ہوم » نیوز » No Category

آر ایس ایس کا آبادی کی پالیسی یکساں طور پر نافذ کئے جانے کا مطالبہ

رانچی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے آبادی کی پالیسی کا پھر سے تعین کر کے اسے بالکل یکساں طور پر نافذ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 01, 2015 12:28 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آر ایس ایس کا آبادی کی پالیسی یکساں طور پر نافذ کئے جانے کا مطالبہ
رانچی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے آبادی کی پالیسی کا پھر سے تعین کر کے اسے بالکل یکساں طور پر نافذ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔

رانچی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے آبادی کی پالیسی کا پھر سے تعین کر کے اسے بالکل یکساں طور پر نافذ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ سنگھ نے سرحد پار سے ہو نے والی دراندازی مکمل طور پر روکنے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن بناکران دراندازوں کو شہریت کے حقوق اور زمین کی خریداری کے حق سے محروم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔


اس سلسلے میں رانچی میں سنگھ کے اکھل بھارتیہ کاریہ کارنی منڈل (آل انڈیا ایکزیکیوٹیو بورڈ) کے تین روزہ اجلاس کے دوسرے دن آج ایک قرارداد منظور کی گئی۔ سنگھ کے جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر کرشن گوپال نے بتایا کہ منڈل کی میٹنگ میں آبادی میں اضافہ کی شرح میں عدم توازن کے چیلنج پر قرارداد منظور کی گئی۔


انہوں نے کہا کہ آل انڈیا ایگزیکٹو بورڈ تمام رضاکاروں سمیت ہم وطنوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنا قومی فرض مان کر آبادی میں عدم توازن پیدا کر رہے تمام اسباب کی شناخت کرکے عوامی بیداری کے ذریعہ ملک کی آبادی کو عدم توازن سے بچانے کے لئے تمام قانونی کوشش کریں۔


انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہندوستان ان معروف ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1952 میں آبادی کنٹرول کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن سال 2000 میں جا کر ہی ایک جامع آبادی پالیسی اور آبادی کمیشن قائم ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد 2045 تک مستحکم اور صحت مند آبادی کے مقصد کو حاصل کرنا تھا۔


ڈاکٹر کرشن گوپال نے کہا کہ 1951 سے 2011 کے درمیان آبادی میں اضافہ کی شرح میں زبردست فرق کی وجہ سے ملک کی آبادی میں جہاں ہندوستان میں پیدا ہونے والوں کا تناسب 88 فیصد سے گھٹ کر 83.8 فیصد رہ گیا ہے وہیں مسلم آبادی 9.8 فیصد سے بڑھ کر 14.23 فیصد ہو گئی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ آسام، مغربی بنگال اور بہار کے سرحدی اضلاع میں تو مسلم آبادی کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے جس سے واضح طور پر بنگلہ دیش سے مسلسل ہو رہی دراندازی کا اشارہ ملتاہے۔


انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کئے گئے اپمنیو ہزاریکا کمیشن کے رپورٹ اور وقت وقت پر آئے عدالتی فیصلوں میں بھی ان حقائق کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غیر قانونی درانداز ریاست کے شہریوں کے حقوق ہڑپ ہیں اور ان ریاستوں کے محدود وسائل پر بھاری بوجھ بن کر سماجی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی کشیدگی کا سبب بن رہے ہیں۔ صرف ایک دہائی میں ہی اروناچل پردیش میں عیسائی آبادی میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

First published: Oct 31, 2015 10:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading