உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شنکرآچاریہ سوامی سوروپانند نے اٹھایا رام مندر کا مسئلہ ، کہا مودی جلد كرائیں تعمیر

    اندور : دواریکا پیٹھ کے جگدگرو شنکرآچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی نے مودی حکومت سے دفعہ 370 ہٹانے اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کرانےکا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے گئو کشی پر پابندی لگانے اور ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کو بھی ختم کرنے کے مطالبہ کے دوہرایا ۔

    اندور : دواریکا پیٹھ کے جگدگرو شنکرآچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی نے مودی حکومت سے دفعہ 370 ہٹانے اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کرانےکا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے گئو کشی پر پابندی لگانے اور ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کو بھی ختم کرنے کے مطالبہ کے دوہرایا ۔

    اندور : دواریکا پیٹھ کے جگدگرو شنکرآچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی نے مودی حکومت سے دفعہ 370 ہٹانے اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کرانےکا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے گئو کشی پر پابندی لگانے اور ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کو بھی ختم کرنے کے مطالبہ کے دوہرایا ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      اندور : دواریکا پیٹھ کے جگدگرو شنکرآچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی نے مودی حکومت سے دفعہ 370 ہٹانے اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کرانےکا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے گئو کشی پر پابندی لگانے اور ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کو بھی ختم کرنے کے مطالبہ کے دوہرایا ۔


      اندور کے نینود میں واقع ماں بگلامكھی سدھ پيٹھ واقع شنکرآچاریہ کی خانقاہ پہنچے سوامی سوروپانند سرسوتی نے مودی حکومت کے کام کاج پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے انگلینڈ میں مودی کے ذریعہ ہندوستان کو بودھ کا ملک بتانے پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک رام اور کرشن کا ملک ہے۔ یہ ملک بودھ کا نہیں ہو سکتا۔


      شنکرآچاریہ نے کہا کہ عوام نے کافی توقعات کے ساتھ مودی کو وزیر اعظم بنایا۔ ایسے میں ان لوگوں کی امیدوں پر کھرا اترنا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں شنکر آچاریہ نے مطالبہ کیا کہ اسکولی نصاب میں گیتا اور رامائن پڑھائی جائے تاکہ ملک کی آنے والی نسلیں تہذیب یافتہ بن سکیں۔


      سوامی سوروپانند سرسوتی نے ریزرویشن کو ختم کرنے کی وکالت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن سے پسماندہ افراد کا بھلا ہونے کی بجائے ان کا نقصان ہی ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے انداز میں شرڈی کے سائیں بابا پر بھی حملہ بولا۔

      First published: