உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پردیش 18 اسپیشل: 'تین طلاق' کی دردناک کہانیاں، کہیں نیند میں تو کہیں موبائل پر شوہر نے توڑا رشتہ

    ان دنوں پورے ملک میں طلاق کے قانون میں تبدیلی کو لے کر بحث چل رہی ہے تو وہیں ایم پی میں اس سے منسلک دو ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر 'تین طلاق' پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

    ان دنوں پورے ملک میں طلاق کے قانون میں تبدیلی کو لے کر بحث چل رہی ہے تو وہیں ایم پی میں اس سے منسلک دو ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر 'تین طلاق' پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

    ان دنوں پورے ملک میں طلاق کے قانون میں تبدیلی کو لے کر بحث چل رہی ہے تو وہیں ایم پی میں اس سے منسلک دو ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر 'تین طلاق' پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ ان دنوں پورے ملک میں طلاق کے قانون میں تبدیلی کو لے کر بحث چل رہی ہے تو وہیں ایم پی میں اس سے منسلک دو ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر 'تین طلاق' پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اب ان معاملات میں پہل کرتے ہوئے ایک خاتون سماجی کارکن اور مسلم خواتین تنظیم نے متاثرین کو قانون کے ذریعے انصاف دلانے کی ٹھانی ہے۔

      دراصل، یہ دونوں ہی معاملے مدھیہ پردیش میں ستنا ضلع کے نظيرآباد علاقے کے ہیں۔ جہاں پر ایک عورت کو سوتے وقت تو ایک کو اس کے شوہر نے موبائل پر طلاق دے دی۔ اس کے بعد جہاں یہ خواتین دو وقت کی روٹی  کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، تو وہیں ان کے شوہر دوسری شادی کر پھر سے اپنا گھر بسا چکے ہیں۔

      سوتی ہوئی بیوی کو طلاق دے گیا شوہر

      talaq-shabana-canva

      پہلا معاملہ نظيرآباد میں رہنے والی شبانہ نشا کا ہے۔ شبانہ کی شادی 07 جولائی 2013 کو یو پی کے باندا کے بسودا رہائشی سلیم سوداگر سے ہوئی تھی۔ شادی کے ایک سال بعد جولائی 2014 میں سوتے وقت اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ سو کر اٹھنے کے بعد طلاق دینے کی بات شبانہ کی دیورانی نے اسے بتائی اور کہا کہ وہ گھر سے چلی جائے۔ ایک پاؤں سے معذور شبانہ اب کپڑوں کی سلائی بنائی کام کر گزر بسر کرنے پر مجبور ہے جبکہ اس کا شوہر سلیم دوسری شادی کر آرام سے اپنی زندگی جی رہا ہے۔

      شبانہ نے کہا ‘‘ انہوں نے مجھے سوتے ہوئے میں طلاق دے دیا۔ صبح دیورانی نے بتایا کہ بھائی جان نے آپ کو طلاق دے دیا ہے۔ میں نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میرا گھر یہی ہے، میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ اس پر میری دیورانی نے کہا کہ نہیں یہ حرام ہے، حلالہ  ہوگا، آپ کو اس گھرسے جانا ہی ہوگا ... اور پھر انہوں نے مجھے ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا ... یہ کیسا قانون ہے کہ شوہر نے طلاق دے دی اور بس طلاق ہو گیا ... پھر چاہے زندگی برباد ہونے پر لڑکیاں روڈ پر ہی کیوں نہ آ جائیں’’۔

      - شبانہ نشا، طلاق شدہ عورت

      موبائل پر طلاق، طلاق، طلاق

      talaq-khusboo-canva

      تین طلاق سے منسلک دوسرا افسوسناک معاملہ بھی نظيرآباد کا ہی ہے۔ خوشبو کی شادی 7 جون 2007 میں الہ آباد کے نرياری گاؤں رہائشی شاہ عالم سے ہوئی تھی۔ شادی کے دو سال بعد ہی سسرال والوں نے اسے جہیز کے لئے ذہنی اور جسمانی تشدد دینا شروع کر دیا۔ اس درمیان اسے ایک بیٹا بھی ہوا، لیکن اس پر ظلم کم نہیں ہوئے اور اسے زبردستی میکے بھیج دیا گیا۔ میکے پہنچنے کے ایک دن بعد ہی شاہ عالم نے اسے موبائل پر طلاق دے دیا۔ اپنے تین سال کے معصوم بیٹے کو پالنے کے لئے اب خوشبو لوگوں کے گھر میں جھاڑو لگا رہی ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ طلاق کیوں مان لیا، تو سماج اور روایت کو لے کر خوشبو کی ناراضگی صاف نظر آئی۔

      خوشبو نے کہا ‘‘ ماننا تو پڑے گا ہی نہ۔ یہاں سب کہتے ہیں کہ ایک بار شوہر نے طلاق دے دی تو طلاق ہو گئی۔ مولانا بھی یہی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ شوہر نے اگر طلاق دے دی تو مانا جائے گا۔ چاہے فیس بک پر ہو یا فون پر، طلاق دے دی تو ہو گئی۔ ایسا طلاق کس مطلب کا ہے۔

      - خوشبو بیگم، طلاق شدہ عورت

      مسلم خواتین تنظیم سے مانگی مدد

      talaq-fahima-canva

      شبانہ اور خوشبو کے بارے میں پتہ چلنے پر مسلم سماجی کارکن خاتون فہمیدہ بیگم ان کی مدد کو آگے آئیں۔ انہوں نے دونوں خواتین کو بتایا کہ ان کے شوہروں نے شرعی قانون کا بیجا استعمال کیا ہے اور وہ انصاف کے لئے قانون کا سہارا لے سکتی ہیں۔ اس کے بعد دونوں خواتین نے فہمیدہ بیگم کے ذریعے بھوپال واقع مسلم خواتین کی تنظیم کو خط لکھ کر انہیں انصاف دلانے کی مانگ کی ہے۔

      فہمیدہ بیگم نے کہا ‘‘ دراصل، لوگوں نے شریعت کے قانون کو کھیل بنا لیا ہے۔ صرف دوسری شادی کرنے کے لئے مسلم مرد پہلی بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں۔ ان دونوں بچیوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ تین طلاق بول کر کسی کی زندگی اجاڑ دی جائے۔ ایک کو سوتے میں دوسری کو فون پر طلاق دے دیا گیا، یہ کیسا طلاق ہوا۔ تین طلاق پر روک لگنا چاہئے’’۔

      فہمیدہ بیگم، سماجی کارکن

      جہالت کی وجہ سے مسلم خواتین نہیں کر پا رہیں اپنا تحفظ

      talaq-lawyer-byte-canva

      دونوں خواتین کے طلاق کے معاملے میں ستنا ضلع عدالت کے شرعی قانون کے ماہر مقصود احمد کا کہنا ہے کہ جہالت اور بیداری کی کمی کی وجہ سے طلاق شدہ مسلم خواتین اپنے حقوق کا تحفظ نہیں کر پا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین شریعت میں دئیے گئے حق کو پہچان نہیں رہی ہیں۔ طلاق سے غیرمطمئن ہونے پر مسلم خواتین قانون کا سہارا لے سکتی ہیں اور زندگی گزارنے کے لئے گزارا بھتہ وقف بورڈ سے لیا جا سکتا ہے۔ جب تک مسلم خاتون شادی نہ کر لے تب تک وہ عدالت کے ذریعے شوہر سے گزارا بھتہ کا مطالبہ بھی رکھ سکتی ہے۔

      مقصود احمد نے کہا کہ طلاق کا قانون ایک سماجی نظام ہے جو آئین اور قانون میں محفوظ ہے۔ تاہم، دونوں صورتوں کے سامنے آنے کے بعد بھی انہوں نے شریعت کے قانون کی وکالت کرتے ہوئے اس میں تبدیلی اور چھیڑ چھاڑ کئے جانے کی کوشش کو غلط ٹھہرایا۔
      First published: