உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بینظیر انصار ایجوکیشن سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں گمنام مجاہدین آزادی کی لگائی گئی فوٹو نمائش

    فوٹو نمائش میں سترہ سو ستاون میں پلاسی میں ہوئی سراج الدولہ اور انگریزوں کے بیچ ہوئی جنگ سے لیکر انیس سو سینتالیس تک کے مجاہدین آزادی کو پیش کیاگیا۔

    فوٹو نمائش میں سترہ سو ستاون میں پلاسی میں ہوئی سراج الدولہ اور انگریزوں کے بیچ ہوئی جنگ سے لیکر انیس سو سینتالیس تک کے مجاہدین آزادی کو پیش کیاگیا۔

    فوٹو نمائش میں سترہ سو ستاون میں پلاسی میں ہوئی سراج الدولہ اور انگریزوں کے بیچ ہوئی جنگ سے لیکر انیس سو سینتالیس تک کے مجاہدین آزادی کو پیش کیاگیا۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں جشن یوم جمہوریہ کو جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ جشن یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بھوپال میں بینظیر انصار ایجوکیشن سو سائٹی کے زیر اہتمام تحریک آزادی کے گمنام مجاہدین آزادی کی فوٹو نمائشکا اہتمام کیاگیا۔ فوٹو نمائش کا انعقاد اکتیس جنوری تک جاری رہے گا۔ فوٹو نمائش میں سترہ سو ستاون میں پلاسی میں ہوئی سراج الدولہ اور انگریزوں کے بیچ ہوئی جنگ سے لیکر انیس سو سینتالیس تک کے مجاہدین آزادی کو پیش کیاگیا۔ نمائیش میں آئے دانشوروں کا ماننا ہے کہ آزادی ملک کی ساجھی وراثت کا حصہ ہے لیکن آزادی کے بعد ایک خاص طبقہ کے مجاہدین آزادی کو ترکیب کے ساتھ باہر کردیا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نئی نسل آزادی کے ہیرو کے نام پر چند مجاہدین آزادی کے نام کو ہی جانتی ہے ۔ بینظیر انصار ایجوکیشن سو سائٹی کے صدر و چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ آزادی کے گمنام مجاہدین کی فوٹو نمائش کو لگانے کا مقصد نئی نسل کو آزادی کے ہیرو سے واقف کرانا ہے ۔ہمارے یہاں اب جب آزادی کی بات ہوتی ہے تو ایک طبقہ کے مجاہدین آزادی کا نام لینا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر جب مولانا برکت اللہ بھوپالی کا نام لیا جائے تو ان کے ساتھ راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ کا بھی نام لیا جانا چاہیپے۔اسی طرح سے غدر پارٹی کے سبھی لوگوں کا نام لیا جانا چاہیے۔

    آج جب سبھاش چندر بوس کی بات ہوتی ہے تو جنرل موہن سنگھ،جنرل موہن ،جنرل چٹرجی اور جنرل شہنواز کی بات کی جانا چاہیپے۔اسی طرح جنرل کیانی ،کیپٹن عباس کی بھی بات کی جانا چاہیے۔میرا کہنا ہے کہ جس طرح سے ملک کی آزادی مل کر لڑی گئی تھی اور ہماری آزادی ساجھی وراثت کا حصہ ہے اسی طرح آج ساجھی وراثت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر ساجھی وراثت کو مستحکم نہیں کیاگیا تو ہمارا ملک ختم ہو جائے گا۔تحریک آزادی میں مدارس اور علمائے دین نے بنیاد کا کردار ادا کیاہے لیکن آج مولانا فضل حق خیر آبادی کو نئی نسل کے کتنے لوگ جانتے ہیں۔

    ریشمی رومال تحریک کے مجاہدین آزادی کو کتنے لوگ جانتے ہیں ۔مولوی محمد باقر ملک کے پہلے صحافی تھے جنہوں نے آزادی کے لئے اپنی قربانی دی تھی ۔ہمارے یہاں آزادی کے نام پر کچھ نام دہرائے جاتے ہیں وہ بھی پارٹی لائن پر جو ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔ ممتاز ادیب ضیافاروقی کہتے ہیں کہ نمائش کو دیکھ کر آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔ واقعی یہاں پر جن گمنام مجاہدین آزادی کو فوٹو اور دستاویز کے ساتھ پیش کیاگیا ہے وہ نہ صرف ہماری تاریخ کا اہم حصہ ہیں بلکہ انہیں منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے ۔میری معلومات میں یہاں آکر بہت اضافہ ہوا ہے اور میں یہ چاہوں گا کہ ایک ہفتہ کی اس نایاب نمائش  سے سبھی کو استفادہ اٹھانا چاہیئے ۔کیونکہ اس نمائش میں سبھی قوموں کے گمنام مجاہدین آزادی کو پیش کیاگیاہے۔

    نمائش دیکھنے آئے کھلان سنگھ کہتے ہیں کہ آزادی کے ہیرو کے نام پر ایسی نمائش اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ نمائش نہ صرف اہم بلکہ اس کی دستاویزی بہت اہمیت ہے ۔اور سچ پوچھیئے تو یہاں پر ساجھی وراثت کو پیش کیاگیاہے اور اسی کی ملک کو ضرورت ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: