உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدرسہ بورڈ اساتذہ کی تنخواہ کا معاملہ : ہائی کورٹ اندور بینچ نے جاری کیا مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس

    مدرسہ بورڈ اساتذہ کی تنخواہ کا معاملہ : ہائی کورٹ اندور بینچ نے جاری کیا مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس

    مدرسہ بورڈ اساتذہ کی تنخواہ کا معاملہ : ہائی کورٹ اندور بینچ نے جاری کیا مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس

    ہائی کورٹ اندور بینچ نے مدارس اساتذہ کو چار سال سے تنخواہ نہیں ملنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتے میں جواب مانگا ہے ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ اساتذہ کو چار سال سے تنخواہ نہیں ملنے کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ ہائی کورٹ اندور بینچ نے مدارس اساتذہ کو چار سال سے تنخواہ نہیں ملنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  چار ہفتے میں جواب مانگا ہے ۔ مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ کا قیام بائیس ستمبر 1998 کو دگ وجے سنگھ حکومت میں عمل میں آیا تھا ۔ بورڈ اپنے قیام سے ہی مختلف مسائل سے دور چار ہے ۔ بورڈ کے ملازمین جہاں آج بھی دو دہائیاں بیتنے کے بعد بھی فکس تنخواہ پر کا م کرنے کو مجبور ہیں ۔ وہیں بورڈ سے الحاق شدہ مدارس اساتذہ کو چار سال سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے تنخواہیں جاری نہیں کی ہیں ۔

    عام طور پر کسی بھی ملاز م کو ایک مہینے کی تنخواہ وقت پر نہ ملے تو اس کی زندگی کی کشتی ڈاواں ڈول ہوجاتی ہے ۔ مگر مدارس اساتذہ ایک دوسال نہیں بلکہ چار سال حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہیں ۔ پہلے مدارس اساتذہ کو مرکزی حکومت سے پوری تنخواہیں ادا کی جاتی تھیں ، مگر دوہزار قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے مدارس اساتذۃ کی تنخواہوں کا ساٹھ فیصد حصہ مرکزی حکومت اور چالیس فیصد حصہ صوبائی حکومت کے ذریعہ ادا کیاجا نا طے کیا گیا ۔ اس کے باوجود مدھیہ پردیش مدارس اساتذہ کے مسائل کی جانب کسی نے توجہ نہیں کی ۔ اس عرصہ میں مدھیہ پردیش میں کئی حکومتیں بدلیں اور مدارس اساتذہ نے سبھی پارٹیوں کی دہلیز پر دستک دی مگر کسی نے جب معاملہ کو حل نہیں کیا ، تو مدارس کے اساتذہ نے مجبور ہوکر ہائی کورٹ اندور بینچ سے رجوع کیا ۔ ہائی کورٹ اندور بینچ نے مدارس اساتذہ کی تنخواہوں کے معاملہ کو لیتے ہوئے نہ صرف حکومت کو پھٹکار لگائی ہے ، بلکہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ایم پی حکومت سے چار ہفتے میں جواب بھی مانگا ہے ۔

    مدھیہ پردیش آدھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے سرپرست اور مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ کے بانی چیئرمین پروفیسر حلیم خان کہتے ہیں کہ ہم نے گزشتہ چار سالوں میں مرکز سے لے کر صوبہ تک کتنے لوگوں کی دہلیز پر دستک دی ہے کہ اب ہمیں اس کی گنتی بھی یاد نہیں ہے ۔ پہلے شیوراج سنگھ حکومت کے چکر لگاتے رہے ، مگر معاملہ حل نہیں ہوا اور جب مدھیہ پردیش میں اقتدار کی منتقلی ہوتو ہم لوگوں نے کمل ناتھ حکومت کی دہلیز پر دستک دی ۔ وزیروں سے ملاقات کی مگر کسی نے بھی ہمارے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ مجبور ہوکر ہمیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا ۔ عدالت نے ہمارے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتے میں جواب مانگا ہے ۔ عدالت کی مداخلت سے ہمیں امید ہے کہ ان شا اللہ اب مدارس اساتذہ کو ان کی تنخواہیں بہت جلد مل جائیں گی ۔

    مدھیہ پردیش آدھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے صدر حافظ محمد جنید کہتے ہیں کہ ایک طرف حکومتیں مدارس کو مین اسٹریم سے جوڑنے کی بات کرتی ہیں اور جب مدارس جدید تعلیم سے وابستہ ہوکر تعلیم دینے کا کام کرتے ہیں تو انہیں چار چار سال تک تنخواہ سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ مدارس اساتذہ پر کیا گزررہی ہے یہ ہم اور ہمارا خدا جانتا ہے ۔ کورونا قہر میں بھی مصیبتوں کے پہاڑ ہم پر ٹوٹے ہیں اس کے باوجود ہم نے تعلیم کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا ہے ۔ حکومت کو خود سوچنا چاہئے کہ جو آپ کے منصوبہ سے وابستہ ہوکر تعلیم دینے کا کام کر رہے ہیں ، کیا ان کے ساتھ ایسا سلوک زیب دیتا ہے ۔

    مدرسہ دینات کے روح رواں صحیب قریشی کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش کے ایک ہزار چھ سو پچاسی مدارس کے اساتذہ جن کی تعداد پانچ ہزار تین سو نواسی ہے ، انہیں چار سال سے تنخواہیں نہیں ادا کی گئی ہے ۔ پہلے ہمیں مرکزی حکومت سے گرانٹ ملتی ہے مگر دوہزار اٹھارہ کی ترمیم کے بعد ساٹھ فیصد حصہ مرکزی حکومت اور چالیس فیصد حصہ صوبائی حکومت کے ذریعہ ادا کیا جانا طے کیا گیا ۔ دونوں حکومتیں ہمارے معاملہ کو لے کر ایک دوسرے پرالزم عائد کرتی رہتی ہے ۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ اگر مرکزی حکومت گرانٹ نہیں جاری کر رہی ہے ، تو صوبائی حکومت اپنے حصہ کا چالیس فیصد جو اس سے ہماری تنخواہیں جاری کردے ۔ مگر دونوں حکومتوں نے ہمارے معاملہ سے پوری طرح خاموشی اختیار کر لی ہے ۔ آدھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے بینر تلے ہم لوگوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور عدالت کے رخ سے ہمیں اطمینان ہی نہیں بلکہ پورا یقین ہے کہ اب مدارس اساتذہ کو تنخواہیں جلد مل ہی جائیں گی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: