ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

دہلی تشدد معاملہ: بھوپال میں سماجی تنظیموں نے کیا احتجاج

بھوپال میں لوک تانترک ادھیکار منچ کے بینر تلے سماجی تنظیموں نے بھوپال کے رنگ محل سے گورنر ہاؤس کی جانب ریلی نکال کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرین گورنر ہاؤس تک جلوس لے کرجانا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔

  • Share this:
دہلی تشدد معاملہ: بھوپال میں سماجی تنظیموں نے کیا احتجاج
بھوپال میں سماجی تنظیموں نے کیا احتجاج

بھوپال: شہریت ترمیمی قانون کی حمایت اور مخالفت میں دہلی میں ہوئے تشدد نے ملک کے حساس شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک کا دل کہے جانے والے شہر دہلی میں شرپسند عناصر نے جس طرح سے انسانیت کو شرمسار کرنےکا کام کیا ہے اس کی جنتی بھی مخالفت کی جائے کم ہے۔ بھوپال میں لوک تانترک ادھیکار منچ کے بینر تلے سماجی تنظیموں نے بھوپال کے رنگ محل سے گورنر ہاؤس کی جانب ریلی نکال کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرین گورنر ہاؤس تک جلوس لے کرجانا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ پولیس نے رنگ محل سے روشن پورا چوراہے کی جانب بڑھتے ہی بیریکیٹنگ کر کےاحتجاجی مظاہرین  کو روک دیا۔ احتجاجی مظاہرین نے وہیں سڑک پر بیٹھ کر مظاہرہ کیا۔ اورصدر جمہوریہ ہند کے نام کا میمورنڈم ضلع انتظامیہ کے افسر ایس ڈی ایم کو پیش کیا۔


احتجاجی مظاہرین نے دہلی تشدد پرجہاں پولیس کےکردار کی مذمت کی وہیں انہوں نے طبقات کے لوگوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ مل کر اپنے مسائل کو حل کرنے کی بات کہی۔ احجاجی مظاہرہ میں شامل وجے کمار کہتے ہیں کہ دہلی تشدد ہند مسلم کے بیچ تشدد نہیں بلکہ سیاست کے بازیگروں کے اشارے میں دونوں قوموں کے بیچ نفرت پیدا کرنے کے لئے یہ تشدد پیدا کیا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ جو چاہتے ہیں کہ سی اے اے ،این آرسی اور این پی آر کے خلاف ملک میں جاری ستیہ گرہ و دھرنے کو کمزور کیاجائے ۔ حکومت چاہے جتنی بھی سازش کر لے ہم ہندستانیوں کے بیچ آپسی اتحاد کسی بھی صورت ختم ہونے والا نہیں ہے۔


احتجاجی مظاہرین گورنر ہاؤس تک جلوس لیکر جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔
احتجاجی مظاہرین گورنر ہاؤس تک جلوس لیکر جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔


احتجاج میں شامل انور پتھان دہلی تشدد میں پولیس کی خاموشی  کو مضحکہ خیز بتاتے ہیں۔۔ انور کہتے ہیں کہ اگر پولیس نے وقت رہتے دنگائیوں کے خلاف کاروائی کی ہوتی تو آج اتنے لوگوں کی جان نہیں گئی ہوتی۔جب آگ لگتی ہے توپھر یہ نہیں دیکھتی کہ یہ گھر ہندو کا ہے مسلمان کا ؟سیاست ہمارے بیچ سیاسی مفاد کے لئے نفرت پیدا کر نے کا کام رہی ہے اور ہم ہندستانیوں کو اسے سمجھنا ہوگا۔
First published: Feb 28, 2020 12:11 AM IST