உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیمینار: قرۃالعین حیدر نے لکھے ہیں شاہکار افسانے اور ناول، ان کی تخلیقات اردو ادب میں اضافہ

    بھوپال۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر نےاپنی تحریروں سے جو مقام حاصل کیا وہ نصیب والوں کا ہی حصہ ہوتا ہے۔

    بھوپال۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر نےاپنی تحریروں سے جو مقام حاصل کیا وہ نصیب والوں کا ہی حصہ ہوتا ہے۔

    بھوپال۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر نےاپنی تحریروں سے جو مقام حاصل کیا وہ نصیب والوں کا ہی حصہ ہوتا ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

       بھوپال۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر نےاپنی تحریروں سے جو مقام حاصل کیا وہ نصیب والوں کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے افسانہ اورناول نگاری کے ذریعہ نہ صرف اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ ایسے افسانے اور ناول لکھے جو اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہیں ۔ ان خیات کا اظہار بھوپال میں منعقدہ قومی سمینار میں دانشوروں نے کیا۔


      ممتاز ادیبہ قرۃ العین حیدر ( عینی آپا  ) کی ولادت بیس جنوری انیس سو ستائیس کو علی گڑھ میں ہوئی اور انتقال اکیس اگست دوہزار سات کو نوئیڈا میں ہوا۔ انہوں نے علی گڑھ، لکھنؤ یونیورسٹی اور اندر پرستھ کالج  دہلی سے تعلیم حاصل کی۔ قرۃ العین حیدر کو ادب کو تخلیق کرنے کا فن وراثت میں ملا تھا۔ انکے والد سجاد حیدر یلدرم نے بھی بہت سے رومانی افسانے اور سفر نامے لکھے ہیں ۔ سجاد حیدر یلدرم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رجسٹرار بھی رہے ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے ادب میں اپنے والدین کی تقلید نہیں کی بلکہ اپنے منفرد اسلوب سے اس میں اضافہ کیا ہے۔ بھوپال میں منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ سمینار میں دانشوروں نے قرۃ العین حیدر کی تحریروں اور بھوپال سےان کے رشتے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔


      اردو ادب میں افسانہ، ناول اور ناول نگاری کی عمر زیادہ نہیں ہے لیکن اردو کے ادیبوں نے اس مختصرعرصہ میں جو شاہکار افسانے اورناول لکھے ہیں وہ عالمی ادب کےسامنےکہیں بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا، گردش رنگ چمن، میرے بھی صنم خانے، شیشے کا گھر، چاندنی بیگم، آخری شب کے مسافر، ستمبر کا چاند میں جو لکھا ہے وہ عالمی ادب کا حصہ ہے۔ قرۃ العین حیدرکے افسانے اور ناولوں میں انسانی درد، حکومتوں کا ظلم و جبر، انسانی اقدار، ہندوستانی عناصر، صوفیا کی تعلیم کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ آج کے زمانے کی ضرورت ہے۔


      قرۃ العین حیدر کی ادبی تخلیقات پرانہیں بہت سے اعزاز سے نوازا گیا ۔ انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، مدھیہ پردیش کا باوقار کل ہند اقبال ایوارڈ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، غٓالب ایوارڈ، بہادر شاہ ظفرایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔ وہیں ان کی ادبی خدمات کےتحت حکومت ہند  نے 1984 میں پدم شری ایوارڈ، 2005 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ اور وہ دن بھی آیا جب قرۃ العین حیدر کو 1989 میں با وقار گیان پیٹھ اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اردو ادب میں گیان پیٹھ اعزاز حاصل کرنے والی قرۃ العین حیدر پہلی خاتون ہیں۔




       ان کی ادبی خدمات کےتحت حکومت ہند  نے 1984 میں پدم شری ایوارڈ، 2005 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ اور وہ دن بھی آیا جب قرۃ العین حیدر کو 1989 میں با وقار گیان پیٹھ اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
      ان کی ادبی خدمات کےتحت حکومت ہند نے 1984 میں پدم شری ایوارڈ، 2005 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ اور وہ دن بھی آیا جب قرۃ العین حیدر کو 1989 میں با وقار گیان پیٹھ اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

      قرۃ العین حیدر کو عام طور پر افسانہ اور ناول نگار کی حیثیت سے جانا جاتا ہے لیکن وہ بہترین صحافی بھی تھیں اور انہوں نے مختلف اداروں میں رہتے ہوئےجو ادبی صحافت کا کارنامہ انجام دیا ہے وہ نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔

      First published: