اپنا ضلع منتخب کریں۔

    خواتین کے نس بندی کیمپ کی شرمناک تصاویر، بیڈ اور اسٹریچر کی بجائے زمین پر لٹاکر کیا جارہا ہے یہ کام

    یہ معاملہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 150 کلومیٹر دور وجے پور کے کمیونٹی اسپتال سے متعلق ہے، جہاں جمعرات سے خواتین کی نس بندی کا دو روزہ کیمپ لگایا گیا ہے۔

    یہ معاملہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 150 کلومیٹر دور وجے پور کے کمیونٹی اسپتال سے متعلق ہے، جہاں جمعرات سے خواتین کی نس بندی کا دو روزہ کیمپ لگایا گیا ہے۔

    یہ معاملہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 150 کلومیٹر دور وجے پور کے کمیونٹی اسپتال سے متعلق ہے، جہاں جمعرات سے خواتین کی نس بندی کا دو روزہ کیمپ لگایا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Sheopur
    • Share this:

      مدھیہ پردیش کے شیوپور ضلع سے خواتین کے نس بندی کیمپ کی شرمناک تصویریں منظر عام پر آئی ہیں۔ اسپتال میں بیڈز اور اسٹریچرز کا انتظام کرنے کے بجائے خواتین کو زمین پر لیٹا کر ان کی نس بندی کی جا رہی ہے۔ اسپتال میں 9 ڈگری درجہ حرارت میں خواتین سردی سے ٹھٹھرتی رہیں، اسپتال انتظامیہ نے کمبل اور گدوں کا بھی انتظام نہیں کیا۔ اب الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ کیمپ ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے لیے بدحال انتظامات کے درمیان لگایا گیا ہے۔


      یہ معاملہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 150 کلومیٹر دور وجے پور کے کمیونٹی اسپتال سے متعلق ہے، جہاں جمعرات سے خواتین کی نس بندی کا دو روزہ کیمپ لگایا گیا ہے۔ اس کیمپ میں جمعرات کو 77 خواتین کی نس بندی کی گئی جمعہ کی صبح 11 بجے تک 17 خواتین کی نس بندی ہو چکی ہے۔

       

      مرا نہیں، ابھی زندہ ہے دہشت گرد رندا! موت کی خبر کا کیا تھا مقصد، ہوا ابڑا انکشاف


      2 میچ میں ہی ٹیم انڈیا کی بڑی کمزوری سامنے آئی، ونڈے ورلڈ کپ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجائی


      گود میں اٹھاکر خواتین کو لے جارہے اہل خانہ
      حیرت کی بات ہے کہ اس کیمپ میں خواتین کے لیٹنے کے لیے نہ تو بستر ہیں اور نہ ہی انھیں لانے کے لیے اسٹریچر اور ایمبولینس کا انتظام  کچھ بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں خواتین کو زمین پر لٹا کر ان کی نس بندی کی جا رہی ہے۔ خواتین کو لانے اور لے جانے کا کام ان کے رشتہ دار کر رہے ہیں۔ اسٹریچر کی عدم دستیابی کے باعث نس بندی کروانے والی خواتین کے مرد اور رشتہ دار ہاتھ پاؤں پکڑ کر گاڑیوں تک لے جا رہے ہیں۔ اس جھگڑے میں خواتین کو چوٹیں بھی لگ سکتی ہیں اور ان کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن، ذمہ داروں کو اپنی جان سے زیادہ ٹارگٹ پورا کرنے کی فکر ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: