ، دارالقضا ، مساجد کمیٹی کے زیر انتظام مساجد کے علاوہ ایک اسکول کا نظم بھی ہوتا ہے ۔ مساجد کمیٹی کے اراکین کا تقرر محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔ سنیکت مورچہ کا کہنا ہے کہ مساجد کمیٹی نے تغلقی فرمان جاری کرتے ہوئے شہر قاضی ، مفتی اور دوسرے علمائے دین کے بیان دینے پر پابندی لگا رکھی ہے ، جس کے سبب شرعی معاملات میں شہر قاضی ، مفتی اور دوسرے علمائے دین اپنی بات عوام کے سامنے رکھ نہیں پاتے ہیں ۔ شہر قاضی کا مرتبہ نائب رسول کا ہوتا ہے اور نائب رسول کے بیان دینے پر کوئی اس طرح کی پابندی عائد کرے تو ہمیں منظور نہیں ہے۔ ہم علمائے دین اور شریعت کی بقا کے لئے اپنی گردن کٹوا بھی سکتے ہیں اور ایسے تغلقی فرمان جاری کرنے والوں کی گردن کاٹ بھی سکتے ہیں ۔ ہم نے ایس ڈی ایم کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کام کررہی ہے کمیٹی کو فوری برخاست کرنے کے ساتھ علمائے دین کے بیان پر لگائی گئی پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو ہم اس کے خلاف تب تک احتجاج کریں گے جب تک علمائے دین کا وقار بحال نہیں ہو جاتا ہے ۔


بھوپال سنیکت مورچہ نے مساجد کمیٹی کے اسی فرمان کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے ۔
بھوپال سنیکت مورچہ نے مساجد کمیٹی کے اسی فرمان کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے ۔


وہیں نیوز 18 اردو نے اس معاملہ میں مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان سے جب بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہاں ڈسپلن منٹین کرنے کے لئے یہ بات ہوئی کہ کئی بار علما حضرات جو ہمارے قاضی صاحب ، مفتی صاحب ، نائب مفتی حضرات ہیں کچھ ایسی چیزیں بتاتے ہیں کہ ایک کو منظور ہوتا ہے اور دوسرے کو منظور نہیں ہوتا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلک بھی یہاں پر ہے ۔ ہم خنفی مسلک کے ماننے والے ہیں اور دوسرے شافعی و دیگر مسلک کے ماننے والے ہیں ، جس کے سبب علمائے دین کے سامنے الگ الگ چیزیں آتی ہیں ، تو ہم نے ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے عید کے موقع پر جب لاک ڈاؤن بھی لگا ہوا تھا اور بہت زیادہ ڈسٹربنس بھی تھی ، قربانی وغیرہ کو لیکر آئے دن میڈیا میں ایسی باتیں سامنے آتی تھیں جس سے سماج میں انتشار پیدا ہوتا تھا ۔ تو یہاں پر بیٹھ کر سبھی علما نے اتفاق رائے سے یہ طے کیا کہ کوئی بھی بیان دینے سے پہلے سب آپس میں بات کرلیں اور کسی بھی موضوع پر سب ایک ہی بیان جاری کریں ، جس سے کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔ ایک ہی بیان پر سب کا اتفاق ہو ، تو اس پر سبھی نے دستخط کئے ہیں اور سبھی اس پر راضی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک شخصی آزادی کا سوال ہے تو ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم قاضی صاحب اور مفتی صاحب کو یا کسی دوسرے علما کو بیان دینے سے روک سکیں ۔ شرعی معاملات میں وہ آزاد ہیں اور شخصی طور پر بھی جمہوری ملک میں ان کو آزادی ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ غلط فہمی ہوئی ہے اور اس کی اس طرح تشہیر کی گئی کہ جیسے مساجد کمیٹی نے علمائے دین کے حق کو سلب کرلیا ہے ۔ جہاں تک مساجد کمیٹی کے وجود کا سوال ہے تو احتجاج کرنے والوں کو ایکٹ کو پڑھ لینا چاہیئے ۔ اگر وہ ایکٹ پڑھ لیں گے تو حقیقت خود بخود سامنے آجائے گی ۔ مساجد کمیٹی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مساجد کمیٹی کے اختیارات اور اس کے احکام کو لے کر احتجاج کیا گیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 30, 2020 10:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading