ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

گاندھی جی کے محافظ بطخ میاں انصاری کی خدمات پر سمینار کا انعقاد

بطخ میاں انصاری کا اصل نام بخت میاں انصاری ہے ، مگر تاریخ میں ان کا نام بگڑ کر بطخ میاں انصاری ہوگیا ہے ۔ بطخ میاں انصاری کی پیدائش کا سال وہی ہے جو بابائے قوم مہا تما گاندھی کی پیدائش کا سال ہے ۔

  • Share this:
گاندھی جی کے محافظ بطخ میاں انصاری کی خدمات پر سمینار کا انعقاد
گاندھی جی کے محافظ بطخ میاں انصاری کی خدمات پر سمینار کا انعقاد

ہمارے ملک میں تحریک آزادی کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو دانشور چند نام لیکر خاموش ہوجاتے ہیں ، حالانکہ ملک کی آزادی کے لئے ایسے بے شمار لوگوں نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں ، جن کے ذکر کے بغیر ملک کی تحریک آزادی کی تاریخ ادھوری ہے ۔ ایسے ہی ایک جانباز بطخ میاں انصاری ہیں ، جنہوں نے گاندھی جی کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔


بطخ میاں انصاری کا اصل نام بخت میاں انصاری ہے ، مگر تاریخ میں ان کا نام بگڑ کر بطخ میاں انصاری ہوگیا ہے ۔ بطخ میاں انصاری کی پیدائش کا سال وہی ہے جو بابائے قوم مہا تما گاندھی کی پیدائش کا سال ہے ۔ بخت میاں انصاری سے گاندھی جی کی ملاقات چمپارن ستیہ گرہ کے دوران ہوئی تھی ۔ چمپارن میں کسانوں کے ستیہ گرہ میں گاندھی جی کی قیادت میں جس طرح سے شرکت کی ، اس سے انگریزی حکومت کے پیر اکھڑ گئے اور انہوں نے گاندھی جی کو مارنے کا فیصلہ کیا ۔ فیصلہ کے تحت گاندھی جی کو زہر دیکر مارنا طے کیا گیا ۔ اس کے انگریزافسر نے اپنے خان ساماں بطخ میاں انصاری کا انتخاب کیا ۔ گاندھی جی کے کھانے میں زہر ملانے سے قبل انگریز افسر نے بطخ میاں انصاری کو خوب لالچ دیا اور جب بطخ میاں انصاری اس سے مرعوب نہیں ہوئے تو انگریز افسر بطخ میاں انصاری کے خاندان کو تباہ کر نے کی بھی دھمکی دی ۔


مگر اصول کے پکے بطخ میاں انصاری کب انگریز افسر کی دھمکی سے ڈرنے والے تھے ، انہوں نے گاندھی جی کی حفاظت کے لئے اپنا گھر اور خاندان  تباہ ہونا اور خود جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا منظور کیا ، مگر گاندھی جی پر آنچ نہیں آنے دی ۔ بطخ میاں انصاری نے انگریز افسر کی ساری سازش کو گاندھی جی کو بتادیا ۔ جس کے نتیجے میں گاندھی جی کی جان تو بچ گئی ، مگر بطخ میاں انصاری کے حصے میں جیل کی صعوبتیں آئیں اور ان کے گھر کے افراد کو درد بدر ہونا پڑا۔


شعری اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال کوہ فضا میں منعقدہ سمینار میں اردو اور ہندی کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی ۔ ممتاز ہندی صحافی و ادیب رگھو ٹھاکر جو سمینار کے مہمان خصوصی تھے ۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہم لوگ گاندھی جی کے قاتل کو تو جانتے ہیں مگر محافظ کو نہیں جانتے ہیں ۔ بطخ میاں انصاری گاندھی جی کے محافظ ہیں اور انہوں نے جو عظیم قربانی دی ہے وہ صرف گاندھی جی پر احسان نہیں تھا بلکہ پورے ملک پر احسان تھا۔ مجھے یہ بھی کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ چمپارن ستیہ گرہ میں گاندھی جی کے ساتھ ملک کے پہلے صدر جمہوریہ ہند  ڈاکٹر راجیند پرساد بھی تھے اور انہوں نے آزادی کے بعد جب انصاری جیل سے باہر آئے تو انہیں انعام کے طور پر حکومت کی جانب سے اکاون ایکڑ زمین دینے کا اعلان کیا تھا ، مگر وہ زمین آج تک ان کے وارثوں کو نہیں مل سکی ۔ جس طرح ہمارے مجاہدین آزادی نے ملک کی آزادی ملکر لڑی تھی اور کامیابی حاصل کی تھی ، اسی طرح آج بھی ساجھی وراثت کے تحفظ کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

گاندھی جی کے محافظ بطخ میاں انصاری کی حیات و خدمات پر سابق ڈی جی پی چھتیس گڑھ اے ڈبلیو انصاری نے کتاب مرتب کی ہے ۔ بطخ میاں انصاری کی انوکھی کہانی کے عنوان سے ایک سو پچھہتر صفحات پر مشتمل اس کتاب میں گاندھی جی کے محافظ کی زندگی کے مختلف انچھوئے پہلووں کو پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مرتب اے ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ جب میں انصاری کے بارے میں پڑھا تو میری حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ پھر میں نے کتاب کو ترتیب دینے کے لئے ملک کے مختلف حصو ں کی لائبریری کی خاک چھانی اور اب اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میری کوشش ہے کہ آزادی کے گمنام ہیرو کو منظر عام پر لاوں تاکہ نئی نسل ان کے عظیم کارناموں سے واقف ہو سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 15, 2020 11:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading