ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ میں مدرسہ امتحانات 2020 کی تاریخوں کے اعلان سے طلبہ میں خوشی

28 اکتوبر سے وسطانیہ تا مولوی درجہ کے امتحانات کے تعلق سے اشتہار جاری کیا گیا ہے ۔ کونسل کے اس اعلان سے مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ میں خوشی دیکھی جا رہی ہے ۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ نتائج کے اعلان میں تاخیر نہ کی جائے ۔ تاکہ طلبہ کا تعلیمی سیشن خراب نہ ہو ۔

  • Share this:
جھارکھنڈ میں مدرسہ امتحانات 2020 کی تاریخوں کے اعلان سے طلبہ میں خوشی
جھارکھنڈ میں مدرسہ امتحانات 2020 کی تاریخوں کے اعلان سے طلبہ میں خوشی

کورونا وبا کی وجہ سے جھارکھنڈ میں تقریباً سات ماہ کی تاخیر کے مدرسہ امتحانات کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی اجازت کے بعد جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل نے مدرسہ امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے ۔ 28 اکتوبر سے وسطانیہ تا مولوی درجہ کے امتحانات کے تعلق سے اشتہار جاری کیا گیا ہے ۔ کونسل کے اس اعلان سے مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ میں خوشی دیکھی جا رہی ہے ۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ نتائج کے اعلان میں تاخیر نہ کی جائے ۔ تاکہ طلبہ کا تعلیمی سیشن خراب نہ ہو ۔


عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کے ذریعہ رانچی میں قائم کردہ مدرسہ اسلامیہ کے مدرس مولانا محمد حماد قاسمی نے اکیڈمک کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر اروند پرساد سے امتحانات کے اختتام کے بعد قلیل مدت میں نتائج کے اعلان کی گزارش کی ہے ۔ وہیں دوسری جانب عالم و فاضل درجہ کے امتحانات کے تعلق سے اب تک واضح احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں ، جس وجہ سے عالم و فاضل درجہ کے طلبہ کافی پریشان ہیں ۔


دراصل جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل نے عالم و فاضل درجہ کے امتحانات کے انعقاد سے یہ کہتے ہوئے پلہ جھاڑ لیا ہے کہ کونسل کی اہلیت انٹرمیڈیٹ درجہ تک کے امتحانات کے انعقاد کی ہے ، ایسے میں کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر اروند پرساد نے دو سال قبل ہی محکمہ تعلیم کو اس تعلق سے روشناس کرا دیا تھا ۔ حالانکہ سابقہ حکومت کے اسرار پر گزشتہ سال اکیڈمک کونسل کے ذریعہ وسطانیہ تا مولوی درجہ کے امتحانات کے ساتھ عالم و فاضل کے امتحانات کا بھی انعقاد کیا گیا تھا ۔




عالم و فاضل امتحانات کے تعلق سے اکیڈمک کونسل کی دلیل کے بعد سابقہ حکومت کے ذریعہ رانچی یونیورسٹی کو عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد کے تعلق سے حکم دیا گیا تھا ۔ رانچی یونیورسٹی کے ذریعہ عالم و فاضل درجہ کے لئے سلیبس بھی تیار کیا گیا تھا ، لیکن بعد میں یونیورسٹی انتظامیہ نے مدرسوں پر ایسے شرائط تھوپ دئے کہ کوئی بھی منظور شدہ مدرسہ اس کی اہلیت نہیں رکھتا تھا ۔ یعنی جس مدرسہ کے نام پانچ ایکڑ زمین ہوگی ، اسی مدرسہ کے طلبہ عالم و فاضل درجہ کے امتحانات میں شامل ہو سکتے ہیں ۔

یونیورسٹی کی اس شرط پر ریاست کا ایک بھی مدرسہ کھرا نہیں اترا اور نتیجہ یہ ہوا کہ سابقہ حکومت نے عالم و فاضل امتحانات کے انعقاد کی ذمہ داری ہزاری باغ کے ونوبا بھاوے یونیورسٹی کو سونپ دی ، لیکن اس یونیورسٹی کے ذریعہ اب تک اس تعلق سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ ایسے حالات میں عالم و فاضل درجہ کے طلبہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور اپنے مستقبل کے تئیں فکر مند نظر آرہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 20, 2020 09:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading