ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا قہر میں خود کفیل ادارے بھی ہوئے کنگال، اوقاف عامہ نے قرض لے کر ادا کی ملازمین کی تنخواہ

کورونا کا قہر صرف عام انسانوں کو ہی متاثر نہیں کر رہا ہے بلکہ اربوں کی ملکیت کے مالک خود کفیل ادارے بھی کورونا قہر میں کنگال ہو گئے ہیں ۔ بھوپال اوقاف عامہ متولی کمیٹی جس کی سالانہ آمدنی کروڑوں میں ہوتی تھی اور اس ادارے نے آزادی کے بعد کبھی ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کے لئے قرض نہیں لیا تھا، پہلی بار اسے بھی قرض لیکر ملازمین کی تنخواہ ادا کرنی پڑی ہے۔

  • Share this:
کورونا قہر میں خود کفیل ادارے بھی ہوئے کنگال، اوقاف عامہ نے قرض لے کر ادا کی ملازمین کی تنخواہ
کورونا قہر میں خود کفیل ادارے بھی ہوئے کنگال، اوقاف عامہ نے قرض لے کر ادا کی ملازمین کی تنخواہ

بھوپال۔ کورونا کا قہر صرف عام انسانوں کو ہی متاثر نہیں کر رہا ہے بلکہ اربوں کی ملکیت کے مالک خود کفیل ادارے بھی کورونا قہر میں کنگال ہو گئے ہیں ۔ بھوپال اوقاف عامہ متولی کمیٹی جس کی سالانہ آمدنی کروڑوں میں ہوتی تھی اور اس ادارے نے آزادی کے بعد کبھی ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کے لئے قرض نہیں لیا تھا، پہلی بار اسے بھی قرض لیکر ملازمین کی تنخواہ ادا کرنی پڑی ہے۔


مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے ذیلی ادارے کے طور پر بھوپال میں متولی کمیٹی اوقاف عامہ اور شاہی اوقاف کے ادارے کام کرتے ہیں ۔ ان اداروں میں شاہی اوقاف نوابین بھوپال کی  وقف کردہ زمینوں کی نگرانی کا کام کرتا ہے جبکہ اوقاف عامہ کے ذریعہ راجدھانی بھوپال کی وقف املاک کی نگرانی کاکام کیا جاتا ہے۔ ان اداروں میں سب سے زیادہ خود کفیل ادارے کی حیثیت اوقاف عامہ کی ہے۔ اوقاف عامہ کے ذریعہ ہی بھوپال میں بیواؤں، یتیموں کی مدد کے ساتھ ہونہار طلبا کو اسکالرشپ کے ساتھ کتابوں کی فراہمی کا کام کیا جاتا ہے۔ لیکن ادارے کے قیام کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کورونا قہر کے سبب ادارہ خستہ حالی کا نہ صرف شکار ہوا ہے بلکہ اس کے فلاحی کام بھی متاثر ہوئے ہیں۔


کمیٹی اوقاف عامہ کے صدر عبد المغنی خان کہتے ہیں کہ کورونا کے قہر میں قریب تین مہینے ایسے گزرے ہیں کہ جس کا بیان لفظوں میں نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ اپریل ،مئی اور جون میں تو کورونا قہر کے سبب حالات نہ گفتہ بہ ہوگئے تھے ۔ اب آفس کھل رہا ہے  اور تیزی سے کام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نے 65 سے 70 فیصد حالات کو ریکور کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ ہم بہت جلد اپنے ہدف کو پا لیں گے اور اسی طرح سے اپنے سبھی کام کو انجام دیں گے جیسے پہلے یہاں سے سبھی کام کو انجام دیا جاتا تھا۔


اوقاف عامہ متولی کمیٹی کے سکریٹری حسیب اللہ خان کہتے ہیں کہ کورونا قہر تو ایک عذاب کی طرح نازل ہوا ہے ۔ حالات سابقہ مہینوں میں اتنے خراب ہوئے کہ ہمیں ملازمین کی تنخواہ کے لئے دوسرے ادارے سے مدد لینی پڑی۔


اوقاف عامہ متولی کمیٹی کے سکریٹری حسیب اللہ خان  کہتے ہیں کہ کورونا قہر تو ایک عذاب کی طرح نازل ہوا ہے ۔ حالات سابقہ مہینوں میں اتنے خراب ہوئے کہ ہمیں ملازمین کی تنخواہ کے لئے دوسرے ادارے سے مدد لینی پڑی۔ جب آفس ملازمین کی تنخواہ کے لئے ہی ہمارے پاس فنڈ جمع نہیں ہو سکا تو ایسے میں فلاحی کام کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اب ان لاک 4 ہے ۔دفاتر کے کھولنے کے ساتھ اوقاف کرایہ داروں سے وصولی کی جارہی ہے ۔ بڑے کرایہ داروں کو نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ 65 سے 70 فیصد تک ہم نے اپنے حالات پر قابو پالیا ہے اور ان شا اللہ جیسے پہلے اوقاف عامہ کے ذریعہ فلاحی کام کئے جاتے رہے ہیں اسی طرح سے فلاحی کام انجام دئے جائیں گے۔ بیواؤں اور یتیموں کی مدد کے ساتھ ہونہار طلبا کو اسکالرشپ اور غریب طلبا کو کتابیں مفت فراہم کرانے کا بھی کام ہوگا۔ بس اللہ سے دعا ہے کہ اس وبائی بیماری سے جلد سے جلد ہمیں نجات دیدے اور ہمارے شہر و صوبہ میں پہلے جیسے امن کے حالات پیدا کردے۔

واضح رہے کہ کورونا قہر میں نہ صرف اوقاف عامہ کی آمدنی متاثر ہوئی ہے بلکہ کورونا کی آڑ میں بہت لوگوں نے موقع کی نزاکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زمینوں پر بھی قبضہ کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وقف کیلول پارک قبرستان میں نگر نگم کے ذریعہ تعمیر کی جا رہی سڑک اور پل بھی قبرستان کی زمین پر کیا جا رہا ہے۔ اس زمین کے ساتھ دوسری زمینوں کو واپس لینے کی کاروائی شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں محبان بھارت اور دوسری تنظیموں کے ذمہ داران نے بھی اپنا میمورنڈم کمیٹی اوقاف عامہ کو پیش کیا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 23, 2020 09:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading